میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 3 نومبر، 2016

میاں بیوی کا انوکھا مکالمہ

بیوی: آپ کبھی دن میں ڈیوٹی پہ جاتے ہیں تو کبھی رات میں؟ پھر آپ کی ہفتہ وار چھٹیاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ باقی سب لوگ تو ہمیشہ دن میں ڈیوٹی پہ جاتے ہیں اور ان کی ہمیشہ ہفتہ اتوار ہی کو چھٹی ہوتی ہے۔
شوہر: اری او نیک بخت! تجھے تو پتہ ہے کہ میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں جبکہ باقی لوگ دفتروں میں کام کرتے ہیں۔ دفتر وں میں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام ہوتا ہے۔ ہر دفتر ہفتہ اتوار کے علاوہ سرکاری تعطیلات پر بھی بند رہتا ہے۔ جبکہ اکثر بڑی فیکٹریوں میں تو چوبیس گھنٹہ کام ہوتا ہے۔ ہفتہ اتوارکے علاوہ سرکاری تعطیلات میں بھی یہ فیکٹریاں بند نہیں ہوتیں۔
بیوی: فیکٹریوں میں چوبیس گھنٹہ کام کیوں ہوتا ہے؟ یہ لوگ رات کو اور چھٹیوں والے دن فیکٹری بند کیوں نہیں کرتے؟
شوہر: اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ بعض فیکٹریاں اتنی آسانی سے بند اور کھولی نہیں جاسکتیں۔ جیسے آئل ریفائنریز، مصنوعی کھاد کی فیکٹریاں، اور اسی طرح کی دوسری ہیوی کیمیکلز انڈسٹریز کو اسٹارٹ کرنے اور پروڈکٹ بنانا شروع کرنے میں ہی کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اسی لئے اسے روزانہ بند نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایک بار اسٹارٹ ہوجائے تو مسلسل چلایا جاتا ہے۔ یہ صرف خرابی یا مرمت کی صورت میں ہی بند ہوتا ہے۔
بیوی: اور دوسری وجہ؟
شوہر: دوسری وجہ ہم لوگوں کی “ضرورت” ہے۔ جیسے بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاؤسز۔ ریلوے، جہاز، بڑے ہوٹلز، پولیس کا محکمہ وغیرہ۔ ان اداروں کی خدمات معاشرے کو ہر وقت درکار ہوتی ہے۔ خواہ دن ہو یا رات، عید بقرعید ہو یا دیگر سرکاری تعطیلات، ان محکموں کا آپریشنل ڈپارٹمنٹ ہر وقت کام کرتا رہتا ہے، بڑی فیکٹریوں کی طرح۔
بیوی: پھر ان اداروں میں لوگ چھٹی کیسے کرتے ہیں؟
شوہر: اب مجھے ہی دیکھ لو، میں دو دن علی الصباح ڈیوٹی پہ جاتا ہوں، پھر دو دن دوپہرکو تو اگلے دو دن رات کو۔ اور چھہ دن کی ڈیوٹی کے بعد دو دن کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ میں جس پوسٹ پہ کام کرتا ہوں، اسی پوسٹ پہ کل چار آدمی کام کرتے ہیں۔ آٹھ آٹھ گھنٹہ کی تین شفٹوں میں تین لوگ باری باری کام کرتے ہیں جبکہ چوتھا فرد چھٹی پہ ہوتا ہے۔ اسی قسم کے ملتے جلتے شیڈیول میں کارخانوں اور لازمی سروسز کے ادارے چوبیس گھنٹے اور سال بھر خدمات بھی فراہم کرتے ہیں اور ہر فرد کو آٹھ گھنٹہ روزانہ ڈیوٹی دینے کے بعد ہر ہفتہ دو دن کی تعطیلات بھی ملتی ہیں۔
بیوی: تو گویا آپ مرد لوگ دن بھر میں صرف آٹھ گھنٹہ کام کرتے ہیں اور باقی سولہ گھنٹہ میں تفریح یا آرام۔ اس کے علاوہ ہر ہفتہ دو دن کی تعطیلات بھی۔ سالانہ، اتفاقی اور بیماری کی تعطیلات اس کے علاوہ ہیں۔ بھئی آپ لوگوں کے تو بڑے مزے ہیں ۔
شوہر: ہاں یہ تو ہے۔
بیوی: اور ہم عورتوں کے لئے؟
شوہر: کیا مطلب ؟
بیوی: میرا مطلب ہے کہ ہم خواتین خانہ کے اوقاتِ کار کا بھی کوئی حساب کتاب ہے یا نہیں؟ ہم دن بھر میں کتنے گھنٹہ کام کریں؟ ہفتہ میں کتنے دن کی چھٹی کریں؟ کیا ہمارے لئے کام کا دورانیہ نہیں ہونا چاہئے یا ہم چند گھنٹہ سونے کے علاوہ باقی تمام گھنٹہ مسلسل کام کریں؟ اور وہ بھی بغیر کسی قسم کے ہفت وار اور دیگر تعطیلات کے؟
شوہر: (مسکراتے ہوئے): بھئی تم لوگ عورتیں جو ہوئیں۔ تم لوگوں کے کام کے اوقات بھلا کیسے مقرر ہوسکتے ہیں۔ تمہیں تو گھر میں کام کرنا ہی پڑتا ہے؟
بیوی: کیا ہم لوگ انسان نہیں ہیں؟
شوہر: انسان تو ہو بھئی! اس سے کس کو انکار ہے؟
بیوی: پھر ہم لوگ کیا جسمانی طور پر مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں؟
شوہر: (سوچتے ہوئے) نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔
بیوی: پھر ہم لوگ مسلسل اٹھا رہ اٹھارہ گھنٹہ کیوں کام کرتی رہیں۔ دن رات کی تمیز کے بغیر، ہفت وار تعطیلات کے بغیر، سالانہ چھٹیوں کے بغیر، بیماری کی تعطیلات کے بغیر
شوہر: بھئی میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔
بیوی: یہی کہ ہم بھی اگر انسان ہیں اور آپ مردوں سے جسمانی طور پر کمزور بھی تو ہم بھی دن میں آٹھ گھنٹہ ہی کام کریں اور بقیہ سولہ گھنٹہ آرام اور تفریح اور ہر ہفتہ دو دن کی تعطیلات بھی تاکہ اپنے میکہ یا کسی عزیز رشتہ دار یا سہیلیوں کے گھر ملنے جلنے جاسکیں، کوئی کام کئے بغیر یہ دو دن گزار سکیں۔
شوہر: لیکن یہ ہوگا کیسے؟ پھر گھر کون دیکھے گا؟
بچوں کو کون دیکھے گا؟
کھانا کون پکائے گا؟
اور سب سے بڑھ کر (مسکراتے ہوئے) ہماری دیکھ بھال کون کرے گا؟؟
اگر تم نے بھی فیکٹری کے کارکنوں کی طرح گھنٹوں کا حساب کتاب کرن شروع کردی تو؟؟؟
بیوی: ذرا سوچئے کہ کیا آپ مرد لوگ ہم عورتوں کے ساتھ کام کے سلسلہ میں ظلم نہیں کر رہے۔ ساری آسانیاں اپنے لئے اور کام اور کام صرف ہم عورتوں کے لئے؟ شادی سے قبل گھر میں ہم لوگ سب مل جل کر کام کیا کرتے تھے۔ ہم چار بہنیں ہیں۔ امی نے بچپن ہی سے گھر کے کام سارے بہنوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔ اس طرح گھر کے کام کا بوجھ کسی ایک پر نہیں پڑتا تھا اور امی بھی ریلکس رہتی تھیں؟
شوہر:(مسکراتے ہوئے) پھر ٹھیک ہے جب ہماری بھی چار بیٹیاں ہوجائیں گی تو تم بھی۔۔۔
بیوی: اللہ آپ میری سنجیدہ بات کو مذاق میں نہ ٹالیں۔ ابھی تو ہماری شادی کو چند ہی مہینے ہوئے ہیں اور ہم رہتے بھی فیکٹری کی کالونی میں ہیں۔ یہاں تو میرے اِن لاز بھی موجود نہیں ہیں۔۔۔
شوہر:یہ تو تمہارے لئے خوشی کی بات ہے کہ تم گھر کی بلا شرکتِ سسرال مالکہ ہو۔۔۔
بیوی: کیا آپ نے مجھے روایتی بہو سمجھ رکھا ہے جو۔۔۔ میں سسرال والوں اور میکہ والوں میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ دونوں ہی میرے لئے یکساں محترم ہیں۔
شوہر:بھئی یہ تو مجھے اچھی معلوم ہے، میں توذرا مذاق کر رہا تھا کہ۔۔۔
بیوی: لیکن میں اس وقت مذاق نہیں ایک سنجیدہ گفتگو کر رہی ہوں۔ آپ بتلا رہے تھے کہ شادی سے قبل سیلاب زدگان کی مدد کے لئے سندھ کے مختلف کیمپوں میں بھی کئی ہفتے رہ کر کام کرچکے ہیں۔
شوہر:بھئی وہ تو ہم سب کا فرض تھا۔ میں نے تو طالب علمی کے دور میں زلزلہ زدگان کے لئے بھی امدادی مہم میں حصہ لیا تھا۔ قومی مشکلات میں ہم سب کو ایسی مہمات میں ضرور حصہ لینا چاہئے۔
بیوی: اللہ آپ کی کاوشوں کو قبول کرے۔ میں یہی کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ مردوں کو یہ خوب سہولت حاصل ہے کہ جب چاہا اوروں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور ثواب سمیٹ لئے جبکہ ہم خواتین۔۔۔
شوہر: چلو آئندہ کبھی ایسا موقع ملا تو۔۔۔
بیوی: آپ میری بات کو مذاق میں نہ اڑائیں۔ میں جو کہہ رہی ہوں اسے غور سے سنیں۔۔۔
شوہر: بھئی سن تو رہا ہوں۔ اب کیا شادی کے بعد بولنا بالکل بند ہی کردوں اور صرف سنتا ہی رہوں۔
بیوی: میں نہیں بولتی۔۔۔۔ آپ ہر بات کو۔۔۔
شوہر: ارے نہیں نہیں۔۔۔ یہ لو میں خاموش ہوگیا۔۔۔ اب تم اپنی ساری باتیں ایک ساتھ کہہ ڈالو، جو بھی کہنا ہے۔
بیوی: مجھے بہت ساری باتیں کرنے کا شوق نہیں۔ میں تو صرف دو باتیں کہنا چاہ رہی ہی ہوں اور آپ ہیں کہ بیچ بیچ میں۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ شادی سے قبل ہم گھر میں بہنیں اور امی پانچوں مل جل کر سارے گھر کا کام کیا کرتی تھیں۔ گھر کے سارے کام بھی بآسانی ہوجاتے تھے اور ہم سب بہنوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی اور سب نے اپنے اپنے شوق بھی پورے کئے۔
شوہر: مجھے اس بات کا احساس ہے کہ تم ایک بھرے گھر سے آئی ہو اور یہاں تنہا گھر بھر کا کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کہو تو گھر کے کام کاج کے لئے کوئی ملازمہ رکھ دوں ؟
بیوی: مجھے ملازمہ رکھ کر کام کروانا بالکل پسند نہیں۔ میں تو یہ چاہ رہی تھی کہ کوئی میرا اپنا ہر دم میرے ساتھ رہے۔
شوہر: بھئی وہ امی جان تو تمہیں پتہ ہے کہ یہاں نہیں رہ سکتیں، ابو ان کے بغیر تنہا رہ جاتے ہیں۔
بیوی: میں نے یہ تو نہیں کہا۔۔۔ میں تو یہ چاہ رہی تھی کہ جس طرح آپ اکثر و بیشتر لوگوں کی بھلائی کے کام کرتے رہتے ہیں، دوسروں کے کام آتے رہتے ہیں۔ میں بھی کوئی ایسا نیکی کا کام کروں کہ کسی کا بھلا ہوجائے۔
شوہر: (غصہ سے) ایک تو تم عورتوں کی باتوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ ابھی گھر کے کاموں کا رونا تو ابھی نیکی اور سماجی کام کرنے کا شوق۔ تم ایک وقت میں ایک بات نہیں کرسکتیں کہ تمہا را اصل مسئلہ کیا ہے؟
بیوی: (مسکراتے ہوئے) آپ غصہ میں بھی مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ میرا ایک نہیں دو مسئلہ ہے۔ میں لوگوں کے ساتھ بھلائی بھی کرنا چاہتی ہوں اور اپنا ذاتی مسئلہ بھی حل کرنا چاہتی ہوں۔ اسے کہتے ہی ایک تیر سے دو شکار۔۔۔
شوہر: میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔
بیوی: اصل میں میری ایک کزن ہے، جو اتنی اچھی ہے کہ کیا بتلاؤں۔ لیکن اس کے میاں نے شادی کے تیسرے ہی مہینے طلاق دیدی۔ لڑکا غلط نکلا۔ تب سے انکل آنٹی تو پریشان ہیں ہی، لیکن میری بہنوں جیسی کزن نے تو جیسے سنیاس لے لیا ہے۔ نہ کھا نے پینے کا ہوش نہ پہننے اوڑھنے کا۔ اوراب تو وہ کسی سے ملتی جلتی بھی نہیں۔ میں اْس کے بارے میں بہت سوچتی ہوں کہ۔۔۔
شوہر: بڑا افسوس ہوا تمہاری کزن کا سن کر۔ اصل میں بعض لڑکے ہوتے ہی غیر ذمہ دار ہیں۔ رشتہ دیکھ بھال کر کرنا چاہئے۔ لیکن تم تو اپنا دکھڑا رو رہی تھی، گھر کے کاموں کا رونا پھر سماجی خدمت کا شوق۔ بیچ میں اپنی اس کزن کو کیوں لے آئیں۔ تم بھی نا باتیں کرتے کرتے بہک سی جاتی ہو۔۔۔
بیوی: اصل میں۔۔۔ مَیں نا! ۔۔۔ میں یہ چاہ رہی تھیں کہ وہ ہمارے گھر آجائیں۔ اللہ کتنا اچھا ہوگا ہم دونوں بہنیں مل جل کر رہیں تو، میری تنہائی بھی ختم ہوجائے گی اور کام کاج کا مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔
شوہر: اس میں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ لیکن کیا تمہارے آنٹی اور انکل تمہاری کزن کو ہمارے گھر رہنے کی اجازت دے دیں گے۔ اور کیا خود تمہاری کزن اس بات پر راضی ہوجائے گی۔۔۔
بیوی: ہاں! ہاں! سب راضی ہوجائیں گے، میں سب کو منا لوں گی، بس آپ راضی ہو جائیں تو۔۔۔ ؟
شوہر: بھئی میں نے کہہ تو دیا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر وہ لوگ۔۔۔
بیوی: تو کیا آپ میری کزن سے نکاح پر راضی ہیں ؟
شوہر: کیا ؟یہ نکاح والی بات بیچ میں کہاں سے آگئی ؟
بیوی: تو آپ کے خیال میں میری کزن ایسی گئی گزری ہے کہ۔۔۔
شوہر: میں نے یہ کب کہا کہ۔۔۔
بیوی: اگر آپ کو اپنے دفتر جانے کے بعد میری تنہائی اور کام کاج کے بوجھ کا ذرا بھی خیال ہے تو میری کزن سے شادی کر لیں۔ اس طرح مجھے بھی ایک نیکی کرنے کا موقع مل جائے گا۔ میری کزن کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ اور۔۔۔ اور (مسکراتے ہوئے) آپ کے تو مزے ہی مزے۔ مفت میں دوسری بیوی بھی مل جائے گی۔
شوہر: (غصہ سے) دیکھو میں اس قسم کا مرد نہیں ہوں، جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔
بیوی: ارے بابا! میں تو مذاق کر رہی تھی۔ کیا مجھے مذاق کرنے کا حق نہیں ہے۔
شوہر: تو گویا یہ سب کچھ مذاق تھا ؟؟؟


 بیوی: نہیں نہیں۔ سب کچھ تو نہیں، بس آپ ہاں کردیں۔ میری بات مان لیں۔ میری کزن سے نکاح کرلیں۔ ہم دو مل کر آپ کی بہتر خدمت بھی کریں گی اور گھر میں بہنوں کی طرح مل جل کر گھر کو سجا سنوار کر رکھیں گی۔ پھر ہم دونوں پر کام کا بوجھ بھی نہیںہوگا اور ہم بھی آپ کی طرح دن میں آٹھ دس گھنٹہ کام کے ساتھ ہفتہ وار تعطیل پر اپنے اپنے میکہ بھی جا سکیں گی، آپ کو تنہا چھوڑے بغیر۔۔۔
شوہر: اوہ تو یہ بات تھی۔ اس کے لئے اتنا گھما پھرا کربات کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
بیوی: تاکہ آپ کی سمجھ میں آسکے کہ ساری عورتیں احمق نہیں ہوتیں کہ ساری عمر اکیلی گھر کی چکی پیستی رہیں اور مرد عیش کرتے رہیں۔ ہمیں بھی برابر عیش کرنے کا حق ہے۔ اور اس کا واحد شریفانہ طریقہ یہ ہے کہ بیویاں اپنے شوہروں کی دوسری شادی اپنے خاندان کی مجبور و بے کس خواتیں سے کروا دیں۔ اس طرح ایک تو دوسری بیوی ممنون ہوگی اور کبھی بھی پہلی بیوی کو سوکن نہیں سمجھے گی۔ دوسرے دونوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ اور شوہر کے لئے اس سے بہتر تحفہ کیا ہوگا کہ اسے پہلی بیوی مفت میں دوسری بیوی بھی لادے۔
شوہر: دیکھو تم پھر مجھے۔۔۔
بیوی: میں آپ کو تو کچھ نہیں کہہ رہی، تو میں جا کر آنٹی سے بات کروں نا ؟
شوہر: لیکن مجھے بھی تو اپنے والدین سے بات کرنا ہوگی، پھر تمہارے والدین کو بتلانا ہوگا کہ تم کیا کرنے جارہی ہو۔۔۔
بیوی: آپ کو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ میرا مسئلہ ہے۔ میرے والدین کو مجھ پر اعتماد ہے، انہیں پہلے سے بتلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپ بھی ابھی سے کسی کو کچھ نہ بتلائیں۔ (مسکراتے ہوئے) ویسے بھی آپ کوئی کنواری لڑکی تو ہیں نہیں کہ نکاح کے لئے ولی کی اجازت چاہئے آپ کو؟
شوہر: بھئی جو تمہاری مرضی، بعد میں اگر لڑائی جھگڑا ہوا نا تو۔۔۔
بیوی: کچھ نہیں ہوگا، یہ میری ذمہ داری ہے۔ جب میں ہی کسی سے نہیں لڑوں گی تو کوئی مجھ سے کیسے لڑے گا اور میری کزن تو اتنی اچھی ہے کہ اس سے نکاح کرکے آپ مجھے بھی بھول جائیں گے یہ الگ بات ہے کہ میں آپ کو ایسا کرنے نہیں دوں گی۔
شوہر: کاش ساری بیویاں تمہاری طرح سوچنے لگیں تو ملک میں عورتوں کی شادی کا مسئلہ ہی نہ رہے۔ بیوہ اور مطلقہ جلد از جلد کسی شریف گھرانے میں دوسری بیوی بن کر خوش و خرم زندگی گذارنے لگے۔ اسی طرح ان لڑکیوں کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، جن کی بوجوہ شادی نہیں ہوپاتی۔ اور وہ ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر ایک انجانے خوف میں گذارنے لگتی ہیں کہ ماں باپ کے بعد ان کا کیا ہوگا۔ اللہ تمہاری طرح دیگرتمام بیویوں کو عقل سلیم عطا کرے اور اپنا ذاتی شوہر دوسری مجبور و محروم بہنوں کے ساتھ شیئر کرنے کی توفیق دے
بیوی: آمین۔ ثم آمین
شوہر: : لیکن ایک بات پھر بھی حقیقت ہے۔
بیوی: وہ کیا؟
شوہر: جن مردوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوئی ہیں، ان کی گھریلو زندگیاں لازماََ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہیں۔ لڑائی جھگڑا تو معمول کی بات ہے۔ ایسے میں ایک شریف مرد کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ اکثر ڈراموں فلموں اور کہانیوں میں بھی اسی بات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
بیوی: آپ کے مشاہدہ اور مطالعہ سے انکار تو نہیں کیا جاسکتا کہ ایسا ہوتا بھی ہے، لیکن یہ تصویر کا ایک ہی رْخ ہے۔
شوہر: کیا مطلب؟
بیوی: جہاں تک ڈراموں، فلموں اور کہانیوں کا تعلق ہے تو ان کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹرسب کے سب غیر اسلامی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ مغرب کے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مرد کو شادی صرف اور صرف ایک ہی کرنی چاہئے، گرلز فرینڈز چاہے جتنی مرضی رکھ لیں۔ یہ لوگ نام کے مسلمان ہوتے ہیں اوراللہ نے مردوں کو ایک سے زائد شادی کی جو اجازت دی ہے، وہ ان کے دل سے مخالف ہیں۔ اسی لئے اپنی کہانیوں اور ڈراموں میں جان بوجھ کر دوسری شادی کرنے والوں کو مشکل میں گِھرا دکھلاتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ معاشرے میں وہی گھرانے دوسری شادی سے پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں، جہاں میاں بیوی دونوں دین سے دور ہوتے ہیں اور ایسے گھرانوں کی اکثریت ہونے کے باعث میڈیا میں بھی انہی کو زیادہ پرجیکشن ملتی ہے۔
جبکہ دین دار گھرانوں میں اگر کوئی مرد ایک سے زائد شادی کرتا ہے تو وہاں اتنی زیادہ مشکلات نہیں ہوتیں۔ اور ایسے گھرانوں کے مشاہدات پر کوئی قلم بھی نہیں اٹھاتا۔اور سب سے اہم بات یہ کہ زیادہ تر مرد از خود اپنی پسند سے دوسری شادی کرتا ہے۔ یا پہلی بیوی کی مرضی کے خلاف اس سے زیادہ حسین اور کم عمر لڑکی سے شادی کرتا ہے۔
چنانچہ دونوں بیویوں میں کبھی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوپاتی۔ وہ ایک دوسرے کو سوکن بلکہ دشمن گردانتی ہیں اور دونوں کا سارا زور شوہرکو اپنی طرف کھینچنے میں صرف ہوتا ہے۔ جس سے گھر جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے اور مرد پریشان ہوجاتا ہے۔
میرا نسخہ اس کے بر عکس ہے کہ پہلی بیوی از خود اپنی مرضی سے اپنے خاندان یا احباب میں سے مجبور و بے کس مگر قابل اعتبار مطلقہ، بیوہ یا ایسی خواتین سے اپنے شوہر کا نکاح پڑھوائیں جن کی شادی نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسا نیک نیتی سے اجر و ثواب کے لئے کریں۔
اس طرح مرد کی دوسری شادی سے دونوں بیویوں میں لڑائی جھگڑا کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ بلکہ دونوں متحد ہوجائیں تو شوہر کی طرف سے کسی بھی قسم کے ناروا سلوک کا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے۔



شوہر: تو گویاتمہیں مجھ پر بھی شک ہے کہ کہیں میں تم سے ناروا سلوک نہ کروں، اسی لئے اپنی حفاظت کے لئے۔۔۔
بیوی: ارے نہیں نہیں۔ اللہ نہ کرے کہ مجھے کبھی ایسا کوئی خدشہ لاحق ہو۔ میں تو ایک عام بات کر رہی تھی کہ ایسا کرنا پہلی بیوی کے حق میں ہی جاتا ہے، اگر کوئی سوچے تو۔

شوہر: کہہ تو تم صحیح رہی ہو۔ اسلام میں مردوں کو ایک سے زائد شادی کی اجازت کے مخالفین (خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان) یہ سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے اس امر کی حوصلہ افزائی کی تو ہر مرد چار چار چار شادیاں رچانے لگے گا۔ حالانکہ کسی بھی معاشرے میں ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آزادی اور سہولتوں کی فراوانی کے باجود سارے مسلمان مرد دو دو شادیاں بھی کر لیں۔ ہر معاشرے میں عموماََ خواتین کی تعداد صرف چند فیصد ہی زائد ہوتی ہے۔ 
جیسے پاکستان میں خواتین 51 یا 52 فیصد ہیں۔ گویا مردوں سے ان کی تعداد صرف دوتا چار فیصد زائد ہے۔ یعنی اگر تمام خواتین کی شادیاں ہوجائے تب بھی صرف دو تا چار فیصد مرد ہی دو دو شادیاں کر پائیں گے، خواہ (بفرض محال) سارے کے سارے مرد خوشحال، دوسری شادی کے خواہشمند ہوں، ریاستی قوانین بھی مردوں کو دوسری شادی کی ترغیب دینے والی ہواور ساری کی ساری عورتیں بھی اپنے شوہر، بھائیوں اور بیٹوں کی دوسری شادی پر دل سے رضامند ہوجائیں تب بھی زیادہ سے زیادہ چار فیصد مرد ہی دوسری شادی کر پائیں گے۔
بیوی: (مسکراتے ہوئے) بالکل صحیح !کیوں کہ دوسری شادی کے لئے بن بیاہی عورتوں کی دستیابی بھی ضروری ہے۔
شوہر: ویسے بھی دوسری شادی کی صورت میں مرد پر مختلف قسم کی اضافی ذمہ داریوں کا کئی گنا زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ آج کے عہد میں ایک شادی کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہے چہ جائیکہ ایک سے زائد شادی کرنا۔ دوسری شادی کی خواہش کرنا ایک الگ بات لیکن عملاََ ایسا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
بیوی: لیکن معاشرے کی بن بیاہی، مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی فلاح و بہبود کا واحد نسخہ یہی ہے کہ کچھ نہ کچھ مرد یہ اضافی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوں اور کچھ نہ کچھ خواتین خوش دلی سے اپنی ’’محروم بہنوں‘‘ کے لیے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھلے رکھیں۔

- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
نوٹ: یہ ایک مرد کی طرف سے لکھا ہوا ،تصوّراتی مکالمہ ہے ۔ لیکن میرے خیال میں یہی آفاقی سچ ہے ۔
اِسی لئے میں نے اسے آفاقی سچ کے عنوان میں جگہ دی ہے ،



مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :
النساء -یتیموں اوربیواؤں کی حفاظت، 
مرد و عورت کے جسمانی تعلقات،
غلام لڑکی اور جسمانی تعلقات ،
شرع اللہ کے مطابق ،

آیات اللہ پرانسانی ردِعمل ،

قانون شہادت (گواہی )۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔