میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 27 فروری، 2017

یہ ہے میرا پاکستان

یہ ہے میرا پاکستان !
:::::::::::::::::::::::::
تحریر رعایت ﷲ فاروقی

2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ 
میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے آئے تھے۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو روکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا
"یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا"
یہ ہے میرا پاکستان

میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا 
"جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا" 
وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں میرا بیٹا بیمار ہوا، میں ٹیکسی والے سے بھاؤ تاؤ کئے بغیر فورا اسے ٹیکسی میں ڈال کر پمز پہنچا اور ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے کہا 
"میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" 
عرض کیا "مجھے کوئی تنگی نہیں، آپ لے لیں"
 تو اس نے کہا "اللہ آپ کو اور دے مگر میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" 
یہ ہے میرا پاکستان

میں بہت ہی اداس کیفیت میں کراچی کے ایک چائے خانے پر بہت دیر سے بیٹھا تھا، دس برس کا کوئٹہ والا ویٹر بچہ میرے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا 
"تم کیوں اتنا پریشان بیٹھا ہے ؟" 
اور میرا سارا دکھ اسی لمحے ختم ہوگیا۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

جو میرے اس پاکستان میں نفرت کا پرچار کرے وہ میرا دوست تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تو پھر " رعایت ﷲ فاروقی " اپنے پاکستان کا قرض اتاریں ،
مہاجر ، سندھی ، بلوچی ، پنجابی اور پختون پاکستانیوں کو قتل کرنے والوں کو سہارا دیں ۔
اپنے پختون بھائیوں کو بتائیں ، کہ نفرت مت پھیلائیں ۔
پشتون یا افغان پشتون، نسل کَش دھشت گرد کو دہشت گرد کہیں ۔
اُسے معصوم اور بھٹکے ہوئے کہہ کر، منافقت کا لبادہ مت پہنائیں ۔
یاد رہے گمشدہ ماضی کے پشتون ، پختون خواہ نہیں ، دہشت گرد ہیں  

 مہاجرزادہ
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔