میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 4 فروری، 2017

خیبر پختون خواہ سے گذرنے والی سی پی ای سی

 
چترال سے خیبر پختونخواہ میں داخل ہوکر مانسہرہ سے حسن ابدال کے علاقے میں داخل ہونے والی چائینا پاک اکنامک کوریڈور ، کی کئی کلومیٹر طویل سڑک نے  حویلیاں سیکشن میں، تھا کوٹ کے پاس ہزارہ  موٹر وے کا راستہ 5 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تقریباً 4 کلومیٹر کردیا ہے ، جس کی وجہ ڈھائی کلو میٹر طویل سرنگ ہے ، جو ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ میں تعمیر کی گئی ہے ۔

پختوخواہ سے گذرنے والی یہ سرنگ چینی انجنیئرنگ کا منہ بولتا شاہکار ہے
، 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔