میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 28 نومبر، 2016

الفاظ کا جادو !

بچے عموماً شرارتی ہوتے ہیں لیکن بعض بچے بے حد ضدی بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی کام کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے. 

امریکی نیورولینگویسٹک اور ہپناٹزم کی ماہر خاتون ہارلے ، کا کہنا ہےکہ اگر بچے کہنا نہ مانتے ہوں تو ان سے الفاظ تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کام لیا جا سکتا ہے۔
ہارلے کے مطابق الفاظ کا انداز بچوں کو فرمانبردار بنا سکتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔
ھارلے نے اپنی نئی کتاب ’’ورڈز دیٹ ورک‘‘ میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے اور وہ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کے لیے یہ تجاویز پیش کرتی ہے جنھیں آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ سائنسی پیمانے پر ثابت یہ الفاظ بچوں پر اثر کرتے ہیں۔ مثلاً :
’مت کرو‘ کی جگہ ’شکریہ‘ کہہ کر بچوں کو کوئی حکم دیا جائے تو اس کا فوری اثر ہوگا۔
’’ناں‘‘ کی جگہ ’’ہاں‘‘، منفی کی جگہ مثبت:
’’اپنا کمرہ گندا مت کرو‘‘ اور ’’یہ نہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘
کی بجائے مثبت جملے استعمال کئے جائیں جو بچوں پر جادو کی طرح اثر کرتے ہیں کیونکہ انکاری جملے بچوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں. اس لیے اس کی بجائے بچوں سے کہیں کہ
'چلو کمرہ صاف کرتے ہیں، جوتے سٹینڈ پر اور کھلونے الماری میں
رکھتے ہیں ۔'
یہ جملے بچے پر مثبت اثر ڈالیں گے اور وہ عمل کرنے لگیں گے۔
روزانہ مائیں بچوں کو یہ کہتی ہیں
’ جلدی کرو سکول یونیفارم پہنو،‘ اور یہ جملہ بچوں پر اثر نہیں کرتا. اس کی جگہ بچوں کے سامنے بہت سے انتخاب پیش کریں، مثلاً "
"اچھا میری بیٹی ، آج سکول میں کھانے کے لیے کیا لے جائے گی؟ یا
آج نیا یونیفارم پہنو گے یا پرانے والا؟ "
اور بچوں سے اس کو سوالیہ انداز میں پیش کریں اس طرح کے جملے بچوں پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔
بچوں کو ہوم ورک کرانے کے لیے بھی چوائس پیش کریں، مثلاً:
"کیا تم پہلے اردو کا کام کرو گے یا اپنے ہفتہ وار پروجیکٹ کرنا چاہو گے؟۔"
ان الفاظ سے بچے ذہنی طور پر کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں. اسی طرح کھانا کھلانے کے لیے بچوں سے معلوم کرنے کی بجائے ان کے سامنے بہت سے کھانوں کے آپشن رکھیں۔

ماہرین کے مطابق ’’کب‘‘ کا لفظ اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ایک اہم قوت رکھتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے اس لفظ کو درست جگہ استعمال کرکے اہم کام لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 
" تم اپنا ہوم ورک کب ختم کرو گے، ہمیں کھانا کھانا ہے" یا
" اوکے ، جب تم یہ کام کرلو گے تو ہم باہر چکر لگانے چلیں گے۔"
اس جملے میں بچے کے لیے ایک کام ہے اور ایک پرکشش تفریح۔ اچھے سیلزمین بھی ان ہی جملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ 
بچوں کو سکول کا کام کرواتے وقت یہ کہیں کہ
"جب تم سبق یاد کرلو گے تو تمھیں خود ہی احساس ہو جائے گا کہ یہ کتنا آسان کام تھا۔"
والدین اور بچوں کے درمیان زبان کا رشتہ نہایت اہم ہے ، والدین جو زبان استعمال کرتے ہیں بچہ وہی زبان سیکھتا ہے ۔ چنانچہ ، درست زبان استعمال کرکے آپ اپنے اور بچے کے درمیان بہترین سمجھ بوجھ کا ایک مضبوط رشتہ بنائیں۔ بچوں سے اس طرح کے جادوئی جملے کہیں کہ
"بہت کام ملا ہے ، مگر میری بیٹی کے لئے مشکل نہیں ، آؤ اسے چٹکیوں میں کرتے ہیں پھر پارک چلیں گے "
  یا
" میں جب تمھاری طرح تھی تو ، تمھاری طرح میرے لئے بھی ہوم ورک کرنا بہت آسان تھا ۔"
میرے جیسا یا تمھارے جیسا لفظ بچے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور وہ کام پر آمادہ ہوتا ہے۔
'شکریہ' کا لفظ پہلے ادا کریں نہ کہ بعد میں:
بچے اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی پذیرائی بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے اگلی مرتبہ بچوں کو ہاتھ دھونے، ٹی وی بند کرنے یا پانی دینے سے قبل ’شکریہ‘ کا لفظ کہیں جس سے اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے اور کام دلچسپی سے کرتے ہیں۔
لہذا بچوں سے کروانے والے ہر کام میں دلچسپی پیدا کریں ، انہیں احساس دلائی کہ وہ گھر میں بہت اہم فرد ہیں ۔
ہر کام کی وجہ بیان کریں:
بچے تجسس رکھتے ہیں اور ہر کام کی وضاحت چاہتے ہیں اس لیے ان میں ایک حد تک کاموں کی سمجھ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے کوئی بھی کام کروانے سے قبل بچوں کو اس کی مختصر وجہ بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً:
" اس ماہ کپڑے نہیں خرید سکتے کیونکہ ایک بڑا خرچ سامنے آگیا ہے۔"
اس سے بچہ مطمئن ہو جاتا ہے۔
’سنو‘ اور ’اگر سوچو‘ جیسے جملے بچوں کو کام کی تحریک دینے والے طاقتور الفاظ ہیں۔ مثلاً
" سنو ہمیں یہ کام کرنا ہے کیونکہ نہ ہونے کی صورت میں یہ نقصان ہو سکتا ہے" یا
"سوچواگرہوم ورک کرلو گے تو کتنا اچھا ہوگا۔؟"
ایسے جملے بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح آپ ان سے کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔
بچوں کا شکایتی لہجہ:
بہت سے بچے والدین سے ہر معاملے کی شکایت کرتے ہیں. اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ان کی وہی شکایت ان پر دوبارہ لوٹا دیں لیکن اس میں اس کا حل ہو اور وہ بھی بہت اچھے انداز میں پیش کیا جائے۔ اگر بچہ کہے کہ
'گرمی لگ رہی ہے'
تو آپ کہیے ’ اوہ! تو آپ کو قدرے ٹھنڈ چاہیے تو اس کے لیے کھڑکی کھول دیتے ہیں' یا 'اپنی جیکٹ اتار دو۔ ‘
آپ دیکھیں کہ اس طرح بار بار شکایت کرنے والا بچہ مطمئن ہوکر خاموش ہو جاتا ہے ۔
(انتخاب ، رانا اکمل )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔