میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 9 اکتوبر، 2016

پانچواں احمق

اکبر بادشاہ کو اپنے نو رتنوں کو تنگ کرنے کa شوق تھا وہ اُن سے مشکل بجھارتیں حل کرواتا، چنانچہ ایک دن اکبر بادشاہ نے بیربل کو کہا کہ اس کی مملکت میں سے پانچ احمق ترین لوگوں کو ایک مہینے میں تلاش کرکے اس کے حضور پیش کیا جائے۔

ایک مہینے کی جدوجہد کے بعد بیربل نے صرف دو احمقوں کو پیش کیا۔

اکبر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تو پانچ احمقوں کو پیش کرنے کا کہا تھا۔

بیربل نے کہا کہ مہاراج، مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

بیربل نے پہلا احمق پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا احمق اسلیے ہےکہ بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود اس نے سامان اپنے سر اٹھایا ہوا تھا۔

دوسرے احمق کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے گھر کی چھت پر بیج پڑے تهے، ان بیجوں کی وجہ چهت پر گھاس اگ آئی، یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بیل چھت پر چڑھ کر گھاس چر لے۔

بیربل نے کہا مہاراج، بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تهے، مگر میں نے ایک مہینے ضائع کیا اور صرف دو احمق تلاش کئے ، اسلئے تیسرا احمق وہ خود ہے۔

بیربل نے ذرا سا توقف کیا، تو اکبر چلایا کہ چھوتا احمق کون ہے۔

بیربل نے عرض کیا کہ مہاراج، جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔

اس نے کہا کہ مہاراج، آپ بادشاہ وقت ہیں اور تمام رعایا اور سلطنت کے امور چلانے کے ذمہ دار ہیں۔ مگر قابل ترین اور اہل افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا بلکہ ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا، لہٰذا چوتھے احمق آپ ہیں۔

مہاراج، پانچواں احمق یہ شخص ھے. جو کہ whatsapp سے چمٹا ہوا ہے، یہ داستان پڑھ رہا ہے اور اپنے دفتری فرائض اور خاندانی امور سے لاپرواہی برت رہا ہے اور اپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں کر رہا ہے ۔ 

اکبر نے فوراً حکم دیا کہ اس کو جلد از جلد شیر کرو .کیونکہ بہت سارے احمق ترین لوگ ایسی پوسٹوں کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔