میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 8 جنوری، 2017

اچھی مائیں ، اچھی قوم !

مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ میری امّی کو ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم کی بہت فکر تھی ۔ جو ماڈل میرے والد نے رکھا ، وہی میں نے اپنے بچوں کے دور کے حساب سے قابلِ عمل بنایا ۔
والدہ ہمیں پڑھاتی تھیں ،یوں سمجھو کہ ہم انہیں پڑھ کر اپنا سبق سناتے ، وہ 5 کلاس پڑھی ہوئی تھیں ۔
لیکن حیرانگی کی بات وہ مجھ سے آٹھویں کلاس کا سنتیں ، میں کوئی غلطی کرتاوہ ٹوک دیتیں ،
میں حیران ہوتا اور پوچھتا ،
" امّی آپ نے تو صرف پانچوں کلاس تک پڑھا تو آپ آٹھویں کا حساب ، معاشرتی علوم ، جغرافیہ ، اردو ، اسلامیات اور شہریت کیسی آتی ہے ۔ "
یاد رہے ہمارے گھر میں ، ترجمان القرآن ، بتول ، شہاب ، اردو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ ، تعلیم و تربیت ، غنچہ اور کبھی کبھی چاند رسالہ بھی آتا تھا ، 
یہ سب میرے والد نہیں خریدتے ، ابّا صرف ترجمان القرآن ، اردو ڈائجسٹ ، خریدتے باقی دیگر دوست خریدتے اور پڑھنے کے بعد ایک دوسرے کے گھر بھجواتے ۔
یوں ، امّی کا جنرل نالج اور پاکستان نالج بہت زیادہ تھا ، اور ہم سے سُن کر وہ ہمارا سبق بھی یاد کر لیتیں ۔
نقشے پر ، شہر ڈھونڈنا ، اور دیگر کئی تعلیمی کھیل تھے وہ ہم مغرب کا کھانا کھا کر اپنے بستروں پر بیٹھے کھیلتے تھے ،
کیوں کہ اُن دنوں ٹی وی تو کیا ، ریڈیو بھی نہیں ہوتا تھا، وہ اِس لئے کہ بجلی نہیں ہوتی ، 1966 میں ابا نے سیکنڈ ہینڈ فلپس ریڈیو کوئیٹہ میں خریدا تھا کیوں کہ وہاں ، بجلی گھر سے بجلی آتی تھی۔

بجلی سے میری واقفیت ، نوشہرہ میں 1955 میں ہوئی تھی ، بجلی کا ہیٹر میرے لئے ، دلچسپی کا سامان تھا۔، 
غرض ، بچوں کی تعلیم اور تربیت میں ماں کی شمولیت نہایت ضروری ہوتی ہے ۔
باپ تو صرف گھر کاکام چیک کرتا ہے ، کہ بچوں نے کیا ہے یا نہیں ۔
اور شیر کی نظر سے دیکھتا ہے ۔

نپولین نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ

" تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمھیں اچھی قوم دوں گا " ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔