میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 18 دسمبر، 2016

کام چور بچے سے حرام خور مولوی تک



پاکستان کے گاؤں دیہاتوں ، یہاں تک شہروں میں بھی
 "جہاں جہالت کا اندھا، ننگا اور دنگا راج ہے"
 وہاں کے گھروں میں جو بچہ کاہل، کام چور ڈفر، حرام خور اور انتہائی درجے کا نکھٹو ہوتا اس کا باپ اس کو کان سے پکڑ کر تشریف پر لاتیں مارتا گھسیٹتا قریبی مسجد کے چوبارے پر باندھ کر، مُلاّ کے حوالے یہ کہہ کر کرتا ہے۔
"اعلیٰ حضرت ، چمڑی آپ کی اور ہڈیاں میری"
اسکے بعد دس سال تک کیا ہوتا ہے ؟
وہ اس بچے کے ورثاء کے علاوہ تمام دنیا خوب جانتی ہے مگر اس ہونے کا براہ راست اثر ہمارے معاشرے پر پڑتاہے جو اندر سے ناسور کی طرح قوم کے پڑھے لکھے لوگوں کے دماغوں کو بھی سڑاتا جاتا ہے ۔
اپنے جیسے پست و سازشی ذہنوں کے درمیان پرورش پایا ہوا یہ جادوگر ، اپنے ناقص علم کی ڈگڈگی بجاتا ، قوم کو اپنے پیچھے لے کر چلتا ہے افسوس اس بات کا ہے کہ اچھے اچھے پڑھے لکھے ذمہ دار افراد ان نکھٹو بچوں کے سامنے اپنے ٹھوڑیوں کے بل گرکر روتے نظر آتے ہیں۔
روز مرہ کی زندگی کے ہر معاملے کو عقل و شعور کے ساتھ باریکی بینی سے پرکھنے والے افراد اگر کسی معاملات میں عقل استعمال نہیں کرتے تو وہ ایسے مذہبی مسائل ہیں، جو لڑائیوں کے سواء کسی بھی اچھی بات کو جگہ نہیں دیتے ، جن کو سمجھنے اور سمجھانے کا مکمل ٹھیکہ انہوں نے، اِن کُند ذہن بچوں کے حوالےکیا ہوا ہے۔
گویا کہ وہ ، اِن بچوں سے بھی گزرے ہوئے ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔