میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, نومبر 23, 2016

کیا دماغی سکون کے لئے سائیکو تھراپی ایک تیکنیک ہے ؟

 ایک دوست کا سوال :

It's psycho therapy...
A technique to RESET MIND.🤔
What do you think ?
میرا جواب :
 جی ھاں کہہ سکتے ہیں !


بنیادی طور پر ذہنی ڈسٹربینس یا ھائی بلڈ پیشر ، دماغی خرابی کا باعث بنتی ہے ، جس سے دماغ (ھارڈ وئر) کے کچھ خلیوں (سیکٹرز)  میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے ، اور اُن کے  دماغ میں موجود  ذہن  (سیکٹرز) میں موجود (سافٹ وئر ) کام نہیں کرتا ، یعنی کرپٹ ہوجاتا ہے ، مکمل یا پارشئیل   ،
یاد رہے ، کہ دماغ  حواسِ خمسہ سے اپنا سافٹ وئر خود ڈویلپ کرتا ہے ، جسے ذہن کہتے ہیں ۔ 

جیسے اگر، لیپ ٹاپ کے  پروسیسر کے فین کے سامنے گرد آجائے اور وہ کولنگ  کم  کردے تو ایک خاص درجہ حرارت پر ٹرپ کرجاتا ہے ۔ اور اگر اُس کی مینٹیننس نہ کی جائے تو پروسیسر کی سپیڈ کم ہوجاتی ہے اور بالآخر بالکل ڈیڈ ہوجاتا ہے ، کیوں کہ گرمی سے اُس کے پاور کے ٹانکے پِگل جاتے ہیں ۔
اب چونکہ وہ آکسیجن پر نہیں چلتا ، لہذا وہ دوبارہ اگر ہئیر ڈرائیر سے گرم گیا جائے تو ٹانکے جڑ جاتے ہیں اور وہ  ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ لیکن دماغ کے وہ خلئیے جہاں ، ھائی بلڈ پریشر سے مکمل بلاکیڈ ہوتی ہے ، ڈیڈ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہاں سے یاداشت پارشیئیل یا مکمل ختم ہوجاتی ہے ،
سائیکو تھراپی ، پارشئیل یاداشت کو دوسرے سیکٹرز میں منتقل کرنے اور اُن کے درمیان لاجیکل لنکس پیدا کرنے کا نام ہے ۔
                        عام انسانی انسانی یاداشت ، کے دو میجر حصے ہوتے ہیں ،
 1- شعور ، جو کمپوٹر کی ریم میموری کی طرح ہوتا ہے اور دوسرا
 2- تحت الشعور ، ایک بہت بڑا سٹوریج ہے جس میں تمام یاداشت جو استعمال نہ ہو 45 دن بعد چلی جاتی ہے ، اگر اُسے ریوائیو نہ کیا جائے تو 90 دن بعد وہ اُس کے شعور سے لنک ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ لیکن رہتی دماغ میں ہے ۔ ضائع نہیں ہوتی ۔
جیسے اگر میں تم سے پی ایم اے کے بارے پوچھوں تو شائد تم کچھ معلومات بتا سکو ، لیکن اگر تم پی ایم اے میں ایک دن رہو تو وہاں کی تمام چیزیں اگر جوں کی توں ہیں اور اُن سے جو جو یاد ایسوسی ایٹ ہے وہ ساری ، واپس آنا شروع کرے گی ۔  اور اگر ساتھ روم میٹ یا پلاٹون  میٹ (کلاس فیلو)  ،  تو واپسی کا عمل جلدی ہوجائے گا ۔
            یہی وجہ ہے کہ سائیکالوجسٹ ، مائینڈ (سافٹ وئیر) رٹریول کے لئے ، مریض کو ، پرانی جگہ اور پرانے لوگوں سے ملنے کا کہتے ہیں ۔
یا وہ انسان کو ٹرانس میں لا کر اُسے سوالات کے ذریعے ماضی کو کریدنے کا کہتے ہیں ۔
ٹرانس میں لانے کے لئے دو چیزیں ہوتی ہیں ، ایک ڈرگز اور دوسرا ، مراقبہ (جسے ہم دعاؤں جیسے الفاظ کا ہزارروں مرتبہ پڑھنا ہے )  جو کنسنٹریشن کی بنیاد ہوتا ہے ۔اب جوچونکہ یہ دعائیں یا کسی اور زبان کے الفاظ کسی بُری یاد سے وابستہ نہیں ہوتے ، لہذا  دماغ کی کولنگ سے اُس کی ایفی شنسی بڑھ جاتی ہے ۔ 
جس کی وجہ سے دماغ ، لاتعداد سوچوں کو جھٹک کر ، مخصوص اور اہم  کاموں کی طرف آجاتا ہے ۔ یوں سمجھو کہ اگر آپ اپنے لیپ ٹاپ پر غیر ضروری ویب  سائیٹس اور دیگر ایپلیکیشنز  کھول لو تو لیپ ٹاپ کی پرفارمینس پر اثر پڑتا ہے ، چنانچہ ہماری غیر ضروری سوچوں سے یاداشت کی جو ویب سائیٹس کھلتی ہیں وہ  بند کرنے سے بھی بند نہیں ہوتیں اور دماغ میں قدرتی ھیٹ سنک کے باوجود گرمی بڑھتی جاتی ہے ۔  اُس گرمی  کو  ، مراقبے کی ایک مخصوص پروگرامنگ اور ری پروگرامنگ سے  کم کرنے سے تمام غیر ضروری سوچوں  کی ویب سائیٹس بند  کرنے کا ہنر آجاتا ہے ۔   جو دواؤں سے بھی حاصل ہوتا ہے ۔ لیکن دواؤں سے ویب سائیٹس بند کرنے کے باوجود وہ ٹاسک بار میں رہتی ہیں ۔  سائیکالوجسٹ وہ ویب سائیٹس بند کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن آپ یا آپ کے ارد گرد کے لوگ وہ یاداشت دوبارہ کھولنے پر مجبور کر دیتے ہیں ، جس میں دماغ کی گرمی بڑھانے کی بہت بھاری ڈاؤن لووڈز ہوتی ہیں ۔
 وہ تمام افراد ، جن کے دماغ کی ھیٹ سنک ، دماغ کو بار بار ٹرپ کرتی ہے ، اِس یکلخت شٹ ڈاؤن کی  وجہ سے دماغ میں بیڈ سیکٹر بننے لگتے ہیں اور ذہنی سافٹ وئر ، کرپٹ ہونے لگتا ہے ، انہیں چاھئیے کہ اپنا علاج خود کریں ۔
اگر  وہ کسی ماہر   سائیکالوجسٹ کے پاس نہیں جانا چاہتا ، یا کوئی  مراقبے کا ماہر   اُنہیں نہیں ملتا  تو     وہ    میری رائے کے مطابق ، 
یہ الفاظ اپنے دماغ میں کثرت سے دھرائیں ۔
 مسلمان :
اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔
 اور دوسرے مذاہب کے ۔
Almighty the immortal.

Atheist:
 living being are) Mortal )

نوٹ: بالا  تینو ں ، جملے،  ہومیوپیتھک دواؤں کی طرح ہیں  ۔ ایلوپیتھک نہیں !
 اور اگر روشنی کا مراقبہ ،  کرسکیں تو بہتر ۔
اِس لنک   میں پڑھیں ۔ 

مراقبہ : توانائی، روشنی کا مرکز

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اقساط ۔ مراقبہ پر رسپانس !

  7 - دماغ، ذہن اورجسم


5 - مراقبہ: انسانی ذہن کا ارتقائی عمل


4 - مراقبہ اور انسانی جسم 

3 - مراقبہ : مراقبہ کیوں کیا جائے؟

2 -  مراقبہ : توانائی، روشنی کا مرکز

1 - مراقبہ : آپ کی سوچ سے زیادہ آسان

 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔