میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 18 دسمبر، 2016

رضاعت و الرجم

کثیر بن صالۃ کہتے ہیں کہ وہ ، زید بن ثابت اور مروان بن حکیم اس پر بات کر رہئے تھےکہ رضاعت و الرجم والی آیات کو قران میں کیوں نہیں لکھا گیا،؟ 
اچانک عمر بن خطاب تشریف فرماہوئے اور سننے لگے پھر انہونے کہا یہ بات میں زیادہ بہتر جانتا ہوں، اور انہیں بتایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئ تو میں انکے پاس پہنچا اور دریافت فرمایا ،
يا رسول الله أكتبني آية الرجم قال فأتيته فذكرته قال فذكر آية الرجم قال فقال يا رسول الله أكتبني آية الرجم قال لا استطيع ذاك ترجمہ اے اللہ کے رسول، آپ مجھے رجم والی آیت لکھنے کی اجازت دیں ، تو انہونے فرمایا ، میں ایسا نہیں کر سکتا ،
-------------------------------------------------
المستدرك على الصحيحين (حدیث نمبر 8184) کے مطابق
------------------------------------------------- سنہ الکبرا بہقی 8/211 و سنہ الکبرا نسائ حدیث نمبر 7148، البانی (صحیحہ 6/412) کے مطابق بہقی نے اسکو مستند قرار دیا ہے،

بخاری ۔ عربی انگلش والیوم ۔9



 ت سے محروم ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭






خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔