میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 20 دسمبر، 2016

خنزیر کی چربی اور ای نمبرز سٹینڈرائزیشن

ﯾﻮﺭﭖ ﺳﻤﯿﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﮩﻠﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ - ﺍﻥ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ - ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ 42,000 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺎﺭﻡ ﮨﯿﮟ - ﺧﻨﺰﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﺮﺑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﯾﻮﺭﭖ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﭼﺮﺑﯽ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ -
ﺗﻮ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﯽ ﭼﺮﺑﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ؟
ﺗﻤﺎﻡ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﺑﺢ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ - ﺍﻭﺭ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﺧﻨﺰﯾﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ‏( ﺧﺘﻢ ‏) ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺩ ﺳﺮ ﺗﮭﺎ -
ﺳﺎﭨھ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﺍﺳﮯ ﻋﻤﻮﻣﺎ ﺟﻼ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ - ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﯿﮑھ ﻟﯿﺎ -
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غالباً 2000 کے آخر یا 2001 کے شروع میں 

Occupational Safety and Health Administration

کے دوران میں ، ای نمبرز سے متعارف ہوا تھا جو  American Standards Association (ASA)
انٹرنیشنل سٹینڈرائزیشن (جنرک نیم) کا حصہ تھی ۔ جو یقیناً ایک قابلِ شتائش معلومات تھیں ، 

یوں سمجھیں کہ ، ہر کوئی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ہمارے ملک میں کیا کیا چیزیں بازار سے تیار اشیاء میں ڈالی جاتی ہیں ، مثلاً ، چینیوں نے مونگ پھلّی کے اوپر کچھ اشیاء لگا کرکھانے کے لئے مارکیٹ میں بھیجی ہیں ۔

یہ بڑی بیٹی نے لاکر مجھے دیں ،

" اگر برفی یا چم چم کوئی کھانے کی چیز مانگیں تو یہ دینا ، اپنی "پرچونی" مت دینا ۔ بچوں کے پیٹ خراب ہوجائیں گے" 


اب اُس کو کیا معلوم کہ ، چم چم اور برفی کھاتی ہی میری پرچونی ہیں ۔ نہ میرا پیٹ خراب ہوا نہ اُن کا۔

خیر چینی ڈبے پر یہ معلومات ہیں ۔ 
کچھ سمجھ آئیں ؟
مجھے بھی نہیں آئیں ! چلیں میں کلوز اپ دکھاتا ہوں !

ا

لیکن اگر یہی پراڈکٹ امریکن ہوتی تو اِس کین پر ، تمام معلومات ، اِس سٹینڈرڈ کے تحت درج کی جاتیں ۔

 اب اگر ہم E100–E199 (colours) کو بڑا کر کے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا ۔ 


 اب اگر ہم پیلے رنگ  E100–E109 (colours) کو بڑا کر کے مزید دیکھیں ۔ تو معلوم ہو گا کہ، کسی بھی کھانے کی شئے میں ملایا گیا پیلا رنگ ، کس خوراک کی شئے کا جزو ہے ۔


گویا پیلے رنگ کی بنیاد ہلدی ہے اور اُس کا عام فہم نام E100 ہے ۔
جیسے میرا سویلئین نام 4410328480551  ہے ۔ جس سے آپ میری مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں یا فوجی نام 17543 ہے ۔

اب ہم آتے ہیں انگریزوں کی طرف یا یورپی ممالک کی طرف ، کیا ہم پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش والے اُنہیں الو کا پٹھا سمجھتے ہیں ، کہ وہ، 

گُڑ کھائیں اور گُلگُلوں سے پرہیز کریں گے
بلکہ اُلو کا پٹھا تو یورپی ممالک میں پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش سے جانے والے دوغلے مسلمان بنا رہے ہیں ؟

 خنزیز کا گوشت یورپیوں،کی پسندیدہ غذا ہے ۔ جسے وہ خنزیر کو پال کر اور انہیں ذبح کر کے حاصل کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے ہم دنبے یا بھیڑ سے فائدہ لیتے ہیں ۔
چنانچہ ، سور کا گوشت ، ہڈیاں ، چربی،  آنتیں ، کھال ، گوشت ، سری اور پائے سب سے وہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع نہیں کرتے جیسے ہندو، گائے ، بھیڑ بکری و مرٖغی کے چٹ پٹے روسٹ سے لذت کام و دہن لیتے ہیں ۔
یہ کام تو یورپی ممالک صدیوں سے کر رہے ہیں اور سب کو معلوم ہے ۔
اب رہا اسلامی نقطہءِ نظر ۔ اللہ کا حکم
الَّذِينَ آمَنُوا پر روزِروشن کی طرح عیاں ہے ۔ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّـهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿البقرة: 173﴾


تم پر یقیناً مردہ، خون اور لحم الخنزیر ، حرام کر دیئے ہیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 خنزیر کی چربی بیرونی استعمال کے لئے حلال یا حرام

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔