میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 30 دسمبر، 2016

پرانا دور

وہ دور بھی کیا دور تھا ، اُس دور میں ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تھا تو باپ اُسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔

یہ وہ دور تھا جب ”اکیڈمی“کا کوئی تصور نہ تھا، ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے ۔ بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔

لڑائی کے موقع پر کوئی پستول نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ
”میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا،،۔

یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔

اُس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔ بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھنے ٹولیوں میں مسجد کی طرف جاتے ۔ بے طلب عبادتیں ہر گھرکا معمول تھیں۔ ناشتہ اُس وقت تک نہ ملتا جب تک ناشتے سے پہلے ایک سیپارہ نہ ختم ہوتا ۔

کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اُس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ”پروہنے“کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم ہر سال ، مہمان بن کر جاتے ، پانچ سالہ چھوٹی بہن تنگ آجاتی اور احتجاج کرتی کہ وہ ابا کو شکایت لگائے گی کہ ہم بھوکے ہیں دوسروں کے گھروں میں کھانا کھاتے ، کیوں کہ ناشتہ ایک کے گھر ہوتا ، دوپہر کا کھانا دوسرے کے گھر اور شام کا کھانا سب ایک گھر میں جمع ہوجاتے ، خوش ذائقہ کھانے کا مقابلہ ہوتا ، اپنا اپنا کھانا لے کر آتے سب جی بھر کر کھاتے، مجھے یاد ہے کہ مہمان کے کھانے میں زردہ یا کھیر ضرور ہوتی۔ کھیر میں کُترے ہوئے بادام ، کھوپرا اور کشمش کے لئے ضرور کھاتا ۔زردہ بھی کئی رنگ کا ہوتا ۔

جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میں بسے  بستر نکالے جاتے ، پلنگوں کی ادوائن کَسی جاتی ۔
خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکیئے رکھے جاتے ،
مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔
جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے، مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔ اور مہمان کو ٹرین یا لاری اڈے تک چھوڑنا اور ٹھیلے سے فروٹ خرید کر دینا فرض میں شمار ہوتا ۔

شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا، شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا، جس گھر میں شادی ہوتی تھی اُن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے،
لڑکی والوں سے عورتیں پوچھتیں بہن جہیز کے لئے بتاؤ میں کیا دوں ؟
جو جہیز میں حصہ نہ ڈال سکتے وہ گھر میں پڑے ہوئے بڑے کنستر نما غلّے میں حسبِ توفیق رقم ڈال دیتے ، محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔
عید پر سویّاں گھروں میں خود بنائی جاتی ، سویّاں بنانے کی مشین ، کئی گھروں میں چکر لگاتی ۔
کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، بس ہمیں دو فرقوں کا علم تھا سُنّی اور شیعہ۔ ہمارے محلّے کے بخاری صاحب ہم بچوں کو لے کر مجلسوں میں لے کر جاتے۔ابّا اور امی نے کبھی اعتراض نہیں کیا ۔ 

دادی، بس ایک جملہ کہتیں کہ میت کے تین دن بعد رونا اچھی بات نہیں مردے کو تکلیف ہوتی ہے ۔
جس کے گھر میت ہوتی وہاں چالیس روز تک چولہا نہ جلتا اور نہ وہ بھوکے سوتے ۔ باریاں بندھ جاتیں ۔
ہر محلے میں ایک اماں حجن ضرور ہوتی جو حج کر کے اِس رتبے پر پہنچتی، جس سے حج کا آنکھوں دیکھا حال عورتیں سُنتی اور دل میں حج کی خواہش بیدار رکھتیں ،

سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دُکھ ایک جیسے تھے ، سب غریب تھے، سب خوشحال تھے۔

کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔

دوکاندار کو کھوٹا سکّہ چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ ہوتا تھا ۔

آج کھوٹے سکے تو ملتے ہی نہیں، کیونکہ اب کھوٹے انسانوں کادور ہے،  جو کھوٹاہے، وہی خوب چلتا ہے اصل کو کوئی پوچھتاہی نہیں!
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔