میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 11 جنوری، 2017

بھارتی فوجی کی درد بھری فریاد

سنو دوستو اک دکھ کی کہانی
بھارتی فوجی کی درد بھری فریاد
اک دکھی بھارتی فوجی کی زبانی

میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے

سب کو کہتے دیکھو وہ خوبصورت پہاڑیاں
ایسی  اب جنت  تم کو ملے گی اور کہاں
نوکری روٹی کی خاطر کی مگر روٹی کہاں
دال روٹی کو ترستے تھے ہمارے نوجواں
میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے


بیچتے تھے راشن ہمارا افسر وہاں
ہم کو دیتے تھے فقط مُنگریاں  
دیش والو تم کھائی ہیں یہ پھلکیاں
پردھان منتری کو دے دو یہ میرا بیاں
  میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے
دوستو تم دیکھنا سچ بولنے کا  اچھا صلہ
تیج بہادر کو بس  اب  جیل  کا بستر ملا
پلٹون کا لنگر کا کمانڈر تھا میں وہاں بنا 
جیل میں  یادیو کو پلمبر کا عہدہ  اب ملا 
 میں تو ماتا بھاگ آیا ہوں محاذِ جنگ سے
https://youtu.be/smzWu5Xpidw 
شعروں سے مزیّن - وڈیو دیکھنے کے لئے تصویر یا نیچے لنک پر کلک کریں !

https://youtu.be/smzWu5Xpidw


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔