میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 15 جنوری، 2017

پہلی یا چوتھی ، بیوی ؟

 پہلی بیوی اور پہلی گاڑی عموماً تجربہ حاصل کرنے کے کام آتی ہیں ، پہلی گاڑی مزدا 1979 بھی ہو تو پجارو 2016 لگتی ہے-
 اسٹیئرنگ دونوں ہاتھوں سے پکڑا  ہوتا ہے اور نظر سامنے سڑک پر ہوتی ہے ، پھر جوں جوں تجربہ ہوتا ہے تو توجہ ڈرائیونگ سے ہٹ کر ساتھ سے گزرنے والی گاڑیوں کی طرف ہوتی جاتی ھے ، اسٹیئرنگ بھی ایک ہاتھ کے تابع ہو جاتا ہے ۔
ڈینٹ سارے پہلی گاڑی کو پڑتے ہیں اور جب گاڑی چلانے کا سلیقہ آتا ہے تو نئی گاڑی آ جاتی ہے ، اسی طرح پہلی بیوی جیسی بھی ہو ہیر ہی لگتی ہے ۔ اور پانچ دس سال نظر اُس سے نہیں ہٹتی ۔
مرد کی  ساری بیوقوفیاں ، نفسیاتی اور جذباتی حماقتیں پہلی بیوی برداشت کرتی اور کوچنگ کرتی ہے-
بچت کرتی ہے اوربچت کر کے مالی طور پر مرد کو پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتی ہے -
جب مرد کو بیوی رکھنے کا سلیقہ آتا ہے تو سوچتا ہے ، یہ بھی کوئی رکھنے کی چیزہے ؟
جب تک سمجھ لگتی تین چار بچے پیدا ہو جاتے ہیں ۔
یوں چخ چخ میں عمر کے پچاس سال بیت جاتے ہیں ،22 یا 23 سال میں شادی کر لینے والوں کے بچے باپ کی عمر کے 42 ویں سال میں باپ کے برابر پہنچ جاتے ہیں اور بیوی ایزی ہو جاتی ہے-
لیکن اُس یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہی وقت آنکھیں کھولنے کا ہوتا ہے ، وہ شوھر کو گھر کی مرغی سمجھتی ہے جبکہ وہ محلے کا مرغا ہوتا ہے ،  عین جس وقت عورت بچوں کی فکر میں غرق ہوکراپنے آپ سے غافل ہو جاتی ہے۔ شوہر ترقی کرتا کرتا وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں اُس کے اردگرد پھرنے والیاں ، بیوی کے مقابلے میں ،الپسرائیں دکھائی دیتی ہیں اور شوہر کو جمعے کا وہ خطبہ بھلا لگنے جس میں مولوی ، شرعی بیویاں رکھنے کا بیان رپیٹ ٹیلی کاسٹِ اِس فصاحت و بلاغت سے کرتا ہے  اور نکاح کو اتنا آسان بتاتا ہے جتنا بازار سے جاکر پوشاک خریدی جاتی ہے ،
تب شوھر پر دوسری شادی کا دورہ پڑتا ہے۔  

یہ دورہ 40 سے 50 سال کی عمر کے دوران پاگل پن کی حد تک ہوتا ہےاور اس کو " Over Forty Syndrome کہتے ہیں - جس میں،
  99٪ پاکستانی مرد دوسری شادی کی پلاننگ کر تے ہیں ،
9٪ مرد دوسری شادی کے لئے سیریس ہوتے ہیں ، اور باقی
1٪ چھپ کر کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔
شوہر کا مالی استحکام عورت کے حق میں مائنس پوائنٹ ہوتا ہے ، جب بچے گریجویشن کے قریب ہوتے ہیں ، کرائے کے مکان کے بجائے اپنا مکان بن چکا ہوتا ہے۔ عورت سمجھتی ھے میرے نیک اور پارسا شوہر کے لئے ، لکڑی اور عورت برابر ہے ، منزل ختم ہو گئی اب بیٹھ کر سستا لو ، بس یہی موقع شب خون مارنے کا ہوتا ہے ۔
کیوں کہ شوہر فرنٹ سیٹ پر دوسری سواری بٹھانے کے چکر میں ہوتا ہے ۔
بیوی بچوں کے رشتے دیکھ رہی ہوتی ہے اور شوھر اپنے لئے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے ۔
جس مرد کو گھر والی ایزی لے رہی ہوتی ہے اس کو جب باہر سے توجہ ملتی ہے تو وہ بھی اپنے آپ کو سیف الملوک سمجھتا ہے۔
گھر کی پلی ہوئی مرغی دال برابر ہوجاتی ہے ، سرسوں کا ساگ کھانے کو دل چاہتا ہے ۔
جب مرد ہاتھ میں درانتی لئے ساگ کی تلاش میں نکلتا ہے تو ، خوب سے خوب تر کی جستجو میں پھرتا ہے اور پھر یا تو کامیاب ہوجاتا ہے ، یا پھر ۔

وہ جہاں کہیں بھی گیا "لوٹا " تو میرے پاس آیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔