میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 25 نومبر، 2016

اولاد کی محبت !


ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ-
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ،
" ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ ﮐﮧ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ"
ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠھ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ ﻣﯿﮟﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑھ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ،  ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،  ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩھ ﻧﺎ ﺳﮑﮯ۔
 ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ ﻧﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ کی طرف ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ، اور ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ،  ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧہیں ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ کے ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ لگ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔