میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 22 نومبر، 2016

رزق بند بہت کھا لیا !

کبھی غور کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو رزق کی فراوانی کے باوجود حلق سے نیچے رزق نہیں اتار سکتے ؟
ہم دونوں ایک شادی کی تقریب میں ملے، کھانے کی کئی ڈشیں پڑی ہوئی تھیں ، مختلف قسم کی سلاد، مرغیوں کی چار ڈشیں ، بھنی ہوئی چھوٹے گوشت رانوں کے علاوہ چھ ڈشیں ،نان ، روغنی نان ، کلچے ، سادہ چاول ، چائینیز چاول ، پلاؤ ، غرض انواع او اقسام کے کھانے کہ اگر ایک بڑا چمچ بھر کر ہر ڈش سے ڈالا جائے ، تو چار جہازی سائز کی پلیٹ بھی کم ہوں ۔
لیکن اُس نے اپنی پلیٹ میں چار کھانے کے چمچ مقدار چاول ڈالے اور تھوڑا دہی ۔
میں سمجھا شاید چکھنے  کے بعد شاہد، اپنی پلیٹ بھر لے گا ۔
اُس کا 40 سالہ ماضی ، اُس کے شب و روز اور کھانے کا انداز میرے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھے ۔

" نوجوان ! کیا بات ہے ؟ باضابطہ حملہ بعد میں ہوگا !"میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

" نہیں خالد یار ، یہ جو پلیٹ میں ڈالا ہے ، یہی ہضم ہوجائے تو بہت ہے " اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
کچھ دیر پہلے ہم دونوں ماضی کو دہرا رہے تھے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے تھے ۔
" کیوں پیٹو ! کھانے کا کوٹہ ختم ہو گیا ہے ، یا باقی کسر گھر جاکر پوری کرو گے ؟ " میں نے پوچھا ۔

" یہ جو تم نے اپنی پلیٹ میں ڈالا ہے ، یہ میرا ایک ہفتے کا کوٹہ ہے ، بلکہ دس دن سمجھو"
یہ کہتے ہوئے اُس نے جیب سے دو گولیاں نکالی اور پانی کے ساتھ نگل لیں اور بولا ۔
" یہ گولیاں اِن چاولوں کو ہضم کرنے کے لئے ہیں "
 ہم کھاتے اور موجودہ حالات ، پانامہ لیکس ، راحیل کی اعلیٰ کمانڈ ، نیا چیف کون بنے گا ، پاکستان کا مستقبل کیسا ہوگا جیسی باتیں کرتے رہے ، آپس نے میرے شب و روز پوچھے ، دوسرے دوستوں کے بارے میں پوچھا ، اللہ کے پاس جانے والوں کے لئے ہم نے دعا کی ، کھانے کے بعد میں سوئیٹ دش لینے اُٹھا ،اُس نے سوئیٹ ڈش نہیں لی ،

کشمیری چائے بھی میں نے ہی پی" خالد میں تمھیں کھاتا دیکھ کر خوش ہو رہا ہوں" وہ بولا
" میٹھا کھانا کم کر دو "
میں نے کوٹ کی جیب میں ھاتھ ڈالا ۔ تین سوئیٹس میرے ہاتھ پر تھیں ،
" یہ دیکھ رہے ہو ؟ روازنہ کم از کم دس کھاتا ہوں " میں نے مسکرا کر کہا اور واپس جیب میں ڈال دیں ۔
" ھاں تم گالف بھی بہت کھیلتے ہو ۔ بھابی تمھاری غیر حاضری سے تنگ نہیں ہوتیں " وہ بولا
" کیوں تنگ ہوں گی ؟ 5 گھنٹے گھر سے باہر رہتا ہوں باقی 19 گھنٹے تو گھر میں گذارتا ہوں ، 100 فیصد ریٹائرڈ لائف انجوائے کر رہا ہوں ۔" میں بولا ۔
" کوئی گولی نہیں کھاتے ؟" اُس نے حیرانگی سے پوچھا ۔
" کیوں نہیں کھاتا ؟ صرف دل کو قابو میں کرنے کی کھاتا ہوں ، کھانا ہضم کرنے کی نہیں " میں نے جواب دیا
" لگتا ہے میں نے اپنی زندگی کا پورا رزق پہلے ہی ختم کر لیا ہے ، اب بس ٹائم پورا کر رہا ہوں " وہ ہلکی مسکراہٹ میں بولا ۔

آج جب یہ آیت میری نظروں کے سامنے آئی ، تو مجھے شاہد یاد آگیا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔