میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, فروری 15, 2017

بگڑی نسل

ملتان کے لیے کوچ کے سفر کا فیصلہ ہوا
اتنے لمبے روٹ پر کوچ کا یہ پہلا تجربہ ہے
سفر کیا بس یوں سمجھیے کہ ہر ہر لمحہ اِک احساس ندامت ہے جو شدت سے غالب ہے
آگے والی سیٹ پر چوبیس پچیس سال کی اِک خاتون ساتھ تین سالہ بچی اور بچی کی دادی ۔۔
ابھی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ بچی نے رونا شروع کردیا ۔
ماں نے جھٹ موبائل نکالا اس میں پہلے تو نانی کی مورنی پھر کاٹھی کے گھوڑے سے بہلانے کی کوشش کی گئی مگر جب اس میں کامیابی نا مل۔ سکی تو
ماں نے اگلا کام یہ کی انڈین گانوں کی وڈیوز کی اک لمبی پلے لسٹ آٹو پر لگا کر موبائل بچی کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔۔۔
اور دوا نے تو جیسے گویا امرت کا کام کیا تین سالہ بچی ایک دم شانت ۔۔۔
اب پوری کوچ ان گانوں سے اور ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے حضرات ویڈیو سے بھی " محظوظ " ہوتے رہے ۔۔۔معصوم بچی بھی بدلتے منظروں میں کھو چکی تھی ۔
جی چاہ رہا تھا بچی کے ہاتھ سے
موبائل چھین لیا جائے
ماں تو ماں دادی پر رونا آیا کہ اک زمانے میں ماؤں سے بڑھ کر دادی نانیاں اخلاقی تربیت کیا کرتیں تھیں ۔۔۔
مگر کیا کیجئے کہ آج کل دادی نانیوں نے بھی اپنا کام چھوڑ دیا ۔۔۔
خیر وہ بچی انہی گانوں کی آواز اور بدلتے مناظر میں کھو کرسوچکی تھی ۔۔۔
اس کے سونے کے بعد شکر ادا کیا کہ اب اس آواز سے نجات نصیب ہوگی مگر ۔۔
یہ بھی بس ہماری خوش فہمی تھی ۔۔۔
اب ماں کی باری تھی ۔۔
وہی لسٹ ری پلے کر دی گئی ۔۔۔
ہم نماز پڑھ کر قرآن پڑھنے میں دھیان لگانے لگے مگر توجہ بمشکل ہی لگ رہی تھی ان کو متوجہ کرنے کا خیال کئی بار جھٹکا کہ کہیں یہ نا سوچیں کہ قرآن پڑھ کر احسان کررہی ہیں مگر بہت دیر کوشش میں ناکام ہوکر بالاخر ہمت کی اپنے داہنے ہاتھ میں
موبائل پکڑ کر آگے کیا اور دھیرے سے سرگوشی کی ۔۔
" بہن آواز دھیرے کرلیں میرے قرآن پڑھنے میں مشکل۔ہورہی "
اللہ انہیں جزا دے کہ آواز بند کردی گئی ۔۔
نماز قرآن سے فارغ ہوکر کچھ دیر کوچ میں سکون رہا ہماری بھی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
ڈھائی بجے اک آواز نے جگا دیا ،
"سکھر اگیا ہے دس منٹ کی بریک ہے جاگ جائیں سب "۔۔۔
نیچے اترے چائے پی واپس اپنی جگہیں سنبھال لیں ۔۔
بچی اک بار پھر جاگ چکی تھی اور اسی طرح رونے کا پروگرام بنائے بیٹھی تھی ماں نے پھر سے
موبائل نکالا اور فرمایا
"اچھا آنٹی لگا کر دیتی ہوں " ۔۔۔
دادی کی گود میں بیٹھی ٹھنکتی ہوئی بچی کو گانے آواز پر اک دم جیسے قرار سا اگیا ۔۔۔
دادی کی اک آواز آئی کہ "
ہن بند کر چھڈ ، سویرے تیرے دادے کا فون آسی تے بیٹری نا ہوسی "
یعنی بند کرنے کی وجہ بھی بیٹری اور دادے کا فون ۔۔۔
مگر بچی اب
موبائل بند بھی نہیں کرنے دے رہی تھی ۔۔
تہجد کا وقت کوچ کے ڈرائیور کے کرتبوں سے لڑھکتے گرتے سنبھلتے دعائیں کرتے ہم پھر اک بار اس پلے لسٹ کو سننے پر مجبور دکھ سے بس یہی سوچ رہے ہیں کہ 
" یہ نسل ایسے ہی نہیں بگڑی اس نسل کی ماں بگڑ گئی "
کبھی مائیں لوریوں میں رسولوں کی کہانیاں سنا کر بچوں کو سلایا کرتی تھیں ۔۔
آج کی ماؤں نے کیسا آسان حل نکال لیاہے مگر انہیں اس بات کا ادراک نہی. کہ وہ اپنی اولاد کو کس زہر کا عادی بنا رہی
اسکی رگوں میں کیسا نشہ گھول رہی ۔۔۔
سچ کہا گیا ہے کہ ۔۔۔
ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا پھر اسکے ماں باپ ہیں جو اسے جو بھی چاہیں بنادیتے ۔۔
وہ یہود و نصاری ہو
 بے حیا یا باحیا
باکردار ہو یا بدکردار
اس میں ماں باپ کا کتنا بڑا کردار ہوتا ۔۔۔۔..
بچی سو چکی ہے دعا کیجئے ہمیں کچھ دیر نیند آجائے ۔۔۔۔
کہ زمانے کے تیور تو نہیں سلانے والے
ملتان پہنچنے تک اور نجانے کتنی بار وہ پلے لسٹ ری پلے کی جائےگی ۔۔۔۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔