میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, دسمبر 12, 2016

⁠⁠⁠⁠⁠خونی انقلاب

٭   -                       ھر تنخواہ دار شخص تنگ نظر آتا ہے،کہ تنخواہ مہینے کی 20 تاریخ کو ختم ہوجاتی ہے ۔ 
 ٭   -                       ہر بزنس مین بدعا کے لئے آسمان کی طرف ھاتھ اٹھاتا ہے ۔ 
٭   -                       ھر دیہاڑی دار مزدور میلی قمیض سے آنکھوں سے پسینہ پونچھ کر حسرت بھری آہ کے ساتھ " یا خدا " کہتا ہے ۔
 ٭   -                       ھر بھکاری بچہ ، چوک پر چمکدار کار کے شیشوں سے جھانک کر اپنے جیسے بچوں کو چاکلیٹ چباتے بے بسی سے دیکھتا ہے ۔
 پھر ہر شخص سوچتا ہے کہ اس ملک کے نظام کو بدلنے کا واحد حل خونی انقلاب ہی ہوگا !خونی انقلاب !
خونی انقلاب !
اور
کونی انقلاب !

اِس بوسیدہ ، کرپٹ اور بے ایمان نظامِ حکومت و جمہوریت کے خلاف۔
خونی انقلاب !
جب بھی ہوا اور جس کے ہاتھوں بھی ہو۔ شاید سڑکوں پر خون بہے ۔
 اُس کے بعد ، اِس ملک میں ایماندار بسیں گے ، جن کے ہاں فرشتے جنم لیں گے !
لیکن کن کے ہاں ؟
میرے ہاں یا آپ کے ہاں !
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم میں سے
 کون کرپٹ نہیں؟

٭   -                       چند دن پہلے حکومت نے رپوٹ جاری کی کہ ملک میں چلنے والے ‘‘صرف پچاس‘‘ بناسپتی گھی کے کارخانے مضرِ صحت گھی تیار کررہے ہیں۔ 
٭   -                       یاد آیا کہ کچھ دن پہلے ملتان سے جعلی خون کی بوتلیں برآمد ہوئیں، ملک میں بکنے والا اسی فیصد دودھ دودھ نہیں بلکہ مختلف کیمیکلز کا مرکب ہے، 
٭   -                       ہم تھوڑی رشوت کو چائے پانی اور بڑی کو ھذا من فضلِ ربّی کہتے ہیں۔ آپ اپنا جائز سے جائز کام بھی خوار ہوئے اور رشوت دیئے بغیر نہیں کرواسکتے۔
٭   -                       مردار گدھوں اور کتوں کا گوشت کئی ہوٹلوں اور قصابوں سے پکڑا گیا ہے۔ 
٭   -                       ڈاکٹرز اب گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں۔ 
٭   -                       ماؤں نے نارمل طریقے سے بچے جننے چھوڑ دیئے ہیں کیونکہ ڈاکٹرز کے پیٹ نہیں بھرتے، 
٭   -                       شہد کے نام پر چینی، شکر اور گُڑ کا شیرہ ملتا ہے، 
٭   -                       بلوچستان میں جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں ۔ بشرطیہ کہ میلوں سفر کے بعد اگر کوئی گھاٹ مل جائے۔
٭   -                       بلوچستان کے ایک بائیس گریڈ کے افسر کے گھر سے ایک ارب روپے کے قریب کیش برآمد ہوا اور اس افسر کے صرف ڈیفنس کراچی میں اب تک آٹھ بنگلے دریافت ہوچکے ہیں۔
٭   -                       عوام کو علاج کے لیے ہسپتالوں سے دو دو سال بعد کا ٹائم ملتا ہے اور حکمرانِ وقت دنیا کے بہترین ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے علاج کروانے ملک سے باہر جاتا ہے، پیچھے سے یہی عوام اس کی صحتیابی کی دعائیں کرتے ہیں اور اس کی ملک واپسی پر تیس کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ 
٭   -                       اس ملک میں بھتہ ناملنے پر انسانوں نے ہی تین سو انسانوں کو زندہ جلادیا لیکن لوگ اب بھی اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔
٭   -                        ہمارے ملک میں جان بچانے والی ادویات بھی جعلی بنتی ہیں، ٹھیکیدار تعمیرات میں ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں اور زلزلوں سے مرنے والے لوگوں کو اللہ پر ڈال دیا جاتا ہے، ٭   -                       پچھلے سال خبر آئی تھی کہ قائدِاعظم کے مزار کی دیکھ بھال پر موجود عملہ مزار کے نیچے موجود کمروں کو ''جوڑوں'' کو کرائے پردیتا ہے۔
٭   -                        ہمارے لیڈر زانی اور شرابی ہیں اور ہم اُن پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے ، لہذا تجسس مت کرو اللہ پسند نہیں کرتا ۔ 
٭   -                        بچوں سے جنسی زیادتی کے ہوشربا اور ہولناک سکینڈلز تجسس کرنے کی وجہ سامنے آتے ہیں،  
٭   -                        تجسس کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں سے مُردوں تک کو نکال کر ذاتی معاملات کی ہوس مٹائی جاتی ہے۔ 
٭   -                        تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔

٭   -                        میٹرک میں 60 فیصد نمبر لینے والے طالبعلموں کو کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا ۔

٭   -                        ہمارے طالبعلم کوانگلش پڑھائی جاتی ہے جب وہ بی اے پاس کرتا ہے تو اُس کی انگریزی سُن کر انگلش ماسٹر بھی ہنستا ہے اور انگلش ماسٹر کی انگریزی سن کر انگریز اُسے خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچتا ہے کہ یہ کس ملک کی زبان بول رہا ہے !
  ٭   -                       آدھی سے زیادہ آبادی کم خوراکی کی وجہ سے اپنی گروتھ بھی پوری نہیں کرپاتی۔
٭   -                        بے گناہ عمر قید سے زیادہ قید کاٹ کر پھانسی چڑھ جاتے ہیں اور ہماری عدالتیں بعد میں فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ شخص تو بے گناہ تھا۔
٭   -                        دنیا بھر میں رواج ہے کہ کوئی مجرم عدالت جاتے یا آتے وقت احساسِ ندامت سے اپنا چہرہ چھپاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بڑے بڑے سے بڑے مجرم حتٰی کے قاتل بھی عدالتوں کے باہر وکٹری سائن بناتے نظر آتے ہیں۔ 
٭   -                         لوگ اپنی محافظ پولیس سے دامن بچا کر دور دور سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، 
٭   -                        عدالتیں کسی ملک کا وقار ہوتی ہیں اور اس کے عوام کا سہارا ہوتی ہیں لیکن مظلوم دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں کورٹ کچہری سے بچائے۔
٭   -                        ہماری قوم فرقہ واریت میں اس حد تک پیوست ہوچکی ہے کہ ہمارے شہید اور ہیروز بھی الگ الگ ہیں ۔ 
٭   -                        ہمارے ملک میں 73 مذہبی فرقے تو پہلے سے موجود تھے ، لیکن اب تعلیمی لحاظ سے 100 سے زیادہ ایجوکیشنل فرقے بن چکے ہیں ۔

آؤ مل کر خونی انقلاب لاتے ہیں ، ہم سب صرف ایک پتھر اپنے سر پر ماریں ۔ شاید ہمارا خون ہماری تاریخ کی رنگیناں اور ستم ظریفیاں دھو ڈالے ۔ 
 ورنہ آفاقی انقلاب ، ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے تعاقب میں ہے ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔