میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, اکتوبر 7, 2016

بچوں کی حفاظت کیسے کریں؟

شش و پنج کی کیفیت ہے، لکھوں یا نہیں. اضطراب لکھنے پر اکساتا ہے. احتیاط ٹھہرنے کا مشورہ دیتی ہے. قلب و ذہن میں جاری کشمکش کو کیا نام دوں؟
کسی کے کردار پر بات کرنے سے کیا حاصل؟
تہمت و بہتان کی مرتکب ہونا نہیں چاہتی، ہاں کسی کو تہمت سے بچانا ضرور چاہتی ہوں.
کسی کی زندگی میں زبردستی در آنے والی تلخیوں سے محتاط ضرور رہنے کا مشورہ دینا چاہتی ہوں.

آج کے دور میں تعلیم ہر انسان کے لیے ازبس ضروری ہے. دینی و دنیاوی ہر دو طرح کی تعلیم. بدلتے دور نے جس طرح بچوں کی تربیت کے انداز بدلے ہیں، اسی طرح ان بچوں کی حفاظت کے آداب بھی نئے سرے سے طے کر دیے ہیں. اب بحیثیت والدین آپ کے پاس دو آپشنز ہیں.
بچے کی حفاظت کے لیے اسے گھر میں قید کر لیجیے، اور تعلیم و تربیت اور دنیاداری سے مکمل بےبہرہ رکھیے، اس صورت میں یقینی طور پر ”غلام فرشتے“ یا ”ذہنی معذور“ اور ”دولے شاہ کے چوہے“ پیدا ہوں گے.
یا
اپنے بچے کو نئے دور کے تمام تر خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر کے میدان عمل میں اتارا جائے.
آپ کی چند احتیاطی تدابیر معاشرے میں گھومتے انسان نما بھیڑیوں سے آپ کے بچے کو مامون رکھ سکتی ہیں.

اسکول کا انتخاب
اپنے گھر کے قریبی اسکول کا انتخاب کیجیے جہاں روزانہ کی بنیاد پر آپ خود بچے کو پک اینڈ ڈراپ کر سکیں. پبلک ٹرانسپورٹ، ویگن ، بس، ٹیکسی یا ڈرائیور ہائر کرنے سے جان چھڑائیں.
اسکول کے انتخاب کے لیے نہ صرف بورڈ کے امتحانات میں اسکول کا رزلٹ دیکھیں بلکہ اس کے ساتھ اسکول کی ریپوٹیشن پر بھی دھیان دیں. مار کٹائی، بچوں کے ساتھ اساتذہ اور انتظامیہ کا سلوک، اسکول کے پرانے طالب علم آج کی دنیا میں کن عہدوں پر کام کر رہے ہیں. اسکول میں فزیکل ٹریننگ کے لیے باغات اور گیمز کا انتظام کیسا ہے؟
اساتذہ یا انتظامیہ میں اگر آپ کا کوئی تعلق دار ہو تو اسے اسکول میں بچے کا خیال رکھنے کا کہیں.
ہر ماہ اپنے بچے کی پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں ضرور شریک ہوں. بچے کے کلاس ٹیچر سے رابطے میں رہیں.
اپنے بچے کا اسکول اور ہوم ورک خود چیک کریں.

بچوں کے دوست.
بچوں کے دوستوں سے دوستی کیجیے.
فیس بک اور سوشل میڈیا پر بھی اپنے بچوں کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل رکھیے اور ان کے نیٹ فرینڈز کو بھی چیک کرتے رہیے.
جس دوست کے حوالے سے ذہن میں ہلکی سی لال بتی بھی جلے، اس کو اچھی طرح کھنگال لیجیے اور اگر دل مطمئن نہ ہو تو دوستی ہی دوستی میں اپنے بچے کو اس مشکوک دوست سے دور کر دیجیے.
بچوں کی دوستی کو ان کے ہم عمر دوستوں تک محدود کیجیے. بڑی عمر کے دوست، اساتذہ، کزنز، محلےدار، گیمز، اکیڈمی فیلوز سے محتاط رہیے.

سوشل نیٹ ورکنگ کے ضوابط
بچے کو نیٹ کا واضح اصول بتا دیجیے کہ
بیٹا/بیٹی آپ کا پاسورڈ ہر صورت میں میرے علم میں رہنا چاہیے.
نیٹ /موبائل کے غلط استعمال پر بطور سبق/سزا/وارننگ کچھ عرصے کے لیے فون/ٹیبلٹ ضبط کر لیجیے.
سنٹرل وائی فائی پر چائلڈ لاک لگائیے.
بچے کی پسندیدہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو اپنے موبائل/ٹیبلٹ پر سنک کر لیجیے یعنی بچہ اپنی ٹیبلٹ پر جو کچھ کرے اسے آپ اپنے سیل پر دیکھ سکیں.

دینی تعلیم
بچے مثال سے سیکھتے ہیں اور سب سے پہلی مثال آپ ہیں.
اپنے ساتھ نماز اور تلاوت قرآن کی عادت بنوائیے
رات کی کہانی/لوری میں اسلامی واقعات اور دنیا کے متفرق عظیم ہیروز کی داستانیں سنائیے مثلا صحابہ کرام، صحابیات، مسلم فاتحین، سائنسدان، اس سے بچہ نہ صرف تاریخ سے واقف ہوگا بلکہ اپنے لیے ایک عمدہ آئیڈیل بھی تراشے گا.
اگر آپ خود ان واقعات سے واقف نہیں تو متعلقہ کتب کا انتظام کیجیے یا کسی مستند ویب سائٹ سے فری ڈاؤن لوڈ کیجیے.
قرآن کی تعلیم کے لیے گھر پر انتظام کیجیے تاکہ اپنی نگرانی میں بچے کو تعلیم دلوائی جا سکے. اب تو آن لائن ٹیچنگ کی سہولت بھی موجود ہے. بس تعلیم بچہ جس بھی ذریعے سے حاصل کر رہا ہے، آپ ساتھ موجود رہیے.
بچوں کو مناسب انداز میں سمجھا دیجیے کہ استاد/قاری صاحب سے کتنا فاصلہ رکھ کر بیٹھنا ہے.
بچے کو علم ہونا چاہیے کہ استاد اسے کہاں ٹچ کر سکتا ہے (مثلا سر یا کاپی کتاب پر) اور کہاں نہیں ( باقی جسم)

بچے کو سمجھائیے
اسکول میں یا معاشرے میں کسی کے ساتھ ویران یا تنہا جگہ پر مت جائے. بےشک وہ دوسرا استاد ہو یا دوست.
پرانی اور مجرب نصیحت. اجنبی سے بات مت کرے اور کسی سے کوئی چیز لے کر مت کھائے.
بچے کے رازدار دوست بنیے جس سے وہ بلاجھجھک اپنے دل کی ہر بات کہہ سکے تاکہ وہ والدین سے راز چھپانے کی قیمت پر کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو.
تمام دن رات کے لیے بچوں کو کسی اسکول یا مدرسہ کے حوالے مت کیجیے. کم از کم جب تک بچہ ناسمجھ ہو. ورنہ وہ جو تعلیم اور تربیت حاصل کرے گا، وہ والدین کے وہم و گمان سے بھی زیادہ میچور اور خطرناک ہو سکتی ہے

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔