میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 11 دسمبر، 2016

تپسوی مہاراج اور قومِ رسولِ ھاشمی !

٭   -                       ریڑھی پر چھولے لگانے والا املی آلو بخارے کی جگہ ٹاٹری استعمال کرتا ہے۔ 
٭   -                       چھوٹا چنا سوڈے سے پُھلا کر موٹا کر دیتا ہے۔
٭   -                       شربت والا چائنہ کے فلیور لے کر پھلوں کا جوس بیچتا ہے۔ چینی کی جگہ سکرین استعمال کرتا ہے۔
٭   -                       دودھ میں دودھ کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے ۔
٭   -                       دکان والا قیمت پر نئی قیمتوں کے سٹیکرز لگاتا ہے۔ ایکسپائر اشیاء کی تاریخ ناقابل شناخت کر کے بیچتا ہے. 
٭   -                       ٹھیکیدار سستے میٹیریل سے عمارتیں بناتا ہے۔
 ٭   -                       گوشت والا حرام کھلاتا ہے۔
 ٭   -                       مصالحے والا رنگ بیچتا ہے۔
 ٭   -                       مزدور مالک کی آنکھ دیکھ کر کام کرتا ہے. مالک اپنے مال میں ملاوٹ میں مشغول ہوتا ہے۔
 ٭   -                       سبزی والا پانی چھڑک کر وزن بڑھاتا ہے۔
 ٭   -                       مرغی والا بیمار مرغیاں کم وزن باٹوں پر بیچتا ہے۔
 ٭   -                       سرکار کے کارندے وردی پہن کر سڑک پر رشوت لیتے ہیں ۔ رشوت دینے والے دھویں کا زہر اگل کر زائد کرایہ لیتے ہیں۔
٭   -                       جج وکیل سے رشوت لیتا ہے اوروکیل مجرم سے۔

جس طرف جاؤ یہی داستان ہے.
 شائد آپ اسے ہزاروں صفحوں میں بھی نہ سمیٹ پائیں.
کہ دھوکہ دہی، چھل ، جھوٹ و فریب مسجد کی محراب سے عدل کی ایوان تک ہر جگہ دستیاب ہے۔

یہ سب کیوں ہوتا ہے کبھی غور کیا ؟
نہیں نا !
تو آئیں ، اِس تپسوی مہاراج کا درسِ ابلیس دیکھتے ہیں ۔ 

اور سوچیں ، کس پیارے انداز میں الکتاب کی نہیں بلکہ القران کی تبلیغ کرنے والے ، رسول اللہ کی توھین کی گئی ہے ۔

پہلے ، حج کر کے آپ اپنے تمام گناہ جھاڑ کر عازمِ بہشت ہوتے تھے ،
بس اب گھر بیٹھے،
تپسوی مہاراج کا بھاشن سُن کر ۔ آج یعنی 12 ربیع الاول کے دن ، بلا روکے کتنی آسانی سے جنت میں اپنے تمام گناہوں کا بوجھ جھاڑ کر قومِ رسول، ھاشمی کے جھمگٹے میں بہشتِ ابلیس میں بلا ٹھٹکے داخل ہوسکتے ہیں ۔
اِن تپسوی مہاراجوں نے نہیں بتایا ، کہ قومِ رسولِ ھاشمی میں شامل ہونے والے ۔
کیا الرسول کی، اللہ کے سامنے ،

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿الزمر: 69﴾

قومِ رسولِ ھاشمی اپنے چہروں کی طرف اُٹھنے والی اپنے الرسول کی انگلی کو جھٹک  اللہ کی جنت میں داخل ہو سکیں گے ؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔