میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 18 اکتوبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 41- جائزہ

عمر بن سعد بن ابی وقاص اس موقعہ پر اس سے بھی زیادہ بے بس ہو گئے تھے ۔ جیسے جنگ جمل کے موقعے پر حضرت علی ہوئے تھے کہ وہ قران دکھا دکھا کر دونوں فریقوں کو لڑائی سے روکتے رہے اور آپس میں اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنے سے منع کرتے رہے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا .ابو محنف اور اس قماش کے راویوں نے جس مبالغہ آرائی سے جنگ جمل کے حالات بیان کیے ہیں اس سے کہیں زیادہ مبالغہ آرائی واقعہ کربلا کے حالات بیان کرنے میں کی ہے واقعات سے ان کی ہر گز تصدیق نہیں ہوتی .
مسلمان مورخین میں سے دنیا کے پہلے مورخ جنہوں نے نقل در نقل کی روایت سے ہٹ کر عقل و دانش سے اس کا تجزیہ کیا وہ "ابن خلدون" تھے اور ان کے مشہور مقدمہ ابن خلدون کے وہ پانچ صفحے جو واقعہ کربلا پر تھے ایسے غائب ہوئے کہ آج 6 سو سال تقریبا گزر جانے پر بھی ان کا پتہ نہ چلا کہ کہاں گئے .اسی طرح اور بہت سی کتابوں کے صفحات دنیا کے مختف خطوں میں (اصل نسخوں کے) پھاڑے گئے اور ان تمام کا سہرا، شیعانِ علی کے سر ہے مگر سچ کو کہاں اور کتنی دیر تک چھپایا جا سکتا تھا-
ایک راوی نے کمال جرات سے ایک روایت ان پانچ صفحات سے بیان کی ہے جو پھاڑے گئے اور اب دنیا میں کہیں موجود نہیں وہ یہ ہے .
حسین اس لڑائی میں پر جوش نہیں تھے حیرانی سے پیچھے کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کہ ایک کوفی نے پیچھے سے ان کے کندھے پر تلوار سے زور دار وار کیا اور آپ گھوڑے سے گر پڑے۔
یعنی آپ کے اپنے ہی غدار کوفی ساتھی کے ہاتھوں آپ کا قتل ہونا بھی بیان ہوا ہے جیسے حضرت علی اپنے ہی ایک شیعہ  کے ہاتھوں زخمی ہو کر الله کو پیارے ہوئے-
سرکاری فوجوں کی تعداد تو افسانوں اور داستانوں سے بڑھ کر بیان کی گئی گئی ہے مثلا:
6 لاکھ سوار اور 2 کروڑ پیدل سپاہی سے لے کر 20 ہزار تک مختلف راویوں نے بیان کی ہے ۔
ابو محنف نے 80 ہزار اور ناسخ التواریخ(
مرزا محمد تقی سپہر کاشانی - 1207-1297 قمری سال)  نے 53 ہزار تعداد بیان کی ہے .( صفحہ 230 جلد 6 از کتاب دوئم) .
اور ان ہی مورخ (
ناسخ التواریخ) نے ابو محنف کا یہ قول نقل کیا ہے کہ
" ان 80 ہزار میں حجاز اور شام کا ایک بھی آدمی نہ تھا سب کے سب کوفی تھے " (صفحہ 231 ایضا)
اب آپ خود انداازاہ لگا سکتے ہیں کہ کوفیوں کی حمایت کسے حاصل تھی اور کون حسین کو مکہ سے لے کر آرہے تھے ؟

اور یہ صاحب تو کوفہ ہی کے رہائشی تھے ان کو اپنے وطن کی آبادی کا ٹھیک اندازہ تو ہونا ہی چاہئے تھا، مگر ان کو تو داستانیں بیان کرنی تھیں نہ کہ سچائی، اور اگر کوفہ کے تمام باشندوں کے علاوہ کوفہ کے تمام تلوار باز بھی اکٹھے ہو جاتے تب بھی اس علاقے میں اتنی فوج اکٹھی کرنی نا ممکن تھی ۔
اس زمانے میں تمام ایران اور خراسان کے علاقے کوفہ میں شامل نہیں تھے جیسے حضرت علی کے زمانے میں تھے ہجری 54 کے بعد خراسان ایک جدا گانہ صوبہ بن گیا تھا ۔ جس میں ہمدان اور درے کے علاقے شامل تھے اور یزید کے عہد میں ہی خراسان کے گورنروں کا تبادلہ اور تقرر کا از سر نو انتظام کیا گیا تھا۔
اگر بفرضِ محال ایران کا تمام علاقہ کوفہ کے تحت تسلیم بھی کر لیا جاۓ تب بھی عبید الله بن زیاد کے کوفہ آنے اور انتظام کی بھاگ ڈور سنبھالنے ( جن کی مدت 25 یا 30 دن سے زیادہ نہیں بنتی ) اتنی کثیر تعداد میں فوج مہیا کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔
کیوں کہ ایک لاکھ فوج کے لئے سامان رسد ، سواری ، دانہ چارہ ، اور جانوروں کا انتظام کوفہ یا کربلا جیسے بعید مقام پر مہیا کرنا عقل سے باہر ہے اور یہ سب کچھ انتظام اور اتنا لشکر آخر کس لئے اور کس کے مقابلے کے لئے تھے بمشکل ڈیڑھ سو آدمیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اور ان میں زیادہ تر افراد نو عمر تھے اور جنگ و جدل سے نا آشنا اور نا تجربہ کار تھے ۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔