میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 10 نومبر، 2016

مقبوضہ کشمیر-اُن کی سوچ اور میری رائے !

اُن کی سوچ !
اگر دل میں انسانیت اور اپنے مسلمان ہونے کا ذرہ برابر بھی درد ہو تو کمنٹ میں آمین لکهہ کر شیئر کریں.
یاالله مقبوضہ کشمیری مسلمانوں کی مدد فرما۔


میری رائے !
اے اللہ پاکستان میں رہ کر فیس بُک کے مجاہد بننے والے کشمیریوں کو عقلِ سلیم عطا فرما ، کہ وہ جو کشمیری مہاجر ، پاکستانی مہاجر بن کر یورپ ، برطانیہ اور امریکہ میں عیاشیاں کر رہے ہیں ۔
اگر وہ مقبوضہ کشمیریوں کے حق میں ، ھیلری کلنٹن کے الیکشن کے برابر نہ سہی صرف 20 فیصد (خمس ) ڈالر خرچ کر کے مہم چلائیں تو شاید،

بھارت کی جمہوری تھپکیوں میں سوئی ہوئی اقوامِ متحدہ کو جگا دیں ۔ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔