میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 5 جنوری، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 43- دوسرا حصہ


جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ زین العابدین ساڑے نو سو انگریزی میل کا فاصلہ طے کر کے کربلا کےمیدان میں پہنچے ہر گز اس قدر بیمار نہیں تھے کہ باہر ان کے اہل خاندان جنگ و جدل میں مصروف ہوں اور وہ خیمے کا پردہ ہٹا کر بھی نہ دیکھ پائیں کہ باہر ہو کیا رہا ہے؟

انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ مناظر کہ جب حسین اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں (65 کوفی اور چند مسلم بن عقیل کے بھائی ) نے سرکاری فوجیوں پر حملہ کیا اور ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے کہ وہ لوگ جو نواسہ رسول کے احترام میں ان کے خلاف تلوار نہیں اٹھا رہے تھے ان کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے قتل کرنا شروع کیا تھا ابو محنف کی ہی روایت کے مطابق کہ وہ لوگ آپ کے سامنے سے بھاگتے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے منتشر ہوتے ( ابو محنف کے الفاظ میں شیر کے آگے گورخر اور بھیڑئیے کے سامنے سے بھیڑوں کا گلہ ) یہ سب اس وجہ سے تھا کہ ایک تو انہیں جنگ کی اجازت نہ تھی اور دوسرا احترام نواسہ رسول اور جب دفاع میں ہتھیار اٹھانے کا حکم ملا تو وہ بھی یہ کے حسین کی حرمت کا خیال رکھا جاۓ اور ان پر کوئی تلوار نہ اٹھے اور جب یہ حکم ملا تو آدھے گھنٹے کے اندر سارا کھیل ہی ختم ہو گیا .
زین العابدین نے یہ سارا ظلم اور بر بریت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی اسی لئے ان کا رویہ کربلا کے بعد ایسا تھا کہ اپنے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ امیر یزید کی بیعت کی اور اس پر ہمیشہ قائم رہے اور اگر انہوں نے ڈر اور مجبوری میں ایسا کیا ہوتا تو ابن زبیر کی بغاوت کے نتیجے میں جب یزید کے پورے خاندان کو شہر بدر ہونا پڑا تو اپنے باپ کے قاتلوں سے انتقام لینے کا اس سے بہتر موقعہ ان کے پاس اور کیا تھا ؟
وہ ابن زبیر سے بیعت کرتے اور عبید الله بن زیاد ، عمر بن سعد اور یزید کے پورے خاندان کا صفایا کر سکتے تھے اور کمزور سے کمزور آدمی بھی اپنے باپ کے قاتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا .

اب ان حضرات کی منافقت پر ذرا غور کرو کہ اگر امیر یزید شرابی تھے ، فاسق و فاجر تھے اور اسلام کو ان کی ذات سے بہت بڑا خطرہ تھا تو تم حضرت حسین کی سنت پوری کرنے کے لئے میدان میں کیوں نہیں اترتے ذوالفقار علی بھٹو جس نے لاکھوں کے مجمے میں اپنے شرابی ہونے کا اقرار کیا - اس کے دور سے لے کر آج تک تم نے ہر فاسق و فاجر اور بے دین اور کرپٹ حکومت کا ساتھ دیا صرف تھوڑے سے دنیاوی مفاد کے لئے ، کبھی تو حسین کی سنت پوری کر دی ہوتی .اور حسین نے جان دے کر ایسا انوکھا کیا کام کر دیا جو ان سے پہلے اسلامی تاریخ میں کسی نے نہیں کیا مسمانوں کی تو تاریخ ہی ان جانی قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور کیا ان کی قربانی سے اسلام زندہ ہوا ( جو ان کے بقول مردہ تھا ) کہ واقعہ کربلا سے لے کر آج تک مسلمان شیعہ اور سنی میں تقسیم ہیں اور ہزاروں نہیں لاکھوں آدمیوں کی جانیں جا چکی ہیں .صد افسوس ہے اس ہٹ دھرمی پر .اور سنو الله کا فرمان :- يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيْمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [49:17]

  یہ لوگ تجھ پر احسان جتلاتے رہتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں۔ کہہ : تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتلاؤ بلکہ ﷲ تم پر احسان فرماتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا ہے، بشرطیکہ تم (ایمان میں) سچے ہو!
  إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [9:111]
   بیشک ﷲ نے الْمُؤْمِنِينَ سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید لئے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، سو وہ قتل کرتے ہیں اورقتل کئے جاتے ہیں۔ اور اُس پر یہ وعدہءِ التَّوْرَاةِ اورالْإِنجِيلِ اورالْقُرْآنِ، میں حق ہے  اور کون اپنے وعدہ کوﷲ سے زیادہ ایفاء کرنے والا ہو؟  سو جس کے ساتھ تم نے بیعت کی ہے اور جس نے تمھارے ساتھ اِس کی بیعت کی ہے، پر خوشیاں مناؤ اور یہی تو زبردست کامیابی ہے

 ( اور خوشیاں منانے کی بجاۓ تم کیا کرتے ہو ).

اور اگر غور کرو تو بہت ہی سستا معاہدہ ہے کہ جان اور مال تو دی ہوئی تمھارے ربّ کی ہے وہ جب چاہے اسے چھین لے اور تم اسے قربان کر کے جو حاصل کرو گے اس نعمت کا تصور تم اس دنیا میں رہ کر نہیں کر سکتے .ورنہ ایک گاڑی کے نیچے کچل کر بھی مر سکتے ہو .
اور بقول تمھارے یہ سب تو اُن کی قسمت میں لکھا تھا۔ جس کا اُن کے بچپن میں ذکر اُن کے نانا نے کردیا تھا ۔  جسے ہر حال میں سچ ہونا تھا ۔

اور صاف ظاہر ہے کہ حسین جیسے غیرت مند انسان جان نہ دیتے تو کیا کرتے ؟.
ان کی تین شرطوں پر غور کرو جو انہوں نے گورنر کوفہ اور ان کے افسروں کو پیش کیں اور ان کا تجزیہ کرو.
نمبر ایک :- مدینہ واپس جانے دیا جاۓ .
یہ کس قسم کے مردہ اسلام کو زندہ کیا جا رہا تھا کہ جب یقین ہو گیا کہ پوری امت یزید کی خلافت پر متفق ہو چکی ہے اور آپ کے ساتھ آپ کے اہل خاندان بھی پورے نہیں تو واپسی کی سوچ کس بنا پر اور کیوں کر ذہن میں آ سکتی ہے
اور مسلم بن عقیل کے بھائی اور کوفی اس میں رکاوٹ کہ وہ ساری امت کے بر خلاف حسین کا ساتھ دینے والے تھے اب مدینہ پہنچ کر وہ تو کسی صورت نہ بچ پاتے اور حسین کو تو کوئی ہاتھ بھی نہ لگاتا .اور دوسرے یہ کہ حضرت حسین نے پوری امت ، کیا آپ کے بھائی ، رشتہ دار ، صحابہ اکرام جو ان کو اس اقدام سے روکتے رہے سب کی نصحتیں ٹھکرا کر خروج کیا تھا اب مدینہ پہنچ کر کس قدر سبکی اٹھانی پڑتی یہ تو وہی جان سکتے تھے . اب اپنے حسب نسب اور غیرت مندی کی بنا پر یہی سوچا کہ امیر یزید خود چل کر کربلا آئیں اور بیعت لیں ، عبید الله بن زیاد کے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہیں کریں گے اور اس پر موت کو ترجیح دیں گے .اس طرح سے ان کی عزت بحال رہ سکتی تھی .مگر جب ہتھیار ڈالنے کے لئے فوج نے گھیرہ ڈالا تو یہ تو ان کی نظر میں اس سے بھی زیادہ توہین آمیز بات تھی کہ گرفتار کر کے مدینہ لے جایا جاۓ اس لئے اپنے موقف سے پھر کر جان دینا ہی مناسب سمجھا .
دوسری شرط :-
یا اسلامی مملکت کی سرحد پر جانے دیا جاۓ اور وہاں مجھ سے جہاد کیا جاۓ .یہ اپنے موقف سے ہٹ جانے کے بعد چھٹکارے کی دوسری کوشش تھی .سوچنے کی بات ہے کیا دنیا میں ایسے کسی جہاد کی مثال ملتی ہے کہ میں یہاں نہیں لڑنا چاھتا فلاں جگہ پر جا کر مجھ سے لڑو .اور اس میں جو حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی سنئیے.اسلام دشمن طاقتیں تو کب سے اس اسلامی عظیم مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے لئے پر تول رہی تھیں اور نواسہ رسول کے ساتھ مل کر اسلامی مملکت پر حملہ کرنے سے تو ان کا خواب ہی پورا ہو جاتا خاص طور پر ایرانیوں کا کہ جو مسلمان ہونے کے با وجود اپنی مجوسی اور شخصیت پرستی کی رسموں پر قائم تھے ( اس کے لئے گیری واکر کی تحریر " ایرانیوں کی حضرت علی اور حسین سے عقیدت و محبت کی وجہ " کا ضرور مطالہ کیجیئے .صاف ظاہر ہے کہ اس طرح سے " ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے " والی بات ہوتی کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے .کہ اگر ہمیں خلافت نہیں ملی تو تم کو بھی آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے.
تیسری شرط :- یہ شرط عام طور پر راوی بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ یا مجھے دمشق جانے دیا جاۓ تا کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں .
اور وہ جو بھی فیصلہ کرے .اور زین العابدین واقعہ کربلا کے بعد لوگوں کو کیا بتاتے اپنے والد ماجد کے ظلم و ستم کی داستان سناتے یا ان کے اپنے ہی موقف سے ہٹ جانے کی وجہ بتاتے اس لئے وہ خاموش رہے اور واقعہ کربلا کے ان عینی شاہد سے کسی قسم کی کوئی روایت اس بارے میں کسی بھی تاریخ میں مذکور نہیں بس یہی کہا گیا کہ وہ بیمار تھے اور انہوں نے کچھ نہیں دیکھا.( علی بن الحسین زین العابدین کا موقف جاری ہے اگلی قسط میں دیکهیئے)


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔