میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 6 جنوری، 2017

دودھ خالص ، ناخالص ، ملاوٹ شدہ !

                        دودھ پینے سے پہلے اسے ضرور پڑھ لیں
دودھ کی تین بنیادی اقسام ہیں ۔
خالص دودھ : یہ دودھ دینے والے جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ یہ دودھ عموماً گھر کے جانوروں کے ذریعے انسانوں کو ملتا ہے ۔  جس کو لازماً ابالا جاتا ہے تاکہ وہ تمام مضر صحت جراثیم مر جائیں جو جانور کے تھن سے نکلنے کے بعد گھر کی پتیلی میں اُبلنے تک شامل ہوجاتے ہیں۔ 

نا خالص دودھ : یہ دودھ میں جب پانی ملایا جاتا ہے تو اِس کا خالص پن ختم ہوجاتا ہے ۔ ملائے جانے والے پانی کی صحت ہمیشہ مشکوک ہی رہتی ہے ۔ 
ملاوٹ شدہ 
دودھ : عموماً ملاوٹ تو دودھ میں پانی ملانے سے ہی شروع ہوجاتی ہے ، لیکن اصل ملاوٹ جن سے انسانی جسم پر مفید و مضر اثرات ہوں وہ مختلف کیمیکلز ملانے پر ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ سنگھاڑے کا آٹا یا انسانی خوراک کے ایسے اجزاء جو انسان کھاتے ہیں وہ مضر صحت نہیں ہوتے اِن کے علاوہ ، گھی،تیل اور چربی بھی دودھ میں ملائی جاتی ہے اور یہہ اب سے نہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری یاداشت کے مطابق ، میرے بچپن سے ملائی جارہی ہے ۔  بہر حال سائینسی کی ترقی جو ہمارے سامنے ہوئی ، جس میں کیمیکلی طریقوں سے بنائے جانے والے مختلف خوردنی اجزائ بھی انسانی خوراک بشمول دودھ میں ملائے جانے لگے ۔  کیمیکلز دو اقسام کے ہوتے ہیں ،

مفید کیمیکلز: یہ وہ کیملکلز ہیں جو موجودہ دواؤں میں شامل ہوتے ہیں، جن سے پروٹین،  وٹامنز، کیلثیم  اور کاربوہائڈریٹس کا نعم البدل بنایا جاتا ہے ۔
 
مضر کیمیکلز: یہ وہ کیمیکلز ہیں، جو کسی بھی صورت میں انسانی صحت کے لئے جز وقتی یا کل وقتی مفید نہیں جن کا استعمال انسانی صحت کے لئے مضر ہے ، جیسے سبزیوں پر چھڑکے جانے والے کیملکلز جو نہ صرف حشرات الارض کے لئے نقصان دہ ہیں بلکہ ، جن کی کم مقدار بھی انسانی جسم میں منفی و مضر اثرات کا باعث بنتی ہے ۔

کیمیکلز کے بارے میں ایک معمولی سی وضاحت ۔
مٹھاس ہم کسی بھی نباتات سے حاصل کر سکتے ہیں ، جن میں گنا ، مکئی ، چقندر ، انگور و دیگر شامل ہیں۔ ، 
سائینس دانوں نے اِس کا کیمیکل فارمولا دریافت   کیا ہے ۔ جس میں کاربن کے 12 ایٹم ، ھائیڈروجن کے 22 ایٹم اور آکسیجن کے 11 ایٹم شامل ہوتے ہیں ۔

اِسی طرح اُن کی دریافت کے مطابق دنیا کی ہر شئے ، کسی نہ کسی فارمولے سے بنی ہے ، اگر ہم اُس فارمولے کے وہ اجزا ، بنالیں تو ہم کوئی بھی شئے اُس  جیسی تو نہیں اُس کے متماثل بنا سکتے ہیں ۔
 جیسے ، کاربوہائیڈریٹس( شوگر) اقسام میں ، مٹھاس کا نعم البدل  سائینس دانوں نے سکروس دریافت کیا ہے  ۔ جسے ہمارے ھاں سکرین کہا جاتا ہے ۔ وہ مریض جن کو شوگر کی بیماری ہوتی ہے وہ کینڈرل یا سپلینڈا جیسی کیمیکل مٹھاس استعمال کرتے ہیں ۔،
 
ہم سب جانتے ہیں کہ مٹھاس میں کیلوریز یا توانائی کی بہت بڑی مقدار ہوتی ہے ، لیکن کیمیکل مٹھاس میں کیلوریز بلکل شامل نہیں کی جاتیں ۔
بچوں کا دودھ جسے ہم ، ملاوٹ شدہ دودھ کی قسم میں رکھ سکتے ہیں ، لیکن وہ مضر صحت نہیں ہوتا ۔ اُس میں ملائے جانے والے کیمیکلز مفید صحت مند ہوتے ہیں ۔
کوئی  2011، کے ستمبر یا کتوبر کی بات ہے ایک بزنس کے دوست طارق دیوان ، گھر تشریف لائے، اُنہیں چائے کی پیشکش کی، چائے چکھنے کے بعد اُنہوں نے پوچھا: "یہ  تازے دودھ کی چائے ہے " ؟ 
میں نے کہا: " نہیں ، " اولپر " کی ہے" ۔
اُنہوں نے چائے کا کپ رکھ دیا اور بولے، " میجر صاحب ڈبے کادودھ مت استعمال کریں ، اِن میں کاسٹک سوڈا ، کھاد ، سرف ،
بلیچنگ پاﺅڈر اور نجانے کیا کیا بوریاں کی بوریاں ملایا جاتا ہے "۔
میں نے پوچھا : "آپ کو کیسے معلوم ہے"؟
بولے : " میں 15 سال سے دودھ کا کاروبار کرتا تھا ، اور فارم سے دودھ لا کر بڑی بڑی کمپنیوں کو دیتا تھا ۔ وہاں یہ سب دودھ میں ڈالا جاتا ہے "۔  
میں نے کہا : " یار سنگھاڑے کا آٹا، گھی یا تیل ، فوڈ پریزرویٹو تو سنا تھا لیکن ۔ یہ پہلی بار سن رہا ہوں ۔ حیرت ہے کہ
کاسٹک سوڈا ،بلیچنگ پاﺅڈر، کھاد اور سرف،  دودھ میں پینے سے کسی کی موت نہیں ہو رہی !"۔
وہ بولے : " تھوڑی مقدار میں ڈالتے ہیں، اسی لئے کوئی مرتا نہیں لیکن نئی نئی بیماریاں ضرور پیدا ہو رہی ہیں"۔
میں نے کہا :"
دیوان بھائی  ، آپ تعلیم یافتہ ہو اورلیکچرر بھی رہے ہو ، آپ بھی ایسی باتیں کر رہے ہو ؟ "۔  
کہنے لگے : " نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے ، کہ پوری پاکستانی قوم ڈبوں کا مضر صحت دودھ پی رہی ہے "۔
میں نے پوچھا : " اور بچوں کو ڈبوں کے ذریعے پلائے جانے والے دودھ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا وہ بھی نقصان دہ ہے ؟ کیوں کہ اُس میں بھی کیمیکلز ملے ہوتے ہیں "۔ 
بہرحال نہ وہ قائل ہوئے اور نہ میں ۔ وقت گذرتا رہا، میں ڈبے کے دودھ کی چائے مزے لے لے کر پیتا رہا یہاں تک کہ 2016 آگیا ، چند ماہ سنا ہے کہ لاہور میں ، مضر صحت دودھ کے خلاف ایک وکیل صاحب نے پٹیشن دائر کی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آج وہ پٹیشن ، کسی نے وٹس ایپ کی جو درج ذیل ہے ۔
لیکن پہلے ایک پتے کی بات، آپ کی زبان ، حلق اور معدے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی بنائی ہے ، کہ مضر صحت خوردنی اشیاء کے متعلق فوراً معلومات مہیا کر دیتی ہیں ، جو سوزش ، جلن اور قہہ کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یا پھر دست اور معدے کی خرابی کا سبب بنتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دو پاکستانیوں کا مشکور ہوں، یہ دونوں 2016ءمیں پوری قوم کے محسن ہیں اور قوم کو کھڑے ہو کر ان کےلئے تالیاں بھی بجانی چاہئیں اور ان کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے‘یہ دونوں پاکستانی کون ہیں؟

پاکستان کے پہلے محسن بیرسٹر ظفراللہ ہیں اور دوسرے چیف جسٹس ثاقب نثار ہیں۔
یہ دونوں قوم کے محسن ہیں، کیسے اور کیوں؟
یہ جاننے کےلئے آپ کو چھ ماہ پیچھے جانا ہوگا‘ بیرسٹر ظفر اللہ نے جون 2016ءمیں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دودھ سے متعلق پٹیشن دائر کی، بیرسٹر صاحب نے اس پٹیشن میں انکشاف کیا
”پاکستان میں جعلی دودھ بک رہا ہے اور لاکھوں لوگ اب تک اس دودھ کی وجہ سے مہلک امراض کا شکار ہو چکے ہیں“
( کون سے مہلک امراض ، نام لکھتے تو اچھا ہوتا )

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے 28 جولائی 2016ءکو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ بنا دیا، بینچ نے سماعت شروع کی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے جواب طلب کر لیا، اتھارٹی نے دودھ کے نمونے جمع کرنا شروع کر دیئے، دودھ کی پڑتال ہوئی اور نتائج نے سپریم کورٹ سمیت پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘قوم سکتے میں چلی گئی۔
حقائق کیا ہیں؟

آپ بھی جانیے ، کانوں کو ہاتھ لگائیے اور دودھ پینا چھوڑ دیجئے۔
ملک میں دودھ دینے والے 63 لاکھ جانور ہیں، یہ جانور سالانہ 35 سے 40 ارب لیٹر دودھ دیتے ہیں۔ ،
پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن ہم دنیا میں خراب‘ مضر صحت اور جعلی دودھ بنانے والی سب سے بڑی قوم بھی ہیں‘ کیسے؟
آپ ملاحظہ کیجئے پاکستان میں دودھ کی چار قسمیں دستیاب ہیں ۔

پہلی قسم: لوز ملک یا گوالوں کا دودھ ہے، یہ دودھ کل پیداوار کا 93 فیصد ہے، ملک کی اکثریت یہ دودھ استعمال کرتی ہے۔
دوسری قسم: ٹیٹرا پیک دودھ ہے، یہ دودھ گتے کے ایسے ڈبوں میں فروخت ہوتا ہے جن کی اندرونی سائیڈ پر دھات کی باریک تہہ چڑھی ہوتی ہے، یہ دودھ دو سے تین ماہ تک قابل استعمال ہوتا ہے۔
 
تیسری قسم: بوتلوں اور پلاسٹک کے لفافوں میں دستیاب دودھ ہے، یہ دودھ دو سے تین دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ملک کے لاکھوں شہری یہ دودھ استعمال کرتے ہیں ۔

چوتھی قسم: خشک دودھ ہے، یہ دودھ سال چھ مہینے تک استعمال ہو سکتا ہے، پاکستان کے کروڑوں شہری یہ دودھ چائے میں استعمال کرتے ہیں، مائیں بچوں کو خشک دودھ پلاتی ہیں اور پاکستان کی زیادہ تر بیکریوں اور مٹھائیوں میں بھی یہ خشک دودھ استعمال ہوتا ہے ۔

آپ یہ سن کر حیران ہو جائیں گے دودھ کی یہ چاروں اقسام مضر صحت اور انسانوں کےلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ کیسے؟

آپ مزید حقائق ملاحظہ کیجئے، تازہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹے محفوظ رہتا ہے۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کےلئے دودھ دور دراز علاقوں اور مضافات سے لایا جاتا ہے 
مثلاً آپ لاہور اور راولپنڈی کی مثال لیجئے،  لاہور شہر کےلئے اوکاڑہ، چشتیاں، قصور، جھنگ اور وزیر آباد سے دودھ آتا ہے جبکہ راولپنڈی کےلئے جہلم اور سرائے عالمگیر سے دودھ لایا جاتا ہے۔ دودھ کے بیوپاری گوالوں سے دودھ لیتے ہیں، چھوٹے بڑے ٹینکرز میں بھرتے ہیں اور یہ دودھ بڑے شہروں کو سپلائی کر دیا جاتا ہے ۔
بھینس سے انسانی ہونٹوں تک دودھ میں دو مرتبہ انتہائی خوفناک ملاوٹ ہوتی ہے ۔
دودھ میں پہلی ملاوٹ گوالہ کرتا ہے۔ یہ زیادہ اور فوری دودھ حاصل کرنے کےلئے بھینسوں کو ہارمون کے انجیکشن لگاتا ہے،  یہ انجیکشن خواتین کو ڈلیوری کے دوران لگائے جاتے ہیں اور یہ میڈیکل سٹورز سے عام مل جاتے ہیں،  یہ سستے بھی ہوتے ہیں،  یہ انجیکشن جوں ہی بھینس کو لگایا جاتا ہے،  یہ فوراً دودھ دے دیتی ہے،  یہ دودھ مقدار میں 20 سے 30 فیصد زیادہ بھی ہوتا ہے، یہ ہارمون بچوں کی صحت کےلئے نقصان دہ ہیں،  گوالے چھوٹی مشینوں کی مدد سے دودھ سے کریم نکال لیتے ہیں،  یہ اس کریم کا مکھن اور دیسی گھی بناتے ہیں اور مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں،  دودھ کریم کے بعد پتلا ہو جاتا ہے،  گوالے پتلے پن کو چھپانے کےلئے دودھ میں
٭  ۔ ڈیٹرجنٹ پاﺅڈر (سرف) ڈال دیتے ہیں‘ڈیٹرجنٹ دودھ کو گاڑھا بھی کر دیتا ہے اور یہ اس میں جھاگ بھی پیدا کر دیتا ہے،  یہ لوگ سرف کی کڑواہٹ ختم کرنے کےلئے دودھ میں بعد ازاں بلیچنگ پاﺅڈر ڈالتے ہیں، ٭  ۔ بلیچنگ پاﺅڈر دودھ کو ذائقے دار بھی بنا دیتا ہے اور اس میں چمک بھی پیدا کر دیتا ہے،  یہ دودھ گوالوں سے بیوپاریوں کے پاس آتا ہے، ٭  ۔  بیوپاری اس میں یوریا کھاد‘ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ‘ بورک پاﺅڈر، پنسلین، ایلومینیم فاسفیٹ اور فارملین ڈال دیتے ہیں، 

یہ کیمیکل اینٹی بائیوٹک بھی ہیں اور یہ پریزرویٹوز بھی ہیں،

  یہ دودھ کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ بیوپاری یہ دودھ ہوٹلوں، چائے خانوں، ریستورانوں، دودھ دہی کی دکانوں، سٹورز، مٹھائی اور بسکٹ بنانے والے کارخانوں تک پہنچاتے ہیں‘ یہ دودھ ڈورٹو ڈور بھی پہنچتا ہے‘ یہ جب ہمارے ہونٹوں تک پہنچتا ہے تو اس میں 20 کیمیکل مل چکے ہوتے ہیں اور یہ صحت کےلئے انتہائی خطرناک ہو چکا ہوتا ہے‘یہ وہ 93فیصد دودھ ہے جو ملک کے زیادہ تر لوگ استعمال کرتے ہیں‘
ہم اب ٹیٹرا پیک‘ بوتل ‘ لفافوں اور خشک دودھ کی طرف آتے ہیں‘ یہ تینوں بھی انتہائی خطرناک ہیں‘ کیسے؟ آپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘

٭  ۔  ٹیٹرا پیک کےلئے دودھ کو 135 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے‘ یہ درجہ حرارت دودھ کی غذائیت ختم کر دیتا ہے‘
( گھر میں دودھ کتنے سنٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے ؟)

یہ طریقہ کار دودھ کی لائف تو بڑھا دیتا ہے لیکن دودھ اس کے بعد دودھ نہیں رہتا یہ سفید پانی بن جاتا ہے‘ کمپنیاں اسے دوبارہ دودھ کی شکل دینے کےلئے اس میں خشک دودھ‘ پام آئل اور سبزیوں کا تیل ملا دیتی ہیں‘ یہ ملاوٹ دل کے امراض اور بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے‘
٭  ۔ بوتل اور لفافے کا دودھ آتا ہے۔ یہ دودھ 85 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے
(پانی کا نقطہءِ ابال 212 ڈگری فارن ھائیٹ ( 100 ڈگری سنٹی گریڈ)  ہوتا ہے۔ احمق اور دودھ کا
نقطہءِ ابال، 212 اعشاریہ 3  ڈگری فارن ھائیٹ )
اور یہ دو سے تین دن تک قابل استعمال ہوتا ہے لیکن کیمیکل‘ پریزرویٹوز اور ہارمون ان میں بھی ہوتے ہیں‘ یہ نہ ہوں تو یہ دودھ پاکستان جیسے گرم ملک میں جلد خراب ہو جائے لہٰذا دودھ فروش گوالے‘ بیوپاری اور کمپنیاں دودھ میں کیمیکل ضرور ڈالتی ہیں‘پیچھے رہ گیا خشک دودھ‘ یہ دودھ انتہائی مضر صحت بھی ہوتا ہے اور یہ دودھ‘ دودھ بھی نہیں ہوتا‘ یہ پاﺅڈر مِلک اور کیمیکلز کا مرکب ہوتاہے‘ کمپنیاں اس مرکب میں خشک دودھ‘ پام آئل‘ چینی اور چند نامعلوم کیمیکل ملاتی ہیں اور خوبصورت پیکنگ میں مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں‘ یہ دودھ ”ٹی وائیٹنر“ کہلاتا ہے‘ یہ کالی چائے کو سفید بناتا ہے لیکن یہ سفیدی انسانی جسم کے کس کس حصے کو داغدار بناتی ہے‘ آپ تصور نہیں کر سکتے۔
یہ خرابیاں صرف دودھ تک محدود نہیں ہیں‘ یہ بیکری کی مصنوعات‘ مٹھائیوں‘ ٹافیوں اور چاکلیٹ تک جاتی ہے‘ یہ تمام مصنوعات دودھ سے بنتی ہیں اور ہمارے دودھ میں 20 کیمیکل ہوتے ہیں‘ یہ 20 کیمیکل بیکریوں‘ مٹھائیوں کی دکانوں اور چاکلیٹ فیکٹریوں تک پہنچ کر 40 ہو جاتے ہیں‘ ان میں مصنوعی رنگ‘ مصنوعی خوشبو‘ پلاسٹک‘ دھاتیں اور گندہ پانی بھی شامل ہو جاتا ہے ، چنانچہ زہر میں زہر مل کریہ بڑا زہر بن جاتا ہے‘

آپ نے کبھی غور کیا‘ آپ ایک برانڈ کا چاکلیٹ دوبئی سے خریدتے ہیں تو یہ پاکستان پہنچتے پہنچتے پگھل جاتا ہے ۔ لیکن آپ جب وہ چاکلیٹ پاکستان سے خریدتے ہیں تو وہ دھوپ میں بھی خراب نہیں ہوتا‘آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا دنیا بھر میں چاکلیٹس کو فریج میں رکھا جاتاہے لیکن ہمارے چاکلیٹس ریکس میں ہوتے ہیں‘ کیوں؟
کیونکہ ہمارے چاکلیٹس خالص نہیں ہوتے ‘ ان میں تازہ دودھ کی جگہ سبزیوں کا تیل اور جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے اور یہ وہ فیٹس ہیں جو انسانی جسم کے درجہ حرارت پر نہیں پگھلتے ۔
چنانچہ یہ بچوں کو وقت سے پہلے جوان بھی کر دیتے ہیں اور بیمار بھی ۔ ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے‘ ہم دودھ‘ بیکری اور خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہیں‘ یہ زہر 65 برسوں سے ہماری رگوں میں اتر رہا ہے‘ ہماری تین نسلیں اس زہر کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ( محترم ؐ مصنف: آپ کی تین نسلوں پر اِس کے کیا اثرات ہوئے ، وضاحت کریں گے ؟ ) 

یہ بیرسٹرظفر اللہ کی مہربانی ہے‘ یہ آگے بڑھے اور انہوں نے ایک زہر کی نشاندہی کر دی باقی 40 زہر ابھی تک پوشیدہ ہیں‘ یہ راز بھی جس دن کھلے گا یہ پوری قوم کو سکتے میں لے جائے گا۔

آپ یقین کیجئے ہمارے ملک میں بکریاں‘ مرغیاں اور گدھے ہم انسانوں سے بہتر خوراک کھا رہے ہیں‘یہ خالص چارہ کھاتے ہیں‘ یہ ہم سے زیادہ صحت مند ہیں‘ یہ ہم سے زیادہ فعال ہیں ، جبکہ ہم گدھوں سے زیادہ گندی اور خوفناک خوراک کھا رہے ہیں‘

میری آپ سے درخواست ہے آپ دودھ دیکھ بھال کر خریدا کریں‘آپ دودھ کا
معائنہ بھی ضرور کروائیں‘ چائے میں خشک دودھ کا استعمال بند کر دیں‘ آپ آئس کریم ‘بیکری آئٹم‘ مٹھائیوں اور چاکلیٹ کا استعمال بھی کم کر دیں۔

آپ گروپس بنائیں‘ یہ گروپس اپنی بھینسوں یا گائیوں کا بندوبست کریں اور دودھ کا انتظام کر لیں‘

یہ آپ کا اپنے اور اپنے خاندان پر عظیم احسان ہوگا۔

میں دل سے یہ سمجھتا ہوں اگر جسٹس ثاقب نثار اس ملک کے عوام کو خالص دودھ فراہم کر دیتے ہیں‘ یہ اگر یہ آوا ٹھیک کر دیتے ہیں تو یہ دس حکومتوں اور دس عظیم قائدین سے بڑے قائد ثابت ہوں گے‘ قوم کھڑے ہو کر انہیں سیلوٹ کرے گی اور اگر یہ بھی ناکام ہو گئے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے‘ پھرنریندر مودی کو پاکستانیوں کو مارنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ پاکستانی دودھ پی پی کر مرتے چلے جائیں گ
ے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نہ میری بھینسیں ہیں نہ ہی گائیں اور نہ ہی میں کسی سے کمیشن لیتا ہوں ۔ میرے نزدیک یہ مضمون  برائے مضمون ہے ۔
اور جہاں تک رہا پٹیشن کا تعلق، یہ پانی میں سے مکھن نکالنے کے برابر ہوگا ، کیوں ؟
کہ نہ  ہی خالص دودھ جسٹس صاحب پلوا سکیں گے اور نہ ہی ، ملاوٹ کرنے والے باز آئیں گے ۔
کیا چائے کے مؤجد چائے کو دودھ کے ساتھ پیتے ہیں ؟
مہاجرزادہ ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔