میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 5 دسمبر، 2016

بوڑھا کارپینٹر


کل میں ، فواد ، مسز فواد اور چم چم ، سٹی صدر روڈ گئے ، پرسوں میں بنّی کی طرف سے سٹی صدر روڈ میں داخل ہوا تو مطلوبہ جگہ پورے ایک گھنٹے میں پہنچا ، لہذا میں نے فواد کو کہا کہ لیاقت پارک کی طرف سے چلتے ہیں ۔ وہاں کیوں جانا ہوا ؟
گالف کھیلنے کے بعد میں نے فواد کو کہا ،
" یار ! بنّی کی طرف جانا ہے وہاں سے دس فٹ لمبے گولے (لکڑیاں) لانی ہیں !
" کیوں " اُس نے پوچھا ۔
" میں نے ہر میجسٹی سروس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ، کپڑے ٹانکنے کی ایک الماری بنائی ہے ، اُس کے لئے لکڑی کم پڑ گئی ہے وہ لانی ہے "۔
" تمھارے گھر میں الماری نہیں ؟" اُس نے پوچھا ، " اور تم بنا لوگے ؟ بازار سے کیوں نہیں بنواتے ؟ بنی بنائی ملتی ہیں !"
" ہر کمرے میں الماری ہے ، لیکن استری شدہ کھڑے کپڑے نہیں لٹکائے جاسکتے جو اب وقت کی ضرورت ہے ۔
جی میں بنا چکا ہوں ؟
بازار سے پوچھا تھا ، تو جواب ملا کہ چھ فٹ اونچی اور پانچ فٹ چوڑی الماری ، مبلغ پندرہ ہزار روپے میں بنے گی اور میں صرف 3450 روپے میں مکمل الماری بنا چکا ہوں ، دو لکڑیاں 360 روپے کی لینا ہیں ۔ اور 3810 روپے میں پندرہ ہزار کی الماری تیار "
" اچھا ، اتنی سستی ، یار یہ کارپینٹر بڑا لوٹتے ہیں " وہ بولا " تم مجھے ایک ڈرائینگ بورڈ کی طرح ٹیبل بنا دو ، رانی (مسز فواد ) نے اُس پر آرٹ ورک کرنا ہے "
" نو پرابلم ، یہ تو کوئی کام نہیں " میں نے جواب دیا

ہم راجہ بازار کی طرف سے داخل ہوئے چوک فوارہ شروع ہوتے ہی ، ٹھیلے اور ھتھ گاڑیوں نے سڑک روکی ہوئی تھی ، جو پٹھان بچوں کی چلتی پھرتی ڈرائی فروٹ اور پرچونی کی دکان تھی ، ٹریفک کا سپاہی آتا تو وہ تھوڑا آگے بڑھ جاتے اور پھر چوک کے پاس آجاتے، کیوں کہ چوک کے پاس بکری زیادہ ہوتی، یوں اپنی روزی کماتے ہیں ، منافع یہ بھی خوب لیتے ہیں ۔
کل میں نے ایک بچے سے خشک انجیر کے بارے میں پوچھا تو قیمت اُس نے 400 روپے کلو بتائی ، جبکہ یہی انجیر میں نے اور فواد نے ہفتے کی شام گالف کھیلنے کے بعد ادریس بُک بنک کے سامنے سے ، 900 روپے کلو کے حساب سے بیچنے والے ، پٹھان بچے سے ۔ 800 کے حساب سے  آدھا آدھا کلو خریدے جو اُس کا ہم پر احسان تھا کیوں کہ ہم نے تھوک میں خریدے تھے ،جبکہ وہ 20 روپے میں 20 گرام کی سیل زیادہ کر رہا تھا ۔
جس پر فی کلو 1000 اُس کی جیب میں پہنچ رہے تھے ۔ یعنی راجہ بازار والے سے وہ 600 روپے زیادہ کما رہا تھا ۔

ہم سب رو رہے ہیں ، کہ حکومت عوام کو لوٹ رہی ہے ۔ جبکہ میرے خیال میں عوام ہی عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔

کل جب میں الماری کے لئے 6 فٹ ضرب 4 فٹ، شیٹس کٹوا کر اپنی کار میں لے کر آیا ۔ جس پر میرا 200 روپے کا پیٹرول خرچ ہوا ۔ لیکن سوزوکی والا اُسی سامان کے 2 ہزار روپے مانگ رہا تھا ۔ میں نے کہا 1000 لے لو وہ نہیں مانا !

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کار پر کیسے لایا ؟
آپ بھی حیران ہوں گے نا ۔
کہتے ہیں ، " ہمت کے لئے راستے ہزار "
میں نے کار میں پڑے رینچ کی مدد سے ، کار کی پچھلی سیٹ ، ڈکی اور کار کے درمیان کا پردہ ہٹایا اور 6 فٹ لمبی چادریں ڈکّی کی طرف سے کار میں ڈال دیں ۔
جب میں کار کی سیٹ کھول رہا تھا تو سوزوکی والا 1500 میں جانے کے لئے تیار ہوگیا۔
شائد وہ سمجھ گیا تھا ، کہ بوڑھا بابا ، سامان مُفت لے جانے کے موڈ میں ہے ، لیکن بوڑھا نہ مانا، بس یوں سمجھو کہ بوڑھا " جذباتی" ہو گیا تھا ۔
پورے راولپنڈی میں دکانداروں کا، سب سے زیادہ ظلم یہ ہے کہ دکان کے سامنے چھ فٹ سڑک گھیر کر دکانداروں نے اپنا سامان باہر پھیلا رکھا تھا ۔
فواد ، مسز فواد امریکن شہری ، پنڈی کے رہنے والے ۔ فواد نے گاڑی جے آئی بی بنک کے سامنے،ہتھ گاڑیوں کی دکان کے سامنے روکی ۔ تو دکاندار فوراً اُٹھ کر آیا ، کہ گاڑی دکان کے سامنے نہ کھڑی کریں میری دکانداری خراب ہوتی ہے ، میں نے کہا اور کہیں پارکنگ کی جگہ نہیں ، ہمارا دس سے پندرہ منٹ کا کام ہے ۔
مصر ہوا کہ اچھا آگے خالی جگہ پر لے جائیں ۔
" وہ راستہ ہے " ۔ میں نے جواب دیا
خیر میں ڈھٹائی کرتے ہوئے ، فواد کے ساتھ چپ بورڈ کی دکان کی طرف بڑھا، وہاں سے ،فواد کی ٹیبل اور اپنی الماری کے لئے، لکڑیاں لیں ، آرے کی دکان سے پلائی وڈ کا پیس 300 روپے میں ، میز کے لئے لیا ۔
گاڑی میں رکھوایا ، تو دکاندار کا باریش ملازم آیا اور کہنے لگا ،
" سر آپ کی گاڑی کی وجہ سے ، روڈ بند ہوگئی ہے اور لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے "
" آپ تبلیغی ہو ؟ " میں نے پوچھا
" جی الحمد للہ " وہ انکساری نما فخر سے بولا ۔
" اللہ نے ایک حکم دیا ہے ، آپ کو سناؤں ؟ " میں نے پوچھا
" جی ضرور ، سر مجھے خوشی ہو گی "  وہ بولا ۔

  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ [61:2]
یہ کہہ میں نے آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھا ، تو یک دم بولا ۔
" سر کچھ لوگوں کا خیال کریں اور گاڑی ہٹا کر انہیں گذرنے دیں !"
" غالباً ، آپ کو اللہ کی آیت سمجھ نہیں آئی " میں بولا
" جی وہ ترجمہ بتا دیں " اُس نے خجل ہو کر کہا ۔
" نوجوان ، اللہ آپ سے مخاطب ہے ، کہ اے ایمان والے ، تو وہ بات کیوں کہتا ہے جو خود نہیں کرتا !" میں نے سمجھایا
" اگر آپ اپنی یہ باہر پڑی ہوئی چیزیں جو عوام کا راستہ روک رہی ہیں، اپنی دکان میں رکھ دیں تو سڑک بہت کھلی ہوجائے ، اور تمام گاڑیاں آسانی سے گذر جائیں ۔ کیا سمجھے ؟ "



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔