میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

باجوہ ہوم آف نالج ٹرانسفر بذریعہ مالش

ارے ایک دوست کے لئے میٹرک کا امتحان ایورسٹ کا امتحان بن کے رہ گیا تھا انہوں نے میٹرک پر کئی حملے کئے مگر میٹرک 'سر' نہ کر سکے۔
 اس کی وجہ بقول خود ان کے انکا 'کهوتا دماغ' تها وہ ہمیشہ اپنے کهوتے دماغ کے ہاتھوں بہت پریشان رہتے۔
 میں حیران ہوتا تھا  کہ ایں وجہ متذکرہ بالا وہ اپنی پریشانی کی کیفیات کو اسی دماغ سے کیسے سوچتے تھے؟
جسے وہ خود کهوتا دماغ کہتے تھے !  کیونکہ میں نے کبهی کسی کهوتے کو سوچتے دیکھا تها نہ کهوتے دماغ کو!

 انہیں جب کبھی پوچھا جاتا،
" ارے میاں....! کیا کرتے ہو آجکل؟ "
جواب ایک ہی ہوتا،........
"بس جی میٹرک کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں" ،
یہ جواب وہ قریب آٹھ سال تک دیتے رہے تهے_ انہیں معلوم تها کہ اب وہ "ادنٰی" سے نہیں رہے بلکہ اعلیٰ ہو گئے ہیں (جیسے خادم ادنیٰ سے خادم اعلیٰ) مگر شیریں کلامی انہیں ادنیٰ کہلوائے جانے پر مجبور کرتی رہتی ۔
آخر کار انہیں ایک مسیحا مل گیا، کہنے لگے،
" مری روڈ پر ایک اشتہار لگا ہوا ہے"،
"کیسا اشتہار؟"

"میٹرک میں بار بار فیل ہونے والوں کے لیے خوشخبری"

 "باجوہ ہوم آف نالج"

"پہلے آئیں پہلے پائیں، انتہائی محدود نشستوں پر داخلے جاری ہیں -
گھر سے باہر گھر جیسا ماحول، محنتی اور قابل اساتذہ، انگریزی باجوہ صاحب خود پڑھائیں گے ،  سٹوڈنٹ چاہے کهوتا دماغ ہو پاس ہونے کی سو فیصد گارنٹی، فیل ہونے کی صورت میں ساری فیس واپس ،  مع قیام و طعام کل فیس 8 ہزار روپے ماہانہ"

"باجوہ ہوم آف نالج......... جو نام ہے اعتماد کا" 


 واہ جی، بڑی پر کشش آفر ہے......
خیر باجوہ صاحب سے ملاقات ہوئی اور بڑی مشکل سے 6  ہزار روپے مہینہ پر اتفاق ہوا اور ہم اپنے دوست کو باجوہ صاحب کے ہاں چھوڑ آئے۔

 باجوہ صاحب نے اپنے ہاں ہمارے کوئی 20 منٹ کے قیام کے دوران دو تین طالبان کو بانس کے کوئی ڈھائی فٹ کے ڈنڈے سے اچھا خاصا "نالج" ٹرانسفر کیا،
مجھے وہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ باجوہ صرف "ہوم آف نالج" ہی نہیں " ہوم آف مالش"  بهی ہے،
بعدازاں ہمارے دوست نے متعدد بار اپنی پشت پر پر نالج ٹرانسفر کے نشانات بھی دکهائے۔

المختصر!  کوئی تین ماہ بعد امتحان ہوا اور مزید تین ماہ بعد نتیجہ!
باجوہ کے بانس کی قسم جس کی گانٹھوں کے نشانات ہمارے دوست کے "ممنوعہ علاقوں"  تک ثبت تهے، بلکہ وہاں زیادہ ثبت تھے ،
نتیجہ  سن کر یقین نہ آیا کہ ہمارے دوست نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا ہے اور وہ بھی سیکنڈ کلاس میں!

میں نے مبارکباد دینا چاہی تو ہمارے دوست نے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے؛

 "مبارک دینی ہے تو باجوہ کو دو جس نے میرے کهوتے دماغ میں میٹرک ڈالا، اور وہ بھی بانس ٹکنالوجی کے ذریعے"

آج جی ایچ کیو کے ہاکی گراونڈ میں جب ایک "شریف جرنیل" نے  باجوہ جنرل کو بانس کی ڈھائی فٹ کی چھڑی مع کمان تهمائی تو مجھے ایسے ہی '"باجوہ ہوم آف نالج"  والے باجوہ صاحب یاد آ گئے جنہوں نے ہمارے دوست میں بقول ہمارے دوست کے دماغ میں میٹرک ڈالا تها۔ 

جی ہاں باجوہ....... جو نام ہے اعتماد کا...!!!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔