میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 10 نومبر، 2016

اقبالی لبر ازم تاریخ کا روشن پہلو !

یاسر پیرزادہ کی لکھی ہوئی لبرلز کی خوبیوں میں لبرلز میں ایک خوبی اور ہوتی ہے ، جو باعثِ شرم یہ نوجوان کالم نگار چھپا گیا ۔
https://jang.com.pk/print/211540-yasir-pirzada-column-2016-11-09-allama-iqbal-ki-royalty
وہ خوبی یہ کہ ادب و آداب سیکھنے کے لئے ، نوابینِ  لکھنئو کے جانشینوں کی طرح سینئیر لبرلز اپنے جونئیر کو بالا خانے ضرور بھیجا کرتے تھے ۔
بالا خانہ کیا ہوتا ہے ، امیتابھ کی فلم " شرابی" میں اِس کا مکمل تعارف کروایا گیا ہے ۔ جہاں کی رونقیں موسیقی ، پان ، شراب و شباب کی مرہونِ منت ہوتی ہیں ۔

چنانچہ سیالکوٹ کا یہ اقبال بھی بادشاہی مسجد لاہور کے پہلو میں واقع ، بالاخاناؤں میں سے ایک بالا خانے ، میں   ادب و آدابِ سیکھنے کے لئے جایا کرتا تھا ، وہاں اُس کی شاعری ،   طبلہ و شراب میں ڈوب کر اک  نئی دنیا کی سیر کراتی ۔ اور شباب کے نظارے کرواتی ۔ شباب کا مفصّل تعارف شعر ترنم و لے میں پڑھنے والی توبہ شکن، شباب کی ملکہ  نے کروا دیا ، کہتے ہیں کہ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں اور شاعر کے پاس دام کہاں ۔
ایک حد تک عشق سر چڑھ کر بولتا ہے ، پھر پیسہ عشق کو پتلی گلی سے نہیں بلکہ بالاخانے کی پہلی منزل سے سامنے مین سڑک پر دھکیل دیتا ہے ۔
یہاں بھی یہی ٹریجڈی ، سیالکوٹ کے اقبال کے ساتھ ہوئی ، چنانچہ انجام آخر ، شراب کی مستی میں اقبال نے اپنا طپنچہ نکلا اور انجام کار باعثِ نزع شباب کو عالمِ شتاب پہنچا دیا ۔
لبرلز کو معلوم ہوا ، تو معاملہ رفع دفع کروانے کی کوشش کی مگر زبانِ زدِ ہر خاص و عام ہوگیا ،
لیکن کیوں کہ سیالکوٹ کا یہ اقبال،  صاحب کا خاص مصاحب تھا ۔
 

لہذا ، کوتوال نے رپٹ ہی تبدیل کردی ، مگر دائیں بازو کے اخبارنویس اور قصہ خوان کہاں باز آتے ۔ اخبارات میں درج ہوگیا
سنا ہے کہ اب اقبال کا پوتا ، لبرلز کی چاکری میں ہے ،
ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔