میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 13 نومبر، 2016

⁠⁠⁠⁠⁠فوج کے چوہدری

ہمارے ایک یونٹ افسر بال گرنے کی وجہ سے بہت پریشان رہا کرتے تھے۔ اس مرض سے چھٹکارا پانے کے لئے انہوں نے انواع و اقسام کے تیل استعمال کئے۔ دو ایک مرتبہ ٹنڈ بھی کروا دیکھی لیکن معاملہ جوں کا توں ہی رہا۔ 
آخر کسی دوست نے مشورہ دیا کہ راولپنڈی سی ایم ایچ میں ایک سکن سپیشلسٹ بریگیڈئیر ڈاکٹر تعینات ہیں ، اگر ان کو دکھایا جائے تو ضرور کچھ افاقہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فوراً بریگیڈئیر صاحب سے ملاقات کا وقت طے کیا اور بس پکڑ کر لاہور سے راولپنڈی روانہ ہو گئے۔ وقت مقررہ پر سی ایم ایچ پہنچے اور ڈاکٹر صاحب کے حضور پیش ہو کر اپنی بیماری کی تفصیلات بیان کیں ۔ سب کچھ سن کر بریگیڈئیر صاحب نے سر پر ہاتھ پھیرا اور وگ اتار کر میز پر رکھ دی ۔ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ ہمارے یونٹ افسر نے سلیوٹ کیا اور واپس ہولئے۔ 
اس کے بعد انہوں نے کسی قسم کے علاج کا تردّدنہیں کیا۔ بہت عرصے کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ ہمارے حساب سے تو اب تک انہیں الف گنجا ہوجانا چاہئے تھا لیکن ان کے سر پر کافی بال دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے حیران ہو کر اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بال گرنے کی اصل وجہ ٹینشن لینا تھی۔ میں نے جس دن سے ٹینشن لینا چھوڑ ی ہے میرے بال گرنا رک گئے ہیں۔

ہم نے زیادہ تر لوگوں کے بال کمانڈ کے دوران گرتے اور سفید ہوتے دیکھے۔ اچھا بھلا سمارٹ میجر جیسے ہی لیفٹیننٹ کرنل پروموٹ ہو کرخوشی خوشی یونٹ کی کمانڈ سنبھالتا ہے اس پر پریشانیوں کا کوہ ہمالیہ ٹوٹ پڑتا ہے۔ دو سال کی کمانڈ کے اختتام پر یہ نوبت آ جاتی ہے کہ سر میں سیاہ بال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ صبح کا آغاز بڑے شاندار انداز میں صوبیدار میجر صاحب کی رپورٹ سے ہوتا ہے۔ ’’سر سب خیر خیریت ہے !بس رات ایک سپاہی یونٹ سے بھاگ گیا تھا، ہم نے اس کی تلاش میں بندے روانہ کئے ہوئے ہیں۔ ایک گاڑی کا کینٹ کے مین چوک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ گاڑی مرمت کے لئے ورکشاپ روانہ کر دی ہے۔ لنگر پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ بڑی مشکل سے بجھائی ہے ۔ دو کُک زخمی ہوئے جن کو ہسپتال میں داخل کروا دیا ہے۔کبڈی کے مقابلوں میں ہماری ٹیم نے آٹھویں پوزیشن لی ہے (کل ٹیمیں بھی آٹھ ہی تھیں۔)آڈٹ ٹیم نے اٹھارہ آڈٹ آبجیکشن نوٹ کر لئے ہیں۔ میری نانی فوت ہو گئی ہے اور میں دس دن کی چھٹی جانا چاہتا ہوں۔آپ پریشان نہ ہوں، باقی سب خیریت ہے۔‘‘ 
اب آپ ہی بتائیں اس قسم کی خبریں سننے کے بعد سو پچاس بال تو فوراً ہی سفید ہو جاتے ہیں اور باقی ان بلاؤں سے نمٹنے میں ۔
ڈاک میں موجود تند و تیز خطوط کا جواب تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ کمانڈر کا بلاوا آ جاتا ہے۔ کمانڈر انہی چیزوں کو اپنے انداز میں دہراتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ ’’آپ کی یونٹ سے مجھے بہت شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اگر معاملہ اسی طرح رہا تو مجھے سخت ایکشن لینا پڑے گا۔‘‘پسینہ پونچھتے ہوئے دوبارہ یونٹ میں آتے ہیں ۔ کام کا آغاز ہوتا ہے تو گھر سے بیگم کا فون آ جاتا ہے۔ 
’’آپ گھر کو بالکل وقت نہیں دیتے۔ بیٹے کی طبیعت سخت خراب ہے اسے سی ایم ایچ لے کر جانا ہے اور ہاں آج ذرا جلدی گھر آ جائیے گا، شام کو آپ کے سسرال والے تشریف لا رہے ہیں۔‘‘ 
سی او صاحب جب سارے معاملات نمٹا کر گھر پہنچتے ہیں تو شام ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کے بعد گھر والوں کی تند و تیز باتیں سن کر بالوں کی سفیدی کا عمل مزید تیز ہو جاتا ہے۔
یہاں ہمیں وہ لطیفہ یاد آ گیا جس میں ایک چوہدری سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کہاں کے چوہدری ہیں ،تو وہ جواب دیتا ہے۔ 
’’معلوم نہیں۔۔۔۔ گھر والے مجھے کہتے ہیں کہ تم چوہدری ہو گے تو باہر ہو گے اور باہر والے کہتے ہیں کہ تم چوہدری ہو گے تو اپنے گھر میں ہو گے۔"

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔