میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 24 نومبر، 2016

ڈوب مرنے کا مقام

 This is the total luggage of a Fauji Captain who embraced Shahadat on LOC yesterday ..........
Show this to Asma Jahangir, Marvi Sirmad, Achakzai, Asfandyar, Sethi, and their partners who abuse the Pak Army chest thumping in the Parliament & outside singing the Indian songs.... and those politicians and journalists who cheer them and support them day & night... and the common people who vote & support them blindly.
 
میرا درد ! میرے الفاظ ! 

آہ ، میرے مسلح افواج کے دوستو ،
اُن کا کہنا بھی غلط نہیں۔
جب وہ فوج میں ایک ٹین کا بکس لے کر جانے والوں کے ریٹائرمنٹ کے بعد،
بڑے بڑے پلازے ۔۔۔۔۔۔۔۔!
چار پانچ کوٹھیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور  امریکہ میں سیٹل بچے !
دیکھتے ہیں !
تو اُن کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں ۔
مجھے صرف یہ بتائیں ، کہ
فوج میں ٹین کا بکس لے کر جانے والوں نے دبئی ، امریکہ ، برطانیہ اور پاکستان میں پلازے  کیسے بنائے  ؟

ملک ریاض نے 4 کنال میں بننے والی سابق ، فوجی سپہ سالار کی ملکیت 58 کروڑ میں کیوں خریدی ؟
اور میرے مسلح افواج کے دوستو ، 
اُن کے مخاطب12 اکتوبر، 1999 سے پہلے کے فوجی آفیسرز نہیں، بلکہ اُس کے بعد کے ہیں ۔ 
 
 ریٹائرمنٹ کے بعد راحیل شریف سے پوچھنا کہ اُس نے کتنے پلازے بنائے ؟
 
تو یقیناً کچھ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے پُجاریوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا-

ذرا سوچو !
فوجی و سیاسی عصبیت سے بلند ہو کر سوچو!
ایک محبِ وطن پاکستانی بن کر سوچو!
مجھے حیرت ہے، کہ پرائیویٹ فنڈ پر پارٹیاں اُڑانے والے !
سرکاری پیٹرول کو ندی کا پانی سمجھ کر پھونکنے والے !
پرسنل ریلیشن کی بنیاد پر نہ صرف اپنے لئے ہر قسم کے فوائد لینے  والے ،بلکہ اپنے سویلئین بہنوئی ، سالوں کے لئے ، ھر سال ہل سٹیشنوں پر گیسٹ روم بک کروانے والے !
دوسروں کے گریبان میں کیسے جھانک لیتے ہیں !
کاش !
کاش !
انگریز کیڈٹ کالج جہلم نہ بناتا
اور اگر اُس نے بنایا ہی تھا تو ۔
سپاہیوں ، نائکوں اور کلرکوں کے بیٹوں کو داخلہ نہ دلواتا  !



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔