میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, جنوری 1, 2017

تازہ مچھلی

 ایک فورم پر یہ پوسٹ دیکھی ، تو ایک پرانا مزاح یاد آگیا ۔

اِس دکان پر تازہ مچھلی دستیاب ہے !

ایک نوجوان المعروف چیچی پہلوان نے ، بازار میں مچھلی بیچنے کے دکان خریدی وہاں سے ایک بزرگ کا گذر ہوا ۔
اُس نے بورڈ پڑھا اور
چیچی پہلوان کی طرف بڑھا ۔

بزرگ : "چیچی مبارک۔ ہو مچھلی کی دکان ڈال لی ہے "

چیچی پہلوان نے مچھلی کے کھپچے اتارتے ہوئے منکسرانہ آواز میں جواب دیا ۔

چیچی پہلوان: " جی شاجی بس آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔ "

شاجی : " کام تو بہت اچھا کیا ہے ، بورڈ بھی خوبصورت بنوایا ہے اور مچھلی کی تصویر بھی جاندار ہے ۔ ۔ ۔  
لیکن ۔ ۔  !!!!"
" لیکن ! ! !  کیا شاجی ؟ "
چیچی پہلوان، پریشانی میں ھاتھ روک کر بولا ۔
شا جی : چیچی یہ بورڈ کس سے بنوایا ہے  ؟

چیچی پہلوان: شاجی، فائن آرٹ والے زیدی صاحب سے ، بہت اچھا کام کرتے ہیں ، بس انہیں بتایا تھا اُنہوں نے بنا کر خود ہی لا کر لگا دیا ۔
شا جی : ھاں ھاں بہت ہنر ہے اُس کے ھاتھ میں، پر   " اِس دکان پر" اچھا نہیں لگتا  ۔

چیچی پہلوان: شاجی وہ کیوں ؟

شا جی : دیکھو نا ، اِس پوری گلی میں ، کیا مچھلی کی کوئی اور دکان بھی ہے ؟

چیچی پہلوان: شاجی وہ کیوں ؟
 شا جی :  جب صرف اِسی دکان پر مچلی ملتی ہے تو یہ لکھوانا ، " اِس دکان پر " اردو قواعد کے حساب سے غلط ہے ۔ باقی تمھاری مرضی ۔

شاجی محلے کے پرائمری سکول میں اردو 40 سال سے پڑھا رہے تھے اور چیچی پہلوان کو بھی اردو پڑھانے کی پوری کوشش کی ۔ چناچہ چیچی پہلوان نے ، مچھلی کی صفائی روکی اور سیڑھی منگوا  کر " اِس دکان پر " رنگ لگا کر چھپا دیا - 

 کوئی گھنٹے بعد چیچی پہلوان کی دُکان کے سامنے سے ، حساب کے ٹیچر شیخ صاحب کا گذر ہوا ۔

 شیخ صاحب :چیچی کبھی تو عقل کی بات کیا کرو !
چیچی پہلوان: جی ماسٹر صاحب ۔ شیخ صاحب : چیچی، یہ " دستیاب ہے" کیا ہوتا ہے ؟ کبھی تم خالی ہاتھ بھی دکان کھول کر بیٹھو گے ؟

یہ کہہ کر شیخ صاحب اپنی راہ لئے ، چیچی نے سیڑھی لگائی اور " دستیاب ہے" پر رنگ پھیر دیا ۔  
عصر سے پہلے ، اسلامیات کے ٹیچر سید برکت حسین کا گذر ہوا ، اُن کے بھانجے سید کریم حسین بخاری ، کی چوک میں مچھلی کی دُکان ہے ، وہ بورڈ دیکھ کر رکے اور غصے میں کھولتے دکان میں داخل ہوئے ، 

 سید برکت حسین :ناہنجار،  کم بخت ، دوسروں پر تہمت لگانے کی تیری عادت بنتی جا رہی ہے ۔

چیچی پہلوان: جج جج جی سید صاحب ۔
چیچی کو اپنی کمر پر ماسٹر صاحب کا بید سے ، پوری اسلامیات و اخلاقیات و دینیات کا ریکارڈ بنانا یاد آ گیا ، وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا ۔
 

چیچی پہلوان: جی سیّد صاحب حکم ، سیّد صاحب

سید برکت حسین : کیا تم  سید کریم حسین بخاری کو دھوکہ باز سمجھتے ہو !

چیچی پہلوان: سیّد صاحب، توبہ توبہ میں ایسا گناہ کسیے کرسکتا ہوں ۔

سید برکت حسین : کیا تم  سید کریم حسین بخاری کو باسی مچھلی فروخت کرتے ہوئے دیکھا ؟
چیچی پہلوان: نہیں سیّد صاحب!

سید برکت حسین : تم نے بورڈ پر یہ کیوں لکھا کہ صرف تم ہی " تازہ مچھلی " بیچتے ہو ، تمھیں شرم نہیں آتی یا وہ بھی بیچ دی ہے ؟  

 چیچی پہلوان نے ماسٹر صاحب کے سامنے ، سیڑھی لگائی اور بورڈ پر لکھے ہوئے آخری لفظ پر رنگ مَل دیا ۔ اور ماسٹر صاحب کے جانے پر " سکون " کی سانس لی ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔