میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 جنوری، 2017

ڈاکٹر کا نہیں ، قصور آپ کا ہے


اِس فضائے بسیط میں ، لاکھوں نہیں تو کم از کم ہزاروں جراثیم اُڑتے پھرتے ہیں ، کیوں کہ تمام سڑنے والی چیزیں اور جانوروں کا فضلہ اُن کی پسندیدہ غذا ہے ، جو ربِّ کائینات نے اُن کے لئے منتخب کی ہے ۔
لیکن ربِّ کائینات نے انسانوں کو اِن سے بچانے کے لئے ، ایک زبردست حصار انسانی جسم میں بنایا ہے جسے ، "امیون سسٹم " کہا جاتا ہے ۔ جو انسانی جسم میں موجود 50 ٹریلئین سلیز موجود ہے ۔
جونہی کوئی جراثیم آپ کے جسم میں داخل ہوتا ہے ، اگر وہ لڑنے والا ہے تو جسم میں موجود لڑاکا سیلز ایک سخت مقابلے کے بعد اُسے مطیع و فرمابردار بنالیتے ہیں یا ختم کر دیتے ہیں ۔ مطیع و فرمانبردار بنا لینے کو امیونائزیشن کہتے ہیں ۔
یہ مطیع و فرمانبردار جراثیم جب ہمارے ، تھوک ، ناک سے رسنے والے مواد ، پسینے یا فضلے سے باہر کی آزاد دنیا میں رہائی پاتے ہیں ، تو امیونائزیشن کا حصار اُن پر سے ختم ہوجاتا ہے اور یہ فضاء میں اُڑتے ، حشرات الارض کے جسم پر سواری کرتے ہوئے ، ہر اُس سڑی چیز پر لپکتے ہیں جو اُن کی خوراک ہوتی ہے یا وہ نہ ملنے کی صورت میں اچھی چیزوں پر جا بیٹھتے ہیں جن کا مدافعاتی نظام ختم ہو چکا ہوتا ہے ، مثال کے طور پر کھانے کی تیار اشیاء کا مدافعاتی نظام ایک خاص مدت تک برقرار رہتا ہے پھر آہستہ آہستہ اُس چیز کے حیات کے سفر میں تھک جانے، یعنی تازہ سے باسی ہونے کے سفر کی وجہ سے کمزور پڑنا شروع ہوتا ہے اور جراثیم کے لشکر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔

مثلا درختوں سے توڑے ہوئے پھل، زمین سے جدا کی ہوئی سبزیاں ، اور مردہ حیاتیاتی اجسام جن میں دکانوں پر سجی ہوئی مردہ مچھلیاں اور ذبح کئے ہوئے چوپاؤں، مرغیوں  اور پرندوں کا گوشت جو انسان کھاتے ہیں کے علاوہ دودھ ، دہی اوردکاتوں پر ملنے والے مختلف شربت اور اُن کو سڑانے کا عمل شروع کرتے ہیں ۔
اچھا یہ جراثیم بہت چالاک ہوتے ہیں ، اور پوری جنگی حکمتِ عملی سے لیس ہوتے ہیں ۔ لیکن اِن کی بھی انسانوں کی طرح ایک مجبوری ہے وہ یہ کہ گرمی سے اِن کے جسم میں پھرتی پیدا ہوتی ہے اور لڑائی کی قوت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے لیکن سردی میں اِن کی ہمت بھی جواب دے جاتے ، ٹھنڈ بڑھتی جاتی ہے اور یہ غنودگی میں جانا شروع ہوجاتے ہیں ، فرج کے برفانی موسم میں یہ لمبی تان کر سو جاتے ہیں ۔ لہذا فرج سے چیزوں کو نکال کر کھانے کے لئے تیار کرتے وقت انہیں خوب دھوئیں تاکہ وہ نیند کی حالت میں بہہ جائیں ۔

یہی وجہ ہے ، ہر قسم کی صفائی کو نصف ایمان گردانا جاتا ہے۔ کیوں ؟
تاکہ نہ صرف کھانے کی اشیاء پر چپکے ہوئے جراثیم ، بلکہ انسانی جسم پر پائے جانے والے خود اُس کے جسم سے آزاد ہوکر طاقتور ہونے والے جراثیم پانی میں بہہ جائیں ۔ 


یہ امیونائزڈ جراثیم ، انسانی جسم سے باہر نکلنے کے بعد ، کسی بھی حملے کے لئے سُپر چارج ہوجاتے ہیں ، کیوں کہ امیونائزیشن نے اُن کے اوپر ایک مدافعاتی ڈھال چڑھا دی ہوتی ہے ،اگر یہ واپس اُسی جسم میں جائیں تو یہ اُس جسم کو نقصان نہیں پہنچاتے کیوں کہ اِن کے گلے میں ایک پٹا بندھ چکا ہوتا ہے ۔
لیکن جب یہ کسی دوسرے انسان کے جسم میں جاتے ہیں ،تو اُس جسم میں موجود حفاظتی نظام اگر پہلے جسم سے کمزور ہے تو یہ اُس پر قابو پاکر اُس جسم کے کمزور حصوں کا بیڑا غرق کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جہاں اِن پردوائیوں سے قابو پایا جاتا ہے یا ختم کر دیا جاتا ہے ۔
یوں سمجھیں اگر آپ کے جسم پر ہزار جراثیموں  کی فوج نے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر حملہ کیا ہے ، تو وہ جسم میں پہنچتے ہی مخالف فوجوں سے لڑتے ہوئے اپنی تعداد بڑھانا شروع کر دیتے ہیں اور لاکھوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اگر جسم کا مدافعاتی نظام طاقتور ہے ، تو وہ بہت جلد جو کمزور ہوتے ہیں اِن کو مطیع بنا لیتا ہے اور جو طاقتور ہوتے ہیں انہیں ختم کر دیتا ہے ۔ خود اپنے جسم سے نکل کر دوبارہ اُسی جسم میں داخل ہونے والے جراثیم زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کسی دوسرے کے جسم سے آئے ہوئے جرا ثیم ۔

 مثال کے طور پر ایک گھرانے میں چار افراد ، ماں باپ ، بیٹی اور بیٹا ، آپ میں خاندانی آئیڈینٹیکلز سیلز کے قابو کئے ہوئے جراثیموں سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے ۔ جتنے وہ نان آئیڈنٹیکل سیلز کے ہاتھوں مطیع بننے والے جراثیموں سے ہوتے ہیں ۔
مثلاً نزلہ ، زکام اور کھانسی کے جراثیم جو آپ کے جسم میں مطیع اور فرمانبردار ہوکر پھر رہے ہیں وہی آپ کے بچے میں بھی پٹہ ڈالے گھوم رہے ہیں ۔ اور کئی دفعہ بچے کے جسم سے آپ میں یوں سمجھو کہ ماں ، باپ ، بیٹا اور بیٹی سب میں ٹرانسفر سسٹم کے تحت آتے جاتے رہتے ہیں ، لیکن نقصان نہیں پہنچاتے ۔ یہ سمجھنا کہ یہ چاروں جسم نزلہ ، زکام اور کھانسی کے جراثیموں سے پاک ہیں۔ بھیانک غلطی ہے ۔ یہ جسم کا مدافعاتی نظام کمزور ہونے پر ،چھوٹی موٹی جھڑپیں شروع کر دیتے ہیں ۔
پڑوس میں رہنے والی فیملی جو ایک الگ خاندان ہے ، اُن کے امیون کئے ہوئے  جراثیم اگر آپ کا بچا چپکا لایا ہے اور اگر آپ کے بچے کا مدافعاتی نظام اُس بچے سے کمزور ہے ، تو پھر آپ کے بچے کے جسم میں جراثیم داخل ہوتے ہی تلواریں نکال لیں گے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوجائے گی اور آپ کا بچہ ، کھوں کھوں کھاں کھاں کرتا یا چھینکیں مارتا گھر میں داخل ہوگا ۔
ایک سوسائٹی ، ایک سکول یا ایک ادارے میں کام کرنے والے افراد کے باہمی ٹرانسفر ہونے والے جراثیم ، انیس اور بیس  یا اٹھارہ اور بیس کے فرق سے دوست بن چکے ہوتے ہیں اورمعمولی جھڑپوں پر ہی گذارہ کرتے ہیں اور جلد ہار بھی مان جاتے ہیں ۔
ہار اور جیت کی  اِس وڈیو گیم میں سب سے لمبی لڑائی کرنے والے جراثیموں کی فوجیں باہر سے آتی ہیں ۔ جیسے:
1- بس ، ٹرین یا ویگن میں سوار لوگ
2- ہوٹلنگ کے دوران ایک ہال میں بیٹھے لوگ ۔
3- کچن میں کام کرنے والے لوگ ،

یقیناً آپ کہیں گے، کہ ہوٹل کے کچن میں کام کرنے والے لوگ کیسے جراثیم ھال میں بیٹھے لوگوں کو ٹرانسفر کر سکتے ہیں ؟
لگتا ہے کہ آپ نے پہلی تصویر غور سے نہیں دیکھی ! دوبارہ دیکھیں ۔
سمجھ آیا ۔
ہاں اب بتاتا ہوں کہ ، اِن سے جراثیم کی ٹرانسفر کیسے روکی جا سکتی ہے ، اب یہ تصویر دیکھیں ۔

جہاں ڈر ہو تمھیں جراثیموں کے چپکنے
اُس چیز کے ہر کونے کو نہلا دو

یاد رہے ، کہ اللہ کی بنائی ہوئی ، " فتح یا شکست " کی اِس وڈیو گیم میں، شکار اور شکاریوں میں حملہ آور جراثیموں کی فوج کا شکار آپ ہیں ۔ اِن سے بچنے کا واحد طریقہ ، 
نصف ایمان پر عمل ہے 
ہوٹلوں کے کچن کی صفائی کی ذمہ داری آپ پر بھی ہے ، جس کے لئے آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے ، وہ یہ کہ پنجاب کی حدود میں رہنے والے ، جراثیموں کی کمین گاہوں کا ایڈریس ،
 اِس فون نمبر پر بتائیں- 080002345
میں نے ابھی اپنی تسلی کے لئے یہ نمبر ملایا اور اردو کے لئے 1 ملایا ، پھر کوالٹی و صفائی کے لئے 1 ملایا ، وہاں سے ایک نوجوان مسٹر یوسف نے فون اٹینڈ کیا ۔
اپنا نام بتایا ، اور جو اُس سے گفتگو کی وہ یقیناً میرے نمبر کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔
مسٹر یوسف نے بتایا کہ  ہر وہ دُکان ، ڈھابہ ، ہوٹل ، ریسٹورینٹ ، بیکری ، جوس و شربت کی دکانیں اور ایسی کوئی بھی سروس جو کھانے تیار خوردنی اشیاء پنجاب کے عوام کو مہیا کرتی ہیں ، اُن کی صفائی ، ستھرائی اور معیار ہر نہ ہونے کی صورت میں وہیں کھڑے ہو اُسی وقت اپنے موبائل سے کر شکایت درج کروائیں  اور پھر آرام سے کھڑے ہوکر حکومتی کارندوں کی پھرتیاں دیکھیں ، اگر تو یہ سفارش پر بھرتی ہیں تو اِن کی چال سست ہوگی لیکن اگر میرٹ پر بھرتی ہیں تو تھوڑی تیز ہوگی ۔


ھاں ایک اور کام کی بات ، کہ اپنی یہ شکایت اپنے دوستوں کو وٹس ایپ کریں ، اِس نمبر پر بیٹھنے والوں کے ریسپانس اور وہاں پہنچنے والے لوگوں کی کاروائی سے بھی مطلع کریں ۔

نوجوانو! یہ ہوتا ہے سوشل میڈیا کا جائز استعمال جو ایک عوامی طاقت ہے ۔ آئیں عومی طاقت میں عوام کا ساتھ دیں ! (مہاجرزادہ) 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔