میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 10 نومبر، 2016

الو کاپٹھا

ایک بیکن ھاؤس میں پڑھنے والے ، نوجوان کو اُس کے باپ نے عمران خان کے دھرنے میں جانے اور رات دیر گئے گھر آنے پر مارا ۔ جب باپ دو تین تھپڑ مارچکا اور بیٹے کے چلانے پر اُسے احساس ہوا کہ اُس نے غلطی کی ہے ، تو ھاتھ روک کر بیٹے کو کہا ۔
" سوری"
بیکن ھاؤس اور عمرانی ہونہار طالبعم نے ایک کاغذ اٹھایا اُسے مٹھی میں توڑ مروڑ کر گول بنایا اور پھر سیدھا کرتے ہوئے پیپر کو کہا ۔
" سوری "
اور باپ سے مخاطب ہوا ،" کیا میرے سوری کہنے سے کاغذ پر پڑے ہوئے نشان ختم ہوگئے ،
نہیں نا ۔
تو پاپا رشتے ایسے ہوتے ہیں۔
سوری کہنے سے زخم مندمل نہیں ہوتے ۔"

باپ کو ٹاٹیرئن تھا ، مگر جہاندیدہ تھا ، بیٹے کو اپنے سکوٹر کے پاس لے کر گیا اور بولا ،
" اسے سٹارٹ کرو ؟"
بیٹے نے تین چار ککس لگائیں مگر وہ سٹارٹ نہیں ہوا ۔

باپ نے سکوٹر میں چابی لگائی اور بولا ۔ " اب سٹارٹ کرو !"
بیٹے نے ایسا ہی کیا ۔ سکوٹر تیسری کک میں سٹارٹ ہو گیا ۔
باپ بولا ،
الو کے پٹّھے ، تو کاغذ نہیں ، سکوٹر ہے سکوٹر ، جب تک چابی لگا کر ککس نہ لگائی جائیں تو سٹارٹ نہیں ہوتا ،
کیا سمجھے ؟ "

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔