میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 29 نومبر، 2016

راحیل شریف کا ٹین کا بکس



ٹین کا بکس لے کر 18 نومبر 1974 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے گیٹ سے داخل ہونے والے ، جنٹل مین  کیڈٹ نمبر 14538 راحیل شریف نے
 29 نومبر 2016 تک فوج کے دوران سروس میں ملنے والے، ایک رہائشی پلاٹ ۔ ایک کمرشل پلاٹ اور ایگریکلچرل زمین ، اپنے ٹین کے بکس سے نکال کر !
مبلغ 8 کروڑ روپے میں بیچ کر، پاکستان آرمی کے شہداء کے فنڈ میں فی سبیل اللہ دے دئے !



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔