میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 4 جنوری، 2017

اسلامی یا پاکستانی المیہ !

سوشل میڈیا ہو یا پاکستانی چینل ، جہاں بڑے بڑے جغادریوں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہیں ۔
اِس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے !
پھر دریائے فرات کے کنارے بھوکے کُتے کی مثال تاریخی بغچے سے نکال کر دی جاتی ہے ۔
ایک اور صاحب ، یہ لنترانی چھیڑتے ہیں ، کہ
لوگ زکات لے کر پھرتے تھے اور کوئی لینے والا نہ تھا ۔
  
اُس کے بعد کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ہے ۔ 
وہ یہ بھول جاتے ہیں ، اُس وقت بھی غلام بِکتے تھے ، کنیزوں کا سودا ہوتا تھا۔
خوبصورت غلمان و کنیزیں ، بیچنے والے ، حسبِ مراتب بیچتے تھے ۔ جو بلوٖغت کے ساتھ ہی جنسی مراحل سے گذرنا شروع ہوجاتی تھی ۔  
یہ سب بھوک و پیٹ بھرنے کے ذرائع میں شمار ہوتے تھے ، بھوک نفس کی اور پیٹ غریب کا ۔
قزاق ، بردہ فروش اور زنِ کثیر یا زنِ حرام رکھنے والا مرد ۔ جسے یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ جس عورت سے وہ سرائے خانے کے عقبی گھر ہم بستر ہوا تھا ، اُس کے بطن سے بیٹی ہوئی ہے یا بیٹا ۔
پھر یہ بیٹی یا بیٹا ، بازار میں فروخت ہوجاتے ۔ عورت ہر سال کتنے ایسے ایک رات کے شوہروں کے بچوں کو پالے ؟
   
سنا ہے کہ ایسے ہی باپ نے ، اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ، درجنوں نہیں تو نصف درجن بچوں میں سے ایک بچی ، کسی منصف کے گھر کام کرنے کے لئے رکھوائی ، کہ گوشت تمھارا ، ہڈیاں اور رقم ہماری ۔

آج جب جیو ٹی وی پر ، شرفا بیٹھے اِس واقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے ، تو میں سوچ رہا تھا کہ اِن میں سے کتنے ، منافق ہیں جو اپنی " نفق " کو کھلا نہیں رکھتے اور انفاقِ فی سبیل اللہ سے ھاتھ روکتے ہیں ۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ [36:47]
 
الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُواْ اللّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [9:67]
 
 اللہ کی آیات کے مطابق منافق ، کسی بھی معاشرے یا حکومت میں،  یہ تین عمل کرتے ہیں 
  يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ -  ناپسندیدہ احکامات کر کرنے پر اکساتے ہیں ۔  اپنی جذباتی تقریروں سے ۔
وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ  - مروج انسانی بھلائی کے
قوانین سے منع کرتے ہیں ۔
وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ
  - مگر خود اپنے ہاتھوں کو باندھ کر رکھتے ہیں ۔ (یعنی خود منکر نہیں کرتے اور مروج کام بھی جاری رکھتے ہیں )۔
اِن سب جغادری ، طعنہ زنوں سے پوچھو کہ اُن کے گھروں میں اگر کوئی ملازم ہے تو وہ کیسے رہ رہا ہے ؟
اِن کے چہرے اپنے گریبانوں کی طرف جھک جائیں گے ۔  
 

یہ معصوم بچی بھی اُسی نظام کا حصہ ہے، جہاں صرف ڈھائی فیصد سالانہ دے کر مسلمان چھوٹ جاتے ہیں ۔
اور پھر امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور سکنڈے نیوین ممالک کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں جہاں حکومت ڈنڈے کے زور پر 20 فیصد بلا واسطہ اور 40 فیصد بلواسطہ ٹیکس تمام افراد کی جیبوں سے نکلوا لیتی ہے ۔ جہاں لوگ خوف و غم سے بے نیاز ہوجاتے ہیں ۔

الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ   [2:274] 
 وہ جو اپنے مال میں سے رات و دن بلواسطہ (سِرًّا)  اور بلاواسطہ (عَلاَنِيَةً) انفاق کرتے رہتے ہیں ۔ اُن کا اجر اُن کے ربّ کے نزدیک ہے اور اُن پر نہ خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین رہتے ہیں ۔  

کسی کوثر بی بی نے طیبہ کی والدہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو دو سال پہلے اغواء ہوگئی تھی اور اِس کی ایف آئی آر بھی کٹوائی ہے ، کوثر بی بی نے ٹی وی پر تصویر دیکھ کر اپنی بیٹی کو پہچانا ہے ۔

بچی کی عمر 10 سال اور نام طیبہ ہے۔ یہ تو علم نہیں کہ بچی کو کہیں سے اغواہ کیا گیا یا پھر وہ گم ہوئی تھی۔  البتہ یہ ننھی جان ایک یتیم خانے کے ذریعے دو سال قبل اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان کو ’’مہیا‘‘ کی گئی۔ حاضر سروس جج کے گھر اس ننھی بچی سے بطور گھریلو ملازمہ جبری مشقت لی جاتی رہی۔ بچی کے بیان کے مطابق اُسے اور دیگر کو معمولی غلطیوں پر اکثر مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ایک روز اُس سے  جھاڑو گم ہو گیا تو جج صاحب کی اہلیہ ’ماہین‘ عرف مانو باجی آپے سے باہر ہو گئی، اُس نے پہلے اسے تشدد کا نشانہ بنایا پھر چولہا جلا کر ننھی طیبہ کا ہاتھ اور چہرہ جُلسا ڈالا۔  

معاملہ میڈیا میں آیا تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انورکاسی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار کو تحقیقات کی ہدایت کی۔ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کی انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ ایڈیشنل سیشن جج کا بیان ریکارڈ کیا۔ رجسڑار کے ہی حکم پر پولیس نے شدید زخمی حالت میں کم سن طیبہ کوایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان کی سالی کے گھر سے برآمد کر لیا۔ جس نے اپنے بیان میں مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا۔ تھانہ آئی نائن انڈسٹریل ایریا پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ کے خلاف زیر دفعہ 506/34+342مقدمہ درج کر لیا۔
اب ایک جانب لاوارث بچی تھی اور دوسری جانب بااثر حاضر سروس جج۔
مقدمہ چلا تو پہلے تفتیشی افیسر اے ایس آئی شکیل بٹ نے ننھی مظلوم اور بے سہارا بچی کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی۔  جس پر جج صاحب کی اہلیہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہو گئی۔ اس کے بعد جج صاحب کے ہی ایک عزیز نے ننھی بچی کا والد ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور ساتھ ہی اس نام نہاد والد نے ایڈیشنل سیشن جج کے ساتھ راضی نامہ لکھ کر عدالت میں جمع کرادیا ہے۔ جس کے بعد کیس ختم ہو گیا۔
ہمارے نظام عدل کو نہ تو بچی اور اس والد کے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ نہ ہی جج صاحب پر کم عمر بچی کو ملازم رکھنے اور جبری مشقت لینے کا سوال ہوا۔ نہ ہی اُس یتیم خانے سے پوچھا گیا کہ اُس نے کس طرح اس بچی کو جبری مشقت کے لئے جج کے حوالے کیا۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔