میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 13 جنوری، 2017

بڑھیا زندہ باد !

چھوٹی بیٹی ، کیپٹن عروضہ بنتِ نعیم نے ، ایجوکیشن کور آفیسر - مِڈ کیرئیر کورس میں پہلی پوزیش حاصل کر کے ، بوڑھے اور بڑھیا کو خوشیوں سے بھر دیا ہے ۔

کیا آپ یقین کریں گے، کہ آرمی پبلک سکول کوئیٹہ میں ، عروضہ نے پہلی سے آٹھویں تک پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ بلکہ آرمی پبلک سکول اٹک اور ایف جی گرلز سکول میں بھی یہی اعزاز برقرار رکھا ۔ 
تقریروں ، انگلش اور اردو میں پہلی ، دوسری اور تیسری کلاس میں لگاتار پہلی پوزیشن لینے کے بعد ، جونیئر سیکشن میں ، اُسے مزید تقریروں سے روک دیا گیا ، تو اُس نے چوتھی اور پانچویں کلاس میں نعتوں میں پہلی پوزیشن حاصل کیں ۔
چھٹی اور ساتویں کلاس میں اُس نے ، انگلش اور اردو تقریروں میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ۔ پھر اٹک میں اُس نے اپنی تقریروں ، نغموں ، نعتوں کا لوہا منوایا ۔

نہ صرف وہ بلکہ میرے باقی تینوں بچوں نے بھی ، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی پہلی پوزیشنزاپنے پاس رکھیں ، اور تعلیمی میدان میں بھی وہ اول اور دوئم پوزیشن پر رہے ۔

لیکن گھر میں بچپن سے یونیورسٹی تک کی پہلی پوزیشن کا ریکارڈ عروضہ کے ہاتھ میں رہا ۔ 
میں بس یہی کہوں گا کہ ، " بڑھیا زندہ باد " 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔