میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 6 اکتوبر، 2016

صاف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

صاحب مضمون اُردو دان نہیں ، اُن کے الفاظ پنجابی کی سیڑھیوں کی بلندی پر چڑھنے کا تکلّف نہیں کرتے،  بلکہ ہر پائیدان پر ، اردو کا پیرا شوٹ پہن کر، چھلانگیں لگاتے، قرطاس ابیض پر پُھدکّتے ، قلابازیاں کھاتے اور پڑھنے والے کے ہُونٹوں پر مُسکراہٹیں بکھیرتے، ایک ترتیب میں بیٹھتے جاتے ہیں اور آخری جملہ سب سے بلندی سے ضوفشاں بن کرمتحّیر کرنے کے بعد نقشِ سلیٹ بن جاتا ہے ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فیس بُک مجھے اُس وقت کی یاد دلاتی ہے جب جی ٹی روڈ پر دو طرفہ ٹریفک ہوتی تھی، اُسی پہ جانا اُسی پہ آنا ہو تا تھا۔ جس پر ہر قسم کی بے ہنگم ٹریفک ہوتی تھی اور آزادانہ گھومتی تھی۔ کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کب کوئی مجھ جیسا معمر چھکڑا کسی بوڑھی بس سے ٹکرا جائے یا کوئی نئی نویلی کرولا اس چھکڑے سے ٹکرا جائے۔ کچھ یہی عالم فیس بُک کا ہے۔ آپ یقین کریں اس پہ بھی کافی حادثے ہوتے ہیں۔ جاننے والے عزیزواقارب کے علاوہ عجیب و غریب لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے جو غریب تھوڑے اور عجیب زیادہ ہوتے ہیں۔ اور یہ ملاقات کبھی تو بہت ہی مختصر ہوتی ہے جو چند دنوں پر محیط ہوتی ہے اور کبھی کبھار پائدار دوستی میں بھی بدل جاتی ہے۔

میرے لئے وہ حادثہ باعثِ تشویش ہوتا ہے جب کوئی پچیس تیس سال کی دوشیزہ آپ کو Hi Babe کہہ کہ مخاطب کرے تو نحیف و نزار جسم میں ایک جھُر جُھری سی پیدا ہوجاتی ہے، فشارِ خون بلند ہو جاتا ہے لیکن ساتھ ہی پژمُردنی سی چھا جاتی ہے کہ خاک کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے۔ لیکن پھر کہیں سے کوئی امید کی کرن پھوٹتی نظر آتی ہے کہ:-
ہاتھوں میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے


ایک سہانی اور مبارک صبح میں فیس بُک پہ کام کر رہا تھا کہ اچانک ایک دوستی کی درخواست آئی۔
نام کچھ نِسوانی سا لگا
جیسے کوئی پرستان کی پری ہو،
جنت کی حُور ہو،
کوئی ستاروں کی سلطنت کی رانی یا
کوئی دیو مالائی کہانی کی شہزادی۔
مردوں کی درخواست ہو تو میں اُن کا پروفائل تفصیل سے چیک کرتا ہوں اور پھر خوب چھان پھٹک کر کے منظور یا نا منظور کرتا ہوں لیکن صِنفِ نازک کو اس محدّب عدسہ سے نہیں گزرنا پڑتا اور یوں چیکنگ سے اِنہیں استثنا حاصل ہے۔
یہ قانون میں نے اپنی مرضی کے مطابق بنایا ہے بھلا کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
میں نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد درخواست قبول کر ہی لی۔ ٹَھک میسج آیا،
"شکریہ۔ ویسے آپ کا نام غلطی سے پریس ہو گیا تھا۔ لیکن پھر میں نے آپ کا پروفائل دیکھا تو اچھا لگا۔امید ہے گزارہ ہو جائے گا۔"
میں نے کہا جی زہے نصیب آپ نے مجھ ناچیز کو اپنی گراں قدر دوستی کے قابل سمجھا جو میرے لئے یقیناً باعثِ عزّت و افتخار ہے۔

بہر حال اس حادثے کے بعد ہماری گپ شپ (chatting) شروع ہو گئی۔
کچھ دنوں بعد میں نے نوٹ کیا کہ اُس نے اپنا نام بدل لیا ہے اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا جیسے جاسوس اپنی گاڑی کی چار پانچ نمبر پلیٹیں رکھتے ہیں اور وقتاًُُ فوقتاً بدلتے رہتے ہیں۔ مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ اُس محترمہ کا اصل نام کیا ہے اور یہ معاملہ بھی مشکوک ہے کہ آیا وہ محترمہ ہیں بھی کہ نہیں؟

یہی صورتِ حال کُچھ اُن کی پروفائل پکچر(DP) کی تھی۔ کبھی مرمریں ہاتھ اور اِس میں کنگن، اُنگشتریاں اور ناخنوں پہ انتہائی دلکش نقش و نگار، کبھی صرف جھیل کی مانند گہری اور سُرمئی آنکھیں جن میں خوامخواہ ڈوبنے کو دل چاہے، کبھی چہرے کو ڈھانپتی ہوئی گھنیری زُلفیں جن کے سائے میں زندگی بسر کرنے کی خواہش تڑپے اور کبھی حِنا لگے پاؤں میں چھنکتی پائل۔
بس جسم کے مختلف اجزا باری باری ظہور پزیر ہوتے رہے۔ یہ پتہ بھی نہیں چلا کہ یہ اجزا ایک ہی جسم کے ہیں یا مختلف اجسام سے مستعار لئے ہوئے ہیں اور ان میں باہمی تناسب کیا ہے؟
باقی آپ کی چشمِ تصوّر پہ منحصر ہے کہ وہ کیسا خاکہ تیار کرتی ہے۔ کچھ نہ بن پڑے تو پولیس کے ماہر خاکہ سازوں کی خدمات حاصل کر لیں۔ بہر حال ان سب جھمیلوں سے بچنے کیلئے ایک دن میں نے ہمت کر ہی لی اور درخواست کی کہ محترمہ اگر طبعِ نازک پہ گراں نہ گزرے تو اپنی ایک عدد تصویر مرحَمت فرمائیں تاکہ مجھے پتہ تو چلے کہ میں کِس ہستی سے محوِ گفتگُو ہوں؟
جواب جو آیا اُس نے تمام امیدوں پہ، اگر کوئی تھیں، پانی پھیر دیا۔
"سوری، میں پردہ کرتی ہوں۔"
میں نے از راہِ مروّت عرض کیا کہ ٹھیک ہے کوئی بات نہیں۔ میں آپکی پردہ داری کا احترام کرتا ہوں۔ مرتا اور کیا کہتا؟

بس یونہی سلسلہ چلتا رہا۔حُسنِ اتفاق سے محترمہ کافی تعلیم یافتہ نکلیں اور مختلف موضوعات پہ سیر حاصل گفتگُو کرتی تھیں۔ نتیجتاً جواب ٹائپ کر کر کے میری تو بیخ نکل گئی، انگلیاں تھک جاتیں اور درد کرنے لگتیں۔ ایک دن دل کڑا کر کے میں نے مشورہ دیا کہ اتنی طویل گفتگُو کرنی ہو تو بہتر نہیں کہ آپ فون پہ بات کر لیا کریں۔Messenger, WhatsApp اور Skype وغیرہ ہیں۔ بالا نشیں اور خرچہ بھی کوئی نہیں۔ جواب آیا:-
"میں نا محرم مردوں سے بات نہیں کرتی۔"

ایک کے بعد دوسری ہزیمت کے بعد مجھے سلسلہ منقطع کر دینا چاہئے تھا لیکن بزرگوں کی نصیحت پہ عمل کیا کہ
آنے والوں کیلئے دروازہ کھُلا رکھو اور جو چھوڑ کر چلیں جائیں اُن کا تعاقب نہ کرو
کے مصداق میں نے بھی دروازہ کھلا ہی رکھا۔ یوں ہماری گپ شپ کا سلسلہ چلتا رہا۔ جب اُسے کوئی مسئلہ در پیش ہوتا تو مجھ سے مشورہ کرتی، مجھے دُعا کیلئے کہتی یا یونہی دل پریشان ہوتا تو بات کر لیتی اور اگر کبھی رونے کو دل چاہا تو میں اپنا کندھا پیش کر دیتا۔
بس ایک عزت و احترام کا تعلق تھا جو جاری رہا۔ ایک دن باتوں باتوں میں میں نے پوچھ ہی لیا کہ بی بی میرے ذہن میں ایک گنجلک ہے، میری یہ تذبذب اور پریشانی تو دور کر دیں۔ بڑی فراخدلی سے کہنے لگیں، بولیں۔
"سوری، میں پردہ کرتی ہوں۔" میں نے کہا کہ آپ تصویر دیتی نہیں، فون پہ بات بھی نہیں کرتیں مگر ویسے پہروں مجھ سے گپ شپ کرتی ہیں۔ یہ کھُلا تضاد نہیں؟ اس کا کیا منطق ہے؟
نہائت بے اعتنائی سے فرمانے لگیں،
"اسلامی نظریاتی کونسل کے مولانا شیرانی نے ابھی تک اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔"

لو کر لو گَل؟ بہر حال یہ شرعی دوستی جاری ہے۔

لیکن سوچتا ہوں دَھن حوصلہ، جرات اور خود اعتمادی ہے میری اُن بہنوں اور بیٹیوں کا جو اپنا اصلی نام استعمال کرتی ہیں اور اگر تصویر لگاتی ہیں تو وہ بھی اپنی ہی لگاتی ہیں۔ میری نگاہوں میں ایسی خواتین کی عزّت و توقیر بہت بلند ہو گئی ہے۔ (افسانہ)


 (بریگیڈئر محمد ارشد طارق ۔ ریٹائرڈ )

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
 دیگر مضامین ۔

٭ ۔  اپنا سامان مختصر رکھئیے

٭ ۔ کورس میٹس (Coursemates)

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔