میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 4 اکتوبر، 2016

میری ڈائری کا ایک ورک

 آج میں جہلم 11:45 پر بیوی اور اُن کی سہیلی کے ڈرائیور کے فرائض ادا کرتے ہوئے جہلم پہنچا ۔ کا رکی پچھلی سیٹ پر دونوں بیٹھی تھیں ، درسِ قرآن ، درس حدیث ، درسِ تاریخ ، درسِ بچگان پر سیر حاصل بحث سُنی ۔

1۔دونوں کو ایک دم درود والے " بابا جی" کے مرکز پر چھوڑا ۔

2- کمانڈر آرٹلری 23 ڈویژن ، بریگیڈئر فیصل سے ملاقات ہوئی ۔ ضرب الحدید کا ذکر چھڑا ۔ اصرار کے باوجود دوپہر کے کھانے سے معذرت کی ۔کیوں کہ بیگم کا معلوم نہ تھا کہ ساڑھے تین بجے باری آتی ہے یا مزید ٹائم لگے گا ۔ ٹی بریک کر کے بیٹھا تھا ، کہ ایک اور بریگیڈئر صاحب آئے ۔ تھوڑی دیر بعد اجازت لی ،

3- جہلم کینٹ کا چکر لگایا ،مئی 1981 سے ستمبر 1983 کی یادیں تازہ کیں ، بڑی بیٹی 7 ماہ کی تھی ، سی ایم ایچ کے ساتھ فلیٹ میں پہلی عارضی رہائش ملی تھی ،جہاں سے شنکیاری تین ماہ (اگست ، ستمبر اور اکتوبر)  کے لئے، کمپنی کمانڈر کورس پر جانا ہوا ، کورس سے واپسی پر، والدہ صاحبہ (اللہ جنت میں درجات بڑھائے ) لاہور میں ہونے والے جماعت اسلامی کے خواتین کے اجتماع کے بعد جہلم میرے پاس آئیں ،17 نومبر کو بڑے بیٹے ارسلان کی اِس دنیا میں آمد ہوئی، دسمبر میں مہینے کی چھٹی لے کر ، والدہ صاحبہ ، بیوی اور دو بچوں کے ساتھ میرپورخاص پہنچا،   چھٹی جانے سے پہلے معلوم ہو چکا تھا کہ ایجوکیشن کورس (  فروری ) کے لئے مری ایجو کیشن سکول جانا ہوگا ۔  لہذا بیگم اور بچوں کو چھوڑ کر واپسی ہوئی ۔
مارچ میں بیگم دونوں بچوں کے ساتھ واپس جہلم پہنچی۔ مئی 1982، میں چوراسی بازار کے ساتھ نئی بننے والی کالونی میں شفٹنگ ہوئی ۔
چک دولت سرکاری کام سے جاتے ہوئے پوسٹ گریجوئیٹ کالج کے گراونڈ میں ، نوجوان طلباء کو ، " چین سروے " کرتے ہوئے دیکھا ۔ گاڑی رکوائی اور اُن کے پاس چلا گیا جہاں جیوگرافی کے لیکچر مسعود صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ جو بعد میں دوستی میں تبدیل ہوگئی ۔

4- عرفان الحق کے مرکز پر واپس 2 بجے جاتے ہوئے کار کا رُخ ۔ کالج کی طرف موڑا ، جو ایک قلعہ نظر آتا تھا ، گیٹ پر سخت سکیورٹی کا انتظام تھا ۔ سیکیورٹی سٹاف سے تعارف کروایا ، مسعود صاحب کا پوچھا ، اُنہیں معلوم نہ تھا ۔ اندر کار لے جا کر دائیں طرف کھڑی کی ، سامنے وہی سر سبز گراونڈ تھا ، جس میں نوجوان کپتان 1983 میں سڑک کے کنارے جیپ روک کر داخل ہوا تھا ۔ مسعود صاحب تو ریٹائر ہو گئی ، موبائل نمبر ملا ، کال ملائی اور یوں ایک پرانے دوست سے رابطہ بحال ہوا ۔
اب کیا کیا جائے ، گو کہ میرا پروگرام مرکز پر جانے کا نہیں تھا ، لیکن چلا گیا ۔

5- ایک بڑا ھال جس کے دو حصے تھے ایک جانب مرد زمین پر تکئے بچھائے ، آڑھے ترچھے لیٹے تھے ۔ اور دیوار کے ساتھ صوفے پڑے ہوئے تھے میں صوفے پر بیٹھ گیا ، بیوی کو بتایا کہ میں اند بیٹھ گیا ہوں ۔
مرد و زن کی پارٹیشن کے پاس دو میزیں تھیں ، جن پر ایک باریش سیکریٹری بیٹھا تھا ، اُس کے پیچھے ایک وھائیٹ بورڈ تھا، جس پر نام لکھے تھے ، میں نے اُٹھ نام پڑھے کل 89 نام لکھے تھے ، بیوی کا نمبر 34 سہیلی کا نمبر 35 تھا ۔ ڈھائی بج چکے تھے ، پوچھا ،
" ملاقات شروع ہوچکی ہے ؟ "
" نہیں ، آپ بورڈ پر اپنا نام لکھ دیں " جواب ملا ۔
" میں بیگم کے ساتھ آیا ہوں ، میں نے نہیں دکھانا " جواب دیا
" نہ دکھائیں لیکن سلام تو کر لیں "
سیکریٹری بولا اتنے میں بیوی بھی اُٹھ کر آگئی تھی ۔
" ابھی تک بزرگ نہیں آئے ، یہ بتا رہے ہیں کہ تین بجے آئیں گے " میں نے معلومات دیں ۔
" اچھا " وہ حیرت سے بولی ،
" بھائی ، بابا جی ابھی تک نہیں آئے ؟"
سیکریٹری سے پوچھا ۔
" اچھا ، آپ بھی دکھا دیں " بیوی بولی ۔
" نہیں " میں نے مختصر جواب دیا ۔
" آپ نے نمبر لیا ہے "
سیکریٹری بولا " بھائی ، اِن کا نام بھی لکھ دیں ، یہ صرف ملاقات کریں گے " بیوی بولی
" کیا کرنا ملاقات کرکے لوگوں کا وقت ضائع ہوگا ۔ ایک تو موصوف 3 بجے آئیں گے ، تم تین گھنٹے سے انتظار کر رہی ہو ۔ تمھاری باری کب آئے گی ؟ معلوم ہے نا کہ میں رات کی ڈرائیونگ نہیں کروں گا ، یہاں ٹہرنا پڑے گا ۔ " میں نے معلومات دیں ۔
" بابا جی ہر مریض کو ایک سے دومنٹ دیتے ہیں "
سیکریٹری بولا
" اچھا ، چلو میں بیٹھتا ہوں جب تمھارا ، باری آجائے تو بتانا " میں نے بیوی کو کہا ،
اور لوگوں پر سے پھلانگتا صوفے کی طرف پڑھا ، ایک شکل سے بے زار شخص صوفوں کی طرف پاؤں پھیلائے لیٹا تھا اور اُس کے دوسرے ساتھی نے خالی صوفے پر پیر رکھے تھے ۔ شاید درد زہ کو کم کرنے کے لئے ۔
" پیر ہٹائیں میں نے بیٹھنا ہے " میں نے درخواست کی ، خشمگیں نظروں سے دیکھتے ہوئے اُس نے پیر سمیٹ کر اتار
لئے ، میں بیٹھا تو اب اُس کے گھٹنے میرے سامنے تھے ۔
خیر " سائیکلاجیکل مریضوں " کے اِس ہسپتال میں انتظار کی گھڑیاں بتاتے ہوئے ، وٹس ایپ پر ، پیغامات ادھر سے ادھر کرنے لگا ، 4 بجے بیوی کی باری آئی ،

" آپ کی بیگم کہہ رہی ہیں کہ آپ مردوں کے دروازے سے اندر آجائیں " ۔ سیکریٹری کے نائب نے کہا
میں اندر داخل ہوا ،
" سلامُٗ علیکم ، بیوی دائیں صوفے پر بیٹھی تھی، میں نے ھاتھ بڑھایا ، غرورانہ اور تحقیرانہ انداز میں ھاتھ آگے بڑھا ، میں ھاتھ ملا کر سامنے بیٹھ گیا ۔ اور بزرگ پر نگاہ جما دی ۔ بزرگ نے سیکریٹری کے نائب سے کچھ باتیں کیں ،
غالباً میرے نظر جمانے سے وہ کچھ بے چین ہوئے ، پوچھا ،
" یہ کون ہیں ؟ اِن کا نمبر ہے "
" میرے شوہر ہیں ، بس سلام کے لئے آئے ہیں " بیوی بولی
" بابا جی جو آپ نے دعائیں بتائی ہیں میں پڑھ رہی ہوں ، مزید کوئی دعا اگر بتائیں "
بیوی کی معلومات دینے پر بس یہ کہا ،
" آپ کو جو دعا بتائی ہے وہ پڑھتی رہیں ، ہم بھی پڑھیں گے "
اور بس 45 سیکنڈ کی یہ ملاقات ختم ہوئی ۔ میں
سلامُٗ علیکم ، کہہ کر مردوں کے دروازے سے باہر نکلا اور کار میں بیٹھ گیا ۔ بیوی اور اُس کی سہیلی ، آکر بیٹھ گئیں اور 4 بج کر 5 منٹ پر واپسی کا سفر شروع ہوا ۔
" آپ نے بابا جی کو کیسا پایا ؟ " بیوی نے سہیلی کے سامنے پوچھا ۔
" ریجیکٹڈ " میں نے مختصر سا جواب دیا ۔
" مجھے حیرانگی ہے ، کہ القرآن کو پڑھنے والے، در در پر اپنے نفس کے علاج کے لئے کیوں مارے مارے پھرتے ہیں "





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔