میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 25 جنوری، 2017

اللہ کے نزدیک ، سنت کے دو ناقابلِ تبدیل مآخذ -حصہ 1


لیکن صبر ، حتمی رائے دینے سے پہلے اِس مضمون پر نظر ڈالیں ۔
الکتاب ، میں سُنّت کا ذکر اُس فہم میں نہیں جو مسلمانوں میں غلط العام ہے ، لیکن "سُنّت اللہ " کا ضرور ذکر ہے ۔ جو پہلے گذرے ہوئے لوگوں پر صادق ہوچکی ہے ۔ 
 قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ إِن يَنتَهُواْ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُواْ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينِ [8:38]
 اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [35:43]
 فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ [40:85]

چونکہ مسلمانوں نے رسول اللہ کو بھی گذار دیا ہے ، جبکہ یہ آیت اب بھی محمد رسول اللہ کی حیات کا ثبوت دیتی ہے ۔
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ [3:114]
لہذااُنہوں نے بھی پلٹا کھا کر ، اللہ کی سُنّت کو رسول اللہ سے موسوم کر دیا ہے۔  جب کہ سُنّت ہمیشہ اللہ کی ہی رہے گی ۔ رسول اللہ سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں کی ۔

 مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا[33:38]
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے  کو پہلے بتا دیا ہے کہ اگر  میں شامل ہونا ہے تو اِس آیت پر کٗل ایمان لانا ہے ، وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ﴿2:4
جبھی اللہ نے رسول اللہ کو کہلوایا ۔ جسے آپ سُنّت اللہ کہہ سکتے ہیں  جو محمد رسول اللہ سے قبل مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا کی ہیں ۔ جو کتاب من اللہ کے مطابق ، بعد از خدا ہیں ۔ کیوں کہ خلیل اللہ ہیں اور محمد رسول اللہ کے ابی ہیں بشمول مسلمانوں کے !اِس آیت پر عمل سے رسول اللہ میں اللہ نے وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ کے ذریعے ، عملی تبدیلی کروانے کے بعد الْمُسْلِمِينَ میں أَوَّلُ قرار دلوایا -
 
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿6:161
قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿6:162

لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿6:163
 
حقیت یہ ہے کہ ہم جب بھی الکتاب کھول کر القرآن کرتے ہیں تو رسول اللہ ہم پر القرآن کی تلاوت کرتے ہیں ، جو ہمارے لئے ناقابلِ تبدیل سُنّت ہو چکی ہے ۔ یعنی الکتاب ، کی تلاوت اور اُس پر عمل ۔ جو کہ اسوہءِ رسول اللہ ہے اور حسنہ ہے ۔ 

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ﴿33:21
 
باقی تمام انسانوں کی سُنّت ، " غیر حسنہ " ہے ، وہ اِس لئے کہ کوئی بھی انسان ، رسول اللہ کے عملی مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا ۔ نہ امامِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، 

لیکن اِس کے باوجود اللہ نے اُسے میرے فہم کے مطابق  شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ  قرار دیا ہے ۔ تاکہ مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا  کے لئے اتمامِ حجت نہ رہے !

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿2:150





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔