میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 17 نومبر، 2016

اِس نُکتے کا کیا توڑ تلاش کیا جائے ؟

کہا جاتا ہے کہ ،

جہانگیر کی بیوی نور جہاں، چونکہ ایرانی تھی لہذا شیعہ تهی- چنانچہ اُس نے ایران کے شہر نجف اشرف کے ایک چوٹی کے عالم کو خط لکها ،
" ایران کے سب سے بڑے "مناظر" کو ہندوستان بهیج دو تاکہ مناظروں میں شیعہ مذہب کی حقّانیت بیان کی جائے اور سُنّی علمائے ہند کو لاجواب کر کے جملہ عوام کو شیعہ مذہب میں ڈالنے کی راہ ہموار کی جائے "
اور یہ خصوصی تحریر کیا کہ
" وہ مناظر سیدھا آگرہ نہ آئے بلکہ لاہور سے ہوتا ہوا آئے جہاں علماء نہیں ہیں بلکہ صوفیاء ہیں جن کو مات دینا آسان ہے اس طرح اُس  "مناظر"  کی آگرہ آنے سے پہلے دهاک بیٹھ جائے۔"
 چناچہ ایک مناظر صاحب کلام و بیان و حاضر جواب، کا سخت مقابلے کے بعد انتخاب ہوا، وہ "مناظر"  سیدھا میاں میر صاحب کے پاس پہنچا آپ اشراق کی نماز سے ابهی فارغ ہی ہوئے تهے ، جیسے ہی وہ دروازے میں سے داخل ہوا آپ نے فرمایا
" یہ شخص جو آگے آگے آ رہا ہے اس کا دل سیاہ ہے "
علیک سلیک کے بعد حضرت نے دریافت فرمایا،
" کیا کام کرتے ہو ؟ "
وہ "شیعہ مناظر"  بولا ،
"میں ایران سے آیا ہے ہوں ، شیعانِ علی میں سے ہوں اور شانِ اہل بیت بیان کرتا ہوں "
میاں میر صاحب نے فرمایا،
" اہل بیت کی شان بیان کرو تاکہ سُنّی کا سُن کر ایمان بڑهے "
"شیعہ مناظر"  گویا ہوا،
" امام حسین رضی اللہ عنہ کی یہ شان ہے کہ کوئی گناہ گار شخص بهی آپ کے مزار کے 40 فرسخ (ایک فرسخ ساڑھے پانچ کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے)  کے ارد گرد دفن ہو جائے تو وہ بخش دیا جاتا ہے "
میاں میر صاحب نے بار بار فرمایا،
" پهر سنا !پهر سنا ! "
چنانچہ وہ "شیعہ مناظر"   سناتا تھا اور میاں صاحب " سبحان اللہ سبحان اللہ"  کرتے وجد میں جھومتے رہے، اللہ والوں کی شان ہی الگ ہے ، جونہی ضرب پڑی وجد میں آگئے ، ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ بھی مناظر کے اِس قولِ نایاب پر "سبحان اللہ سبحان اللہ " کا ورد کرنے لگے ۔
"شیعہ مناظر"  کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے کہ پالا مار لیا ۔
اور پهرجب میاں صاحب وجد سے نکلے تو پوچھا ،
" ایک نیک دل انسان ! امام حسین کو یہ مقام کیسے ملا ؟َ"
تو "شیعہ مناظر"  بولا،
"آپ رضی اللہ عنہ تو محمد ﷺ کے نواسے تهے اس وجہ سے یہ مقام ملا "
میاں میر صاحب نے فرمایا ،
" جب نواسے کی یہ شان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا عظیم شان ہو گی ؟"
وہ "شیعہ مناظر"  بولا ،
" بے شک بڑی شان ہے اور یہی شان اہلِ بیت میں نفوذ کر گئی ہے ۔ "

" سبحان اللہ ، سبحان اللہ " میاں صاحب پھر وجد میں آگئے ، کافی دیر بعد سر اُٹھا اور "شیعہ مناظر"  سے مخاطب ہوئے ۔
" اے نیک دل انسان ، " یہ بتاؤ کہ  جو آپ ﷺ کے مزار میں ان کے ساتھ سوئے ہوئے ہیں !


کیا وہ بخشے نہیں جائیں گے ؟"
 "شیعہ مناظر"  کا رنگ فَق ہوگیا اور وہ عالم ہکا بکا رہ گیا،
کچھ جواب دئیے بغیر اٹھا محفل سے باہر نکل کر آگرہ آنے کی بجائے واپس یہ سوچتے ہوئے ایران کی راہ لی ، کہ ،


اِس نُکتے کا کیا توڑ تلاش کیا جائے ؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔