میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 15 نومبر، 2016

حقوقِ والدین

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ [46:13]
بے شک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اِس اقرار پر جمے رہے تو اُن لوگوں کے لئے (دنیا میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [46:14]
اپنے اعمال کی جزاء کی وجہ سے ، وہ لوگ اصحاب الجنت ہیں،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ [46:15]
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کی۔اس کی ماں نے مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا - اس کے حمل اور دودھ چھڑانے مین تیس مہینے لگ گئے۔  یہاں تک کہ وہ چالیس برس کا ہوگیا (اب والدین کی عمر کتنی ہو گی ؟ ) تو اس نے دعا کی ،اے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ۔
مجھے یہ بھی توفیق دے کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو اور میری اولاد میں سے بھی میرے لئے (میری طرح) نیک بخت وارث اٹھا ۔ میں تیرے حضور توبہ کر تا ہوں اور فرمان برداروں میں سے بنتا ہوں ۔

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ [46:16]
وہ (نیک بخت والدین کی خدمت کرنے والے ) لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گےاور جن کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ یہ اصحاب الجنت میں شامل ہوں گے۔یہ سچا وعدہ ہے جو ان لوگوں سے کیا جاتا رہا ہے۔

وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّـهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ [46:17]
رہا وہ انسان جس نے اپنے والدین سے کہا ،
" اُف ہے تمھارے لئے۔ کیا تم لوگ مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ قبر سے نکالا جاؤں؟
حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں۔"
اُس کے ماں باپ اللہ سے استغاثہ کررہے ہوتے ہیں(اُسے راہ راست پر لانے کا )  اور کہہ رہے ہوتے ہیں:
"اے بد نصیب ایمان لے آؤ ،اس لئے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے"
پھر وہ جواب دیتا ہے ،(مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا ) یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں ( انسانوں کو ڈرانے کے لئے )۔

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ [46:18]
الجن اور الانس کی گذری ہوئی قوموں میں،   وہ لوگ ہیں (والدین کے فرماں بردار اور نافرمان) جن پر اللہ کا فیصلہ پورا ہوچکا ہے، بے شک وہ (نافرمان اللہ کے قانون کے مطابق) خسارے میں ہیں۔

وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ [46:19]
ہر ایک (فرماں بردار اور نافرمان) کے لئے ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ہوں گے تاکہ اللہ اُن کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اُن کو دے اور اُن پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا۔

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ [46:20]
جب وہ لوگ جو (اللہ کی آیات کا) کفر کرنے جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے اور کہا جائے گا ،
" داخل ہوجاؤ تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور انکا لطف تم نے اٹھا لیا (اور والدین کو دور رکھا )

آج تم بدلے میں ذلت کا عذاب پاؤگے،
اس لئے کہ تم زمین میں بغیر کسی حق کے تکبر (کہ موت کے بعد سب کچھ ختم کون دوبارہ اٹھائے گا ؟) کرتے رہے
اور فساق
( سب جھوٹ ہے ،ملائی  ڈراوا ہے جنت اور دوزخ کا  ) کرتے رہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک نیک دل بیٹی مہر افشاں نے کیا خوب وضاحت کی ہے والدین اور اولاد کے حقوق کی اللہ نے ۔
٭      -     کاش مسلم والدین کی اولاد اِسے سمجھے !
٭      -     80 فیصد والدین حلال کمائی سے اپنا پیٹ کاٹ کر اولاد پر خرچ کرتے ہیں ۔ اولاد کو چاھئیے 

٭      -     چالیس سال کا ہونے پر حسبِ مقدور والدین کی ضرور خدمت کرے کیوں کہ یہ والدین کی ریٹائرمنٹ کی عمر ہے ۔
 
٭      -     خود اور بچے والدین کے بڑھاپے میں اُن کا سہارا بنیں ، یہاں میں نے بیوی کا ذکر نہیں کیا ، کیوں ؟

٭      -        کہ وہ تو اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت کرے گی ۔ شوہر کے والدین کا اُس بے چاری پر اللہ نے بوجھ نہیں ڈالا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مہر افشاں نے فیس بُک پر بالا آیات کا ترجمہ لگایا ۔ 
 
٭      -      جسے میں نے اپنے فہم کے مطابق ترتیب دیا اور ساتھ آیات بھی لکھیں تاکہ مجھ پر اللہ کی آیات کو تبدیل کرنے کا گناہ نہ پڑے ۔ 

٭      -      یاد رہے کہ اگر صرف ترجمہ ہی لکھا جائے تو وہ عربی الفاظ سے ہٹ کر ہوتا ہے ۔
٭      -      اوربین الصدفین (قوسین) ڈلنے والے الفاظ ، اللہ کی آیات کو اُس کے موضوع سے بدل دیتے ہیں ۔
٭      -      تو اہلِ ایماں اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور وہ موضوع کی تصدیق کرتے ہیں یا اُسے ٹھیک کرتے ہیں ۔ 
 
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔