میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 1 جنوری، 2017

جلسہ و تقریر


ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 150 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچا تو دیکھا کہ صرف ایک کسان اُس کی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔
اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگا۔

،
بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں- ؟
کسان بولا 
"صاحب میرے گھر پر بیس گدھے ہیں۔"
اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں،؟

اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟؟

کسان کا جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔
تقریر ختم کرنے کے بعد، اُس نے   کسان سے کہا
تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی،، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟

 
کسان بولا،، صاحب، اُنیس گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس گدھوں کا چارہ، ایک گدھے کے آگے ڈال دِیا جائے۔۔۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔