میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

سپورٹ

 اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔مغرب کی اذان ہورہی تھی

 اذان
دینے والے کی آواز بہت دلنشین تھی نہ چاہتے ہو ئے بھی میرے قدم مسجد کی جانب بڑھنے لگے
مسجد میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا مسجد  جمعہ کی نماز کا منظر پیش کررہی تھی ۔۔۔۔۔
نماز ادا کی تو امام صاحب کی قراءت نے سماں باندھ دیا  خود میں بھی رو دیا ۔
کچھ ہی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا امام صاحب کو میں اپنی مسجد میں لے کر جاؤں گا  کیونکہ جب امام اچھا ہو ، اس کی قراءت بھی اچھی ہوتو مسجدیں آباد ہوتی ہیں
نماز کے بعد امام صاحب سے مصافحہ کیا نمبر لیا، اسی دوران میری ملاقات مسجد کے صدر  فہیم صاحب سے ہوئی میری پرانی شناسائی تھی  میں نے اپنے ارادے سے انہیں آگاہ کیا تو وہ مسکرا دئیے
کہنے لگے، "  آپ امام صاحب سے بات کر لیجیے "
مجھے کچھ حیرت ہوئی انہوں نے میری بات  پر کسی قسم کا  ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔
میں نے  وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسی وقت امام صاحب کے پاس پہنچ گیا اور ان سے اپنے مقصد کی بات کی کہ میری بات سُن کر وہ  بھی مسکرا دئیے
میں ابھی تک اس مسکرانے کی وجہ نہیں جان پا رہا تھا
میں نے  امام صاحب سے کہا ،
" امام صاحب ! ہم آپ کو یہاں سے اچھی تنخواہ دیں گےیہاں سے بہتر سہولیات فراہم کریں گے ۔"
آپ کو معلوم ہے یہاں میری تنخواہ کیا ہے اور سہولیات کیا میسر ہیں ؟  امام صاحب نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا
معلوم تو نہیں لیکن یہاں سے بہتر ہو گی
اچھا ! امام صاحب نے کہا
" میری تنخواہ اس وقت یہاں 35 ہزار روپے ہے  اور مسجد انتظامیہ نے مجھے جورہائش دی ہوئی ہے وہ شاندار لگژری اپارٹمنٹ ہے ۔"
امام صاحب نے مسجد سے متصل اپنے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
بالکونی سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ گھر کس قدر شاندار ہو گا
میں حیران رہ گیا ، امام صاحب بھی مسکرا دئیے
واپس جاتے ہوئے  میں مسجد کے صدر فہیم صاحب سے ملا اور ان سے پوچھا،
"کیا آپ امام صاحب کو 35 ہزار تنخواہ دیتے ہیں ؟"
فہیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
" جی بالکل ہم امام صاحب کو ۳۵ ہزار تنخواہ دیتے ہیں ۔"
" اتنی زیادہ تنخواہ جب کہ امام کی تو 7 ہزار کی حد ہے 10 ہزار روپے میں بہت اچھا ملا جاتا ہے  پھر اتنی بھاری تنخواہ اور اتنی شاندار رہائش؟
آپ عادتیں بگاڑ رہے ہیں ان مولویوں  کی" ۔میں نے کچھ زچ ہوتے ہوئے کہا
فہیم صاحب اب باقاعدہ ہنس دئیے ۔۔۔۔۔۔
" یعنی انگور کھٹے ہیں
فاروقی صاحب ! یہ اس لیے کہ آپ   جیسی انتظامیہ کے لوگ انہیں اپنی مساجد میں نہ لے  جا سکیں ۔"
ایک لمحے کے لیے تو میں جھینپ گیا  ۔
" فاروقی صاحب ! امام جتنا زیادہ اچھا ہو گا مسجد اتنی آباد رہے گی ۔۔۔۔جتنا قابل خطیب ہو گا علاقے کے لوگ اتنے زیادہ  با شعور ہوں گے ۔۔۔۔
ہم اپنے با صلاحیت لوگوں کو سپورٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔
بلکہ استیصال کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔
ہم ایک مووی میکر ، فلم میکر ،  ڈیزائنر کو تو اچھا معاوضہ دینے کو تیا رہیں لیکن ایک مذہبی رائیٹر سے فی سبیل اللہ کام کرانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ایک  ٹھیکدار کو تو مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لیے لاکھوں دینے کو تیار ہیں لیکن قوم کی  تعمیر کرنے والے امام ،معلم کو  7 ہزار دیتے ہوئے دل دکھتا ہے ۔۔۔۔۔
دنیا بھر میں پروفیشنل لوگوں کی قدر کی جاتی ہے ۔۔۔۔
ہم اپنے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ۔
کیا ایک امام کی ضروریات ایک مزدور سے بھی کم ہے ؟
مزدور کی ماہانہ انکم بھی  24 ہزار ہوتی ہے  آج کے دور میں اور اور ایک مستری  آج  بھی 40 سے 50 ہزار ماہانہ کماتا ہے
کیا ایک امام ، یا مدرسے کا استاد اچھے گھر کی خواہش نہیں کر سکتا ؟
آپ کی مسجد کی ماہانہ آمدنی 70ہزار روپے ہےایک امام خطیب اچھا رکھ لیں چندہ ڈبل ہو جائے گا کیا آپ کو امام و خطیب کی تنخواہ نکالنے میں کوئی دقت ہو گی ؟
نہیں نا ! لیکن نا جانے ہم خود تو جہاں نوکریا ں کرتے ہیں  وہاں سے ستر ہزار سے زائد تنخواہ لیتے ہیں لیکن امام کو اور مدرسے کے استاد کو 7 ہزار تنخواہ میں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔
فاروقی صاحب ! آپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہیں  خود بتائیے آپ کے یہاں فن کے ماہرین کیسے قدر کی جاتی ہے ان کو کیسے سپورٹ کیا جاتا ہے۔
او ر سنیے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو   اسلام کے منافی پروپیگنڈہ کرنے کے عوض کروڑوں ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اور اس فنڈ کے لیے وہ دنیا بھر میں میوزک کنسرٹ کرتے ہیں اور اس کے جو  پیسے آتے ہیں وہ  ان اسلامی ممالک  میں موجود این جی اوز کو دے دئیے جاتے ہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان این جی اوز کو  مرنے نہیں دیتے بلکہ زندہ رکھتے ہیں ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم  اپنے با صلاحیت لوگوں کو جینے نہیں دیتے
آپ اپنی مسجد کے لیے ایک اچھے خطیب اور امام کو تلاش کیجیے یقین جانیے آپ اتنااچھا پیکج دیں گے تو امام صاحب آپ کے پاس سے کہیں نہیں جائیں گے اپنے اہل علم اور با صلاحیت لوگوں کی قدر کیجیے انہیں ضائع مت کیجیے ۔"

فہیم صا حب کی بات میں وزن تھا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔