میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 23 جنوری، 2017

مردم شماری اور قومی بیداری

میرا پچھلا مضمون ، مردم شماری یا مردم گمشدگی
 جو کلّی طور ایک معلوماتی و خبرداری مضمون تھا ، اُسے منافقین و مفسدین نے ، اپنی سوچ کے مطابق پڑھا اور مجھے پرسنل کمنٹ میں خوب سنائیں ۔ کئی منافقین نے بالا آیت کا آخری حصہ ( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ )  لکھ کر ، چوٹ کی کہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہو اور پاکستانیوں کو علاقائی و لسانی تعصب میں مبتلاء کر رہے ہو !
اُنہیں شائد یہ نہیں معلوم کہ  عَلِيمٌ خَبِيرٌ   کو نہ صرف میرے بلکہ اُن کے تقویٰ کا پتہ ہے ۔ نہیں معلوم تو اُس کمپیوٹر پروگرام کو جو مردم شماری کے اعداد و شمار بتائے گا ۔ جس کا خوابوں و خیالوں کی وحدانیت میں رہنے والوں کو شمّہ برابر بھی احساس نہیں ۔ کیوں ؟
کہ انہوں نے الکتاب کا نہیں اپنے آباء و عالموں کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ۔
٭ ۔  وہ ساری دنیا کو مسلمان کر کے ، اللہ کی کئی آیات کو باطل کرنے کی کوشش میں مگن ہیں ۔
٭ ۔  وہ ساری دنیا کو کھانا کھلا ، اللہ کی رزّاق  ہونے کے منصب کو باطل کر کے خود اِس منصب پر متمکّن ہونا چاہتے ہیں ۔
 
٭ ۔  وہ دولت جسے اللہ نے خالصتاً انسانی کسب بتایا ہے وہ " اپنی ضروت سے زائد " کا نعرہ مار کر اور خود عالی شان محلات کے مکین بننا چاھتے ہیں ۔

 ٭ ۔  وہ وراثت جس کی تقسیم کا نصاب خود اللہ نے ، قیامت تک لکھوادیا ہے ، اُسے اُن کے جائز وارثین سے محروم کرنا چاھتے ہیں

اب میں آتا ہوں 15 مارچ کو ہونے والی مردم شماری پر ، جہاں
نہ تقویٰ باعثِ کرامات بنے گا اور نہ مذھب ، کرامات اگر کسی نے دکھائی تو وہ زبان اور قومیت ہوگی ، کیوں کہ زبان و قومیت اللہ کی آیات ہیں:

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ ﴿30:22
 
زبان و قومیت کی بنیاد ۔ مردم شماری کے لئے یہ سندھی قومی بیدار کی مہم پر غور کریں ۔
 ھوشیار خبردار
15 مارچ کان آدم شماري جو پهريو مرحلو شروع ٿي رهيو آھي.
مردم شماري فارم کي پھنجي سامھون پینسل سان نہ پر پوائنٹر پین سان پھنجي مڪمل تفصيل سان ڀريو.
ھي فارم صرف ھڪ فیملي یعني زال مڙس ۽ سندن اولاد لاء آھي
ھڪ گھر ۾ اگر 5 نڪاح پیل ڀاتي رھن ٿا تہ اھي 5خاندان لکبا نہ ڪي ھڪ
اکیون کولیو پاٹ لازمي ڳٹایو
اوھان جي ذات ڪھڙي بہ آھي پر لکرایو سنڌي ۽ گهر  ۾ ڀل ڪهڙي به ٻولي ڳالهايو پر ٻولي واري خاني ۾ صرف سنڌي لکرايو
(.هن پيغام کي پنهنجي سڀني نمبرز تائين پهچايو ڇاڪاڻ ته ان ۾ ئي اسانجي قوم جي بقا آهي .)

میری نظر میں یہ سندھی قوم کو معلومات فراہم کرنے کی اعلیٰ کوشش ہے ۔ تاکہ وہ سندھ میں ، خود اپنی غلطی ، سُستی یا اُن کے ہوشیار و بابصیرت افراد کی لاپرواہی کی وجہ سے اقلیت میں تبدیل نہ ہوجائیں ۔ 

توہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ہوئے ، مہاجروں کو معلومات فراہم کرنا ، کیا تعصب کو ہوا دینا ہے ؟

ہوشیار خبردار مہاجرو ! تم جتنی بہترین علاقائی زبان بولو ، سندھی ٹوپی یا اجرک پہن کے بِھٹ شاہ پر ڈانس کرو ، اُس کے بادجود یہ ٹھپّہ تمھارے جسموں پر ثبت رہے گا ۔
تم خود کو ترکی النسل کہو یا پٹھان النسل یا راجپوتانہ کے قائم خانی یا بلوچ قبائل کا حصہ ، اگر تم گھروں میں اردو بولتے ہو تو تم کبھی سندھی، پٹھان یا بلوچ نہیں بن سکتے ،  کہلاؤ گے مہاجر ہی یا پھر میری طرح " مہاجر زادہ " ۔ 
اِس کے باوجود کہ مجھے پنجابی، پشتو اور فارسی آتی ہے۔ اگر میں نے خود کو پاکستانی لکھا تو میں قومیت کے جواربھاٹے میں نہ صرف خود ڈوبوں گا بلکہ مہاجر قوم کو بھی ڈبو دوں گا ۔
کیوں کہ مہاجر اب میری شناخت نہیں قوم ہے، میری فادری یا مادری زبان ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی یا پٹھانی نہیں، اردو ہے ۔ اردو !
ہاں اگر میں افغانستان سے ہجرت کر کے آیا ہوتا تو ، پھر سب مجھے پٹھان ہی کہتے ، نادرا بھی مجھے روپے لے کر زمین کے بیٹے کا سرٹیفکیٹ دے دیتا، خواہ میں درّی پشتو بولتا یا افغان پشتو ، میں ایرانی بلوچستان کا مہاجر ہو کر بھی ، بلوچ ہی کہلاتا ۔
لیکن ہندوستان سے ہجرت کر کے ، میرے والدین پر ہندوستانی کا ٹھپہ چسپاں کر دیا گیا تھا ، جن دنوں میں یہ جملہ سنتا تھا ، " تم ہندوستانی ہو !" اُس وقت الطاف حسین بھی میری طرح کہنے والے کی طرف گھورتا ہوگا ۔
اور جب میں کہتا ،" نہیں میں پاکستانی ہوں "
اُس کی کھلکھلا کر ہنسنے اور زور سے ، " ہندُستوڑا ،

ہندُستوڑا " کہنے پر زمین سے پتھر اُٹھا کر اُسے مارتا اور گھر دوڑ آتا ۔

لیکن اب میں فخر کرتا ہوں ، کہ میرے ماں اور باپ نے پاکستان ہجرت کی اور پاکستان میں اُنہیں اور اُن کی اولاد کو جو عزت ملی وہ ، کسی سندھی ، بلوچی ، پنجابی یا پٹھان کی وجہ سے نہیں ، پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ملی ۔
ورنہ سندھی ، پٹھان ، بلوچ اور پنجابی تو ہندوستان میں بھی ہیں اور پاکستان سے دُگنا ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تو مہاجر قوم کے اردو بولنے والے مہاجرو اور مہاجرزادو !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭۔   15 مارچ سے مردم شماری کا پہلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

٭۔    مردم شماری فارم اپنے سامنے بھریں اور پنسل سے نہ بھریں بلکہ پوائنٹر پین (یا بال پوائینٹ) سے مکمل تفصیلات بھریں ۔


٭۔    یہ فارم صرف ایک فیملی کے لئے ہے ، یعنی میاں ، بیوی اور اُن کے (غیر شادی شدہ ) بچوں کے لئے ۔


٭۔   ایک گھر میں اگر 5 شادی شدہ افراد اور اُن کے بچے رہتے ہوں ، تو 5 فارم الگ لے کر بھریں ۔ ایک ہی فارم میں سب کے نام نہیں لکھنا ۔
 ٭۔   مردم شماری کرنے والوں کو تمام  افراد اُن سے سامنے گنوانا ۔
٭۔   آپ کی ذات ، برادری کچھ بھی ہو۔ لیکن آپ مہاجر قوم ہو ! 
٭۔   گھر میں کون سی بولی بولتے ہو ؟ اردو  
 نوٹ: یاد رہے ، کہ قومیت کے حساب سے مردم شماری میں کمپیوٹر بس یہی دو الفاظ اٹھائے گا ۔
1- قوم کون سی ہے ؟
2- گھر میں زبان کیا بولتے ہو ؟
(قائم خانی ، بلوچی ، درانی ، یوسف زئی ، مشرقی پنجابی ، کاٹھیا واڑی ، گجراتی وغیرہ مہاجروں کو اقلیت میں تقسیم کر دیں گے - یہ ہجرت کرنے والی انگلیاں ہیں ۔ مگر اِن کے اتحاد سے بننے والا " مُکہ " مہاجر قومیت کہلائے گا )

مہاجر قوم کی بقاء کے لئے، یہ پیغام سب مہاجروں اور مہاجر زادوں تک پہنچائیں ۔ شکریہ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔