میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 29 مارچ، 2017

ایسٹ تِمور - پاکستان سے پاکستانی

٭٭٭٭٭٭٭٭
چم چم ، میں  اور بڑھیا جس دن سے یہاں پہنچے ہیں ، یہاں موجود پاکستانیوں کی محبت اور دعوتوں کا لطف اُٹھا رہے ہیں، جو یہاں ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں ، اجنبیوں کے درمیان مانوس زبان کی آواز سننے کو کان کتنا ترستے ہیں ، اِس کا اندازہ دیارِ غیر میں موجود افراد ہی کر سکتے ہیں ۔ 

چم چم کی تاریخ پیدائش 14 مارچ ہے ، لیکن اُس کی دستیابی کی صورت میں ، سالگرہ 10 مارچ سے ہی شروع ہوجاتی ہے، ویسے میں گھر میں جب بھی کیک آتا ، اُسے چم چم اپنی سالگرہ کا کیک سمجھ کر کاٹتی ، نانا نانی ، ماما بابا ، خالی ، پھوپی ، چچاؤں ، دونوں ماموں کے کیک کی تو کوئی بات نہیں لیکن جب اُس نے لڈؤ اور برفی کے کیک پر حق جمانا شروع کیا تو اُسے بتایا کہ ، سالگرہ سال میں صرف ایک ہوتی ہے ۔ لیکن اب بھی ، کوئی پانچ چھ کیک تو اُس کی سالگرہ کے ہوتے ہیں، جو مختلف دنوں میں سالگرہ مِس کرنے والے کاٹتے ہیں اب آخری کیک ، اسلام آباد میں دادا کے گھر کاٹا جائے گا ،
گو کہ 14 مارچ کو یہاں پہنچتے ہی اُس کی ماما نے سالگرہ کا انتظام کیا تھا ، جس میں تین فیلیز شامل تھیں،  پھر اعلان کیا کہ  18 مارچ کو بروز ہفتہ سالگرہ ہوگی اور تمام پاکستانی مدعو ہیں ، اُس کے لئے وٹس ایپ بر دعوت دے ڈالی ، مگر 20 مارچ کو الیکشن کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے یہ آج 26 مارچ کو ملتوی کرنا پڑی ۔

چم چم کی ماما کا خیال تھا کہ کرسٹو رے ، کے دامن میں بیچ کا علاقہ اِس کے لئے نہایت موزوں ہے ، سب نے کہا کہ ، ریسٹورانٹ سے نہیں بلکہ گھریلو چیزیں بنوائی جائیں گی ۔ 

صبح دس بھے میزبانوں کا قافلہ روانہ ہوا ، یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ 3 کلومیٹر بیچ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، 

سب سے آخر میں جہاں ہم نے جگہ منتخب کی تھی ، جہاں ابھی تک کافی جگہ خالی تھی ، چٹائیاں اور چادریں بچا کر ، جگہ پر قبضہ کیا ، دوسرا مرحلہ ہیپی برتھ ڈے کے غبارے اور جھنڈیاں ٹانکنے کا تھا ۔ جھنڈیاں ٹانکتے وقت ، غبارے پھلانے کی ذمہ داری تین نوجوانوں کو دی ۔ 

 
چم چم نے سمندر دیکھا تو مچل گئی ، وہ پانی کی طرف دوڑی تو اُس کی ماما نے چلا کر واپس بلایا تو اُس نے کہا ،
" ماما بیچ پر پارٹی کیوں رکھی ؟"


بات تو اُس کی درست تھی ۔ لیکن سب تو کیک کاٹنے کے بعد ہونا تھا ،
آہستہ آہستہ مہمان آنا شروع ہو گئے ، وعدہ تو قریباً 37 افراد اور 20 بچوں کے آنے کا تھا ، جن میں پاکستانی اور یواین کی 5 فیملیز بھی تھیں جن میں سے تین فیملیز آئیں ، جن کی 5 بچیاں چم چم کی ہم عمر تو نہیں لیکن کھیل میں ماہر تھیں ، اُنہیں بھی پانی میں جانے سے روکا ،

11 بجے ، جب آخری پاکستانی فیملی آئی تو کیک کاٹا گیا ،
چم چم اور بچیاں تو کیک کاٹتے ہی پانی کی طرف دوڑیں ،


بوڑھے نے بڑھیا سے گلہ کیا ،
" خواہ مخواہ ، مجھے پینٹ اور قمیض پہنا دی "
" آرام سے بیٹیں اور مہمانوں کو دیکھیں " اب بوڑھا چم چم تو نہیں ، کہ بات منوا کر چھوڑے۔

کھانے کے بعد سب کو بیٹی اور بڑھیا نے اکٹھا کیا اور غبارے پُھلانے کا مقابلہ شروع کروا دیا ،مقامی لوگ دیوار پر آکر بیٹھ گئے ، غیر ملکی دور سے خوش ہو رہے تھے ۔

اُس کے بعد ، " جیوے جیوے پاکستان " سب نے مل کر گایا ،



سوہنی دھرتی اللہ رکھے ، سے لوگوں کے دل میں جذبہءِ پاکستان گرمایا ۔

پاکستان کا قومی ترانہ مل کر پڑھا ۔

پھر بیت بازی کا مقابلہ شروع ہوا ، جب شعر ختم ہوتے ہیں تو پھر صحیح مقابلہ شروع ہوتا ہے ، شعر و شاعری کا یہ مقابلہ ، محمد ارشاد نے بلا مبالغہ اپنی دو نظمیں سنا کر جیت لیا جو اُس نے میٹرک میں کہیں تھیں۔

یوں ایسٹ تِمُور میں بزمِ ادب کی بنیاد پڑھ گئی ۔ 

پیر، 27 مارچ، 2017

ایسٹ تِمور ۔ چپکے سے بہار آئے

٭٭٭٭٭٭٭
25/03/2017 اتوار آج ہمارا پروگرام عطارو جزیرے پر جانے کا تھا ۔جس کا دیلی سے فاصلہ 42 کلومیٹر تھا ۔ یہاں سے ایک بڑا جہاز برلن نکرومہ ، جب یہ آیا ہوگا تو اِس کی حالت ، اچھی تھی ، مگر اب یہ بُری حالت میں ہفتہ اور اتوار کو چلتا ہے ۔ بلکہ یوں سمجھو کہ ، صرف ہفتہ اور اتوار کو ٹورسٹ کو لے کر جاتا ہے ۔ 



اور دوسری درمیانے سائز کی بوٹ ڈریگن سٹار عطارو جاتی ہے . ایک دن پہلے بکنگ کرائی ، ڈریگن سٹار کے چار کمپارٹمنٹ ہیں ، وی آئی پی ، ٹورسٹ ، فیملی اور تیموری ورکرز ، کرایہ بالترتیب ، 25، 15، 10 اور 5 ڈالر ہے بوٹ صبح 8 بجے روانہ ہوکر واپس ڈیڑھ بجے سے تین بجے کے درمیان موسم کے مطابق واپس آتی ہے ،
وی آئی پی ، کلاس کا ائرکون خراب تھا ، لہذا ہم نے ٹورسٹ کا ٹکٹ لیا اور صبح پکنک کھانا بنا کر راوبگی کی جگہ اگئے جو شپ یارڈ کے ، شمال مغربی کنارے پر تھی ۔ گیغ بند تھے لہذا ساتھ پارک میں ، سمندر کے ساتھ بنی منڈیر پر انتظار کے لئے بیٹھ گئے سامان کار ہی میں رہا ۔
  
بڑھیا نے کیتھولک عیسائیوں کی سرزمین پر 40 نمازوں کا قصد کیا تھا چنانچہ اُس نے کعبہ نما سے کعبہ کی سمت نکالی جانماز بچھائی اور بیٹھ گئی ، 

چم چم منڈیر پر بیٹھ کر بوٹ کا انتظار کرنے لگی ، 

مجھے دور ، گرجا نظر آیا تو میں نے فوٹو گرافی کے لئے اپنا نائکن 3100 ڈی ایس ایل آر نکالا، اور فوٹو گرافی شروع کی ،یہاں جتنے بھی گرجے اور مندر ہیں ، انڈونیشیاء نے بنوائے تھے ، 1975 سے پہلے یہاں پرتگالیوں کا راج تھا ، دسمبر میں انڈونیشی فوج کے ایکشن کے بعد ، یہاں کے عیسائی عوام نے مزاحمتی تحریک شروع کر دی ۔ 1999 میں آزادی کے بعد تِموریوں نے جابجا ، جنگ لڑنے والوں کے مجسمے بنائے ، عجائب گھروں میں پوری تحریک کی تصویریں اور دیگر معلومات رکھیں ۔
 یہاں کے درخت بہت قدیم ہیں ، جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں ، درختوں کے پیچھے مجھے ایک مجسمہ نظر آیا وہاں سے گرجے اور مجسمے کی تصویر لی ، پھر مجسمے کے نزدیک گیا ، یہ تمور کی آزادی دو ہیروؤں کا مجسمہ ہے ، جس میں مرتے ہوئے شخص کو دوسرا سہارا دیئے ہوئے ہے ، دونوں مجسمے فن کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔
میں دو تین تصوریں کھنیچ کر واپس جانے کے لئے مڑا تو ایک تِمُوری نوجوان کان میں ہینڈ فری لگا کر سامنے سے آتا ہوا نظر آیا ، اُس نے میری طرف دیکھا ، اور زور سے کہا ،
" السلام و علیکم "
مجھے ایسا لگا کہ ویرانے میں چپکے سے بہار آگئی ہے ۔
" وعلیکم السلام ، ور حمۃ اللہ و برکاتۃ " کہا ، وہ چلتے چلتے رک گیا ، میں نے آگے بڑھ کرگرم جوشی ہاتھ ملایا-
" پاکستان ؟ " اُس نے پوچھا ،
" الحمد للہ " میں نے جواب دیا ۔
 
،  نوجوان کا تعلق یہاں کی مسلم آبادی سے تھا میں نے پوچھا ،


" تمھیں کیسے اندازہ ہوا کہ میں مسلمان ہوں ، ہندو بھی ہوسکتا ہوں" 

" پچھلے جمعہ کو میں نے آپ کو مسجدِ نور میں دیکھا تھا " اُس نے جواب دیا ،" لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آپ انڈین ہو یا پاکستانی "
اُس نوجوان سے کافی باتیں کرنے کا دل چاہا رہا تھا کہ چم چم کی آواز آئی ۔
" آوا ! بوٹ ارہی ہے " چنانچہ اُس کا موبائل نمبر لیا اور آئیندہ ملنے کا کہہ کر ہاتھ ملا کر چل پڑا ۔
بڑھیا نے پوچھا یہ کون تھا جس سے آپ باتیں کر رہے تھے ،
" ایک مسلمان " اور سامان اٹھا کر باقی بچوں کے ساتھ بوٹ کی طرف بڑھ گیا ۔


٭٭٭٭٭٭٭



صدارتی الیکشن - ایسٹ تِمُور 20 مارچ 2017

٭٭٭٭٭٭٭٭
آج ایسٹ تِمُور میں صدارتی انتخابات ہیں ، یہاں 14 سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ تمام سکولوں میں چھٹی ہے اور اُن میں پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں ، یہاں ہر ووٹر صدر کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالتا ہے ۔ جمہوری ملکوں میں جو صدر کا رتبہ ہوتا ہے وہ یہاں بھی ہے ، گویا یہاں کا صدر اور پاکستان کا صدر ، دونوں کی طاقت ایک جیسی ہیں ، یعنی ھیڈ آف دی سٹیٹ اور سٹیٹ فنکشن کی سربراہی پر صدر مطمئن ہوتے ہیں اور طاقت کا سرچشمہ چونکہ عوام ہیں  ۔ لہذا    وہ اپنی طاقت وزیر اعظم کے حوالے کر کے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔  موجودہ صدر جوز ماریہ ونکولیس ہ
ے جس کا  سابقہ گوریلا لقب   ۔ ٹیٹم ،  یعنی دو تیز آنکھیں ہے ۔طور متن راک کے نام سے مشہور ہیں ۔
صدارتی انتخابات کا یہاں آج 20 مارچ 2017 کو پہلا راونڈ ہے ، جیتنے والے کو 51 فیصد ووٹ لینا لازمی ہے ، بصورتِ دیگر دوسرا راونڈ 20 اپریل کو ہوگا ۔ 

صدارتی انتخابات کے امیدواراں  کی تعداد  8 ہے  ،
1- جوز انتونیو دی جیسسز دی نیوس  ۔(جوز شمالا 
 روؤا کے نام سے مشہور ہے )  یہ سابقہ گوریلا لیڈر ہیں ۔  2016 تک یہ ڈپٹی کمشنر  اینٹی کرپشن کمیشن میں رہے ہیں ۔ 
2- جوز لوئیس گتیریس  - فرینٹی مڈانکا  ،ایک سیاسی پارٹی ہے  - جس کا مقصد ایسٹ تِمُور  کا احیائے نو ہے ۔
3- اموریم ویرا ، آزاد امید وار ۔
4- لوئیس   اے تلمان   ، آزاد امید وار ۔
5- فرانکوس گتیریس ۔  سابقہ گوریلا جنگجو  ہے –سابقہ صدارتی امیدوار تھا ، لیکن سیکنڈ راونڈ  میں ھار  گیا ۔ انقلابی فرنٹ پارٹی،  ایسٹ تِمُور  سے تعلق ہے ۔ 
6- انتونیو دی کنسیکاؤ ۔ کا تعلق  جمہوری پارٹی سے ہے۔
8-   انجیلا فریتاس   ۔ لیبر پارٹی کی واحد خاتون امیدوار ہے ۔ 
ایسٹ تِمُور سٹیٹ کا دار الخلافہ دیلی ہے اور 11,67,233 افراد پر مشتمل سٹیٹ،   کل 13 انتظامی میونسپل کمیٹیوں میں منقسم ہے ۔  انہیں ڈسٹرکٹ کہا جاتا ہے ۔  یہ ڈٖسٹرکٹ مزید سب ڈسٹرکٹ میں منقسم ہیں ۔ 

مختلف میونسپلٹیز، وہاں  کا رقبہ، آبادی  اور گھروں کی تعداد  کے بارے میں شماریات درج ذیل ہیں ۔

ایسٹ تِمُور سٹیٹ کا سرکاری مذہب  ، کیتھولک ہے اور چرچ کو یہاں فوقیت حاصل ہے ،پاپائے روم یہاں کا روحانی پیشوا ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ  1975 میں جب ایسٹ تِمُور  کو پرتگیزیوں  سے آزادی ملی  اور انڈونیشیاء نے 7 دسمبر کو فوجی ایکشن کیا تو یہاں کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھا لئے ۔
1999 میں پولنگ کے بعد عیسائی  لیڈر کی فتح  ایک خونیں انقلاب لائی  جس میں شکست خوردہ اسلامو فاشسٹ  مسلمانوں کے ہاتھوں  1400 افراد ہلاک ہوئے  تو یو این کے امن دستوں نے یہاں کا چارج سنبھال لیا ۔ جس میں پاکستانی دستے بھی شامل تھے ، پاکستانی بٹالین کی کمانڈ کرنل مسعود احمد خان (اب بریگیڈئر ریٹائرڈ ) کر رہے تھے ، جنہوں نے یہاں اچھے اخلاق اور برتاؤ کا مظاہرہ کیا ، یہی وجہ ہے کہ  
تِمُور پاکستان فوج کی بہت عزت کر تے ہیں ،
یہاں دیلی میں  پاکستان سے آئے ہوئے  ، نوجوانوں نے  اپنی ایک یونئین بنائی ہے ، جس کے موجودہ صدر  کامران سعید ہیں جو ابھی رجسٹریشن کے مراحل میں ہے ۔
یہاں  کی ایک مسجد میں ہر جمعرات کو شبِ جمعہ میں مغرب سے عشاء تک تبلیغ کی جاتی ہے جس  ایک نوجوان عزیز الحق  خطاب کرتے ہیں جن کا تعلق کراچی کی تبلیغی جماعت سے ہے ۔ 

اتوار، 26 مارچ، 2017

مشرقِ بعید-ٹِمور لِسٹے (ایسٹ تِمور)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 چم چم ، بڑھیا اور بوڑھا ،سِلک ائر میں سمندروں اور جزیروں کے اوپر ہے پرواز کرتے ہوئے ، ایسٹ تِمور  کے کیپیٹل ڈِیلی  کی فضاء میں اترنے کے لئے سمندر کے اوپر چکر کاٹ رہے تھے ،" وہ دیکھو  ائرپورٹ "بوڑھے نے ایک پتلی سے لینڈنگ سٹرپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔" اتنی چھوٹی ، اور آگے سمندر کیا پائلٹ اِسے آرام سے اتار لے گا ؟" بڑھیا نے جملہءِ شکیّہ میں پوچھا ۔
" نانو، میں نے پڑھا تھا کہ ایک دفعہ جہاز پانی میں اُتر گیا ، تو لوگوں کو بوٹس سے نکالا تھا " چم چم بولی ۔
" عالی چُپ کرو ، بُری باتیں نہیں کرتے " بڑھیا بولی
" سچ نانو !  لوگوں کو اتنا مزہ آیا وڈیو میں کئی لوگ سمندر میں سوئمنگ کر رہے تھے "چم چم خوشی سے بولی ۔" آوا ، آپ اور میں دونوں سوئمنگ کریں گے اور نانو بوٹ میں جائیں گی" ۔ 
بڑھیا نے تسبیح گھمانی شروع کردی اور پائلٹ  نے جہاز  گھمایا اور  رن وے پر آرام سے اتار لیا ۔ 


ہفتہ، 25 مارچ، 2017

مشرقِ بعید - سنگا پور تا ٹِمور لِسٹے (ایسٹ تِمور)


مشرقِ بعید-کولمبو تا سنگا پور اور چانگی ائر پورٹ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


صبح  چھ بجے آنکھ کھل گئی ۔  8 بج کر 25 منٹ پر  چیک اِن ہونا تھا ، تیار ہو کر بوڑھے نے چائے بنائی ، بڑھیا نے بسکٹ نکالے ،  چم چم کو جگایا ۔ اُس  نے  پھر کپ کیک کھانے کی فرمائش کی ۔ چنانچہ  پونے سات بجے ہوٹل سے چیک آؤٹ کیا ۔
  اور پھر میکڈونلڈ والے فلور پر پہنچے ، چم چم نے اپنے لئے ، ہیپی میل پسند کیا ، وہ لے کر انڈین ریسٹورینٹ پہنچے  ، بوڑھے نے لچھے دار دو عدد پراٹھوں کا آرڈر دیا ، ساتھ دال ملی ۔ مزے سے کھایا ، چائے پی اور بورڈنگ پاس لینے کے لئے  کاونٹر پر پہنچے ۔  جو ہمارے ہوٹل کے نیچے اور ڈرائینگ بنانے کے سامنے تھا ۔
چم چم  ،بوڑھا اور بڑھیا کاونٹر کے سامنے جاکر کھڑے ہوگئے ۔ کاونٹر اونچا تھا ، چم چم کو  ٹکٹ دینے والی    ملائی لڑکی نظر نہیں آرہی تھی بوڑھے نے چم چم کو اوپر اُٹھایا -
 چم چم نے کہا ، "ہم نے  ایسٹ تیمور جانا ہے ، مجھے ونڈو  سیٹ چاھئیے "  
" اوہ ینگ گرل مجھے دیکھنے دو  کہ   سیٹ بُک تو نہیں ہوئی " ملائی لڑکی مسکراتی ہوئی بولی ۔ 
" اوہ  ، میں نے تمھیں ونڈو سیٹ دے دی اب خوش ہو "
" شکریہ میڈم " چم چم نے کہا اور میری گود سے نیچے اُتر گئی ۔
بڑھیا اور چم چم  پیچھے رکھے ہوئے صوفوں پر جا بیٹھیں ، " ملائی لڑکی نے بورڈنگ کارڈ اور ٹکٹ ہمیں واپس کئے ۔
اب ہم دوگھنٹے تک گھومنے پھرنے کے لئے آزاد تھے ۔ لیکن ہمیں گیٹ نمبر 52 کے اردگرد رہنا تھا ۔
لیکن چم چم کا جھولا جھولنے کا پروگرام تھا۔چم چم ٹرالی پر بیٹھ گئے اور ہم جھولوں کی طرف چل پڑے ۔

 
چم چم  نے ہر جھولا جھولا ، رنگوں سے سکیچ بنائے  ، اپنے دکھتے پیروں کا مساج کیا ،  گھنٹے بعد  ہم گیٹ نمبر 52 کے پاس آئے تو چم چم  نےچلنے والی پٹی پر دوڑنے کی خواہش ظاہر کی ۔   چنانچہ ، گیٹ کے سامنے سامان رکھ کر بڑھیا کو بٹھا دیا ، چم چم  نے  پیدل چلنے والوں کے لئے چلنے والی سٹرپ پر ایک طرف سے جانا اور دوسری طرف سے واپس آنے کا کھیل شروع کر دیا ، جب تھک گئی  تو بڑھیا  کی کرسی کے پیچھے  سٹرپ پر کھڑی ہو گئی اور سٹرپ چلتی رہی اور وہ جاگنگ مل کی طرح ایکسرسائز کرتی رہی ،  کہتے ہیں کہ بچوں میں جن حلول کئے ہوتا ہے ۔ گھنٹہ دھماچوکڑی مچانے کے باودوجود بھی جب جہاز کے لئے لاونج میں آنے کا اعلان ہوا تو وہ ، ایک بار کا کہہ کر پوری 100 میٹر کے لگ بھگ سٹرپ پر جاکر دوسری سٹرپ سے دوڑتے ہوئے واپس آئی ۔

 گیٹ پر سِلک ائرا ور امیگریشن کا عملہ کھڑا تھا ۔لیپ ٹاپ کو اُس کے بیگ سے نکالا ، پرس ، موبائل اور تمام  ، میٹیلک اشیاء بشمول عینک ، لیپ ٹاپ کے بیگ میں ڈالیں ، بڑھیا نے اپنے بیگ میں ، ڈالیں  ۔ جوتے اتار کر  ٹرے میں رکھے ، اور ہینڈ کیری   سامان سمیت  سکیننگ مشین  کے حوالے کر دیا ، اور خود  میٹل ڈیٹیکٹر گیٹ سے گذر کر دوسری طرف آئے ۔  امیگریشن سٹاف کی خاتون نے بڑھیا کے بیگ سے پانی کی بوتل برآمد کی اور بے اعتنائی سے ڈسٹ بن میں ڈال دی جو اُس نے چم چم کے لئے رکھی تھی ۔  مرد نے بوڑھے کو بیگ کھولنے کا کہا ، دو کوک ٹن ، ایک سیون اپ اور ایک سیون اپ ڈائیٹ کا ٹن  بر آمد کئے ۔
" یہ آپ نہیں لے جاسکتے " مرد نے کہا
" یہ ہم پاکستان سے نہیں لائے چانگی سے خریدے ہیں " بوڑھے نے کہا
" لیکن اِس کی جہاز پر اجازت نہیں  ! " وہ بولا
" کیا ہم اِسے پی سکتے ہیں  ؟ " بوڑھے نے پوچھا
لاونج  میں بیٹھ  کر پینے سے بہتر ہے کہ یہاں پی لیا جائے ، بوڑھے نے سوچا ، چنانچہ چم چم کو کوک دی ، بوڑھے نے سیون اَپ لی لیکن بڑھیا نے ڈائیٹ لینے سے انکار کر دی ۔
" نہیں ، نہیں یہ نہیں پھینکیں " بڑھیا کی اونچی آواز سنائی دی " یہ سالگرہ کا تحفہ ہے "
بوڑھے نے کوک پیتے ہوئے دیکھا  ، مرد کے ہاتھ میں وہ پرفیوم تھا جو بڑھیا نے بوڑھے کو اُس کی 63 ویں سالگرہ پر 16 ستمبر کو دیا تھا ،
" پلیز اِسے مت  پھینکنا " بڑھیا گھگیائی "  یہ پر فیوم ہے اِسے سونگھ کر دیکھو "  
مرد نے سونگھ کر دیکھا ، بوتل کو غور سے دیکھا ،
 " لیکن یہ 200 ملی لٹر سے زیادہ ہے "  وہ بولا " میم اِس کو جہاز میں لے جانے کی اجازت نہیں "
جیمز بانڈ اور امریکی فلموں میں  200 ملی لٹر پرفیوم کی مدد سے جہاز اغواء کرنے والے سین نے امیگریشن سٹاف کو زیادہ تعلیم یافتہ بنا دیا ہے ۔
" سر یقیناً جب یہ خریدہ تھا تو 200 ملی لٹر سے زیادہ تھا " بوڑھا بولا " لیکن اب یہ تو صرف  آدھا رہ گیا ہے "
ادھیڑ عمر نصف گنجے سر والے امیگریشن  پہلوان نے بوتل کو غور سے دیکھا ،
" ٹھیک ہے یہ کم ہے اورواپس بوتل کو سوٹ بیگ میں ڈال دیا ۔ اتنے میں بوڑھا اپنی سیون اپ ختم کر چکا تھا ، لیکن چم چم نے ابھی دو تین گھونٹ ہی لئے تھے ، بوڑھے نے  اپنا خالی ٹِن اُس کے حوالے کیا اور چم چم کی کوک کو اُسے دکھاتے ہوئے  کہا ۔
" آفیسر میرا خیال ہے کہ ، اِس کوک کے ٹِن  میں آتش گیر سیال اب  ون ہنڈریڈ  ایٹی سکس لٹر رہ گیا ہے ،  اب 200 سے کم ہے ۔ کیا اِسے لے جاسکتے ہیں ؟"
امیگریشن آفیسر  نے بوڑھے کی طرف دیکھا ، اور قہقہہ لگایا ، 
" بائی آل مین سر  " وہ بولا " لیکن جہاز میں بیٹھنے سے پہلے ، اِسے ڈسٹ بن میں ڈال دینا "
" یقیناً : بوڑھا بولا " شکریہ سر ۔ آپ مہربان ہیں " اور آگے بڑھ گئے ۔اور جاکر کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ 
" لیکن آوا ، آپ نے جھوٹ کیوں بولا " چم چم نے پوچھا
" میں نے !  کب ؟ " بوڑھے نے حیرانگی سے پوچھا ۔
" آپ نے اُس ڈرایا تھا  نا ؟  " چم چم بولی " کہ اِس میں  آتش گیر سیال ہے ، لیکن اِس میں تو کوک ہے "  
" ارے نہیں ، میں نے اُس سے مذاق کیا تھا " بوڑھا بولا
چم چم وسیع و عریض ، کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی جس سے  دو سوفٹ  دور سِلک ائر کا جہاز کھڑا تھا جس میں ہم نے اپنے سفر کے آخری حصے کے لئے سوار ہونا تھا ۔ رن وے پر ایک کے بعد ایک جہاز اُڑ رہا تھا اور دور والے رن وے پر اتر رہا تھا ۔ چم چم اپنی سکریپ بُک میں جہازوں کے نام لکھ رہی تھی ۔ پندرہ منٹ بعد واپس آئی ، جو کوک اُس نے چھوڑی تھی وہ پی  کر ،  نانو کی گود میں سر رکھ کر بیٹھ گئی ۔
جہاز میں بیٹھنے کا اعلان ہوا ، بوڑھے نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کوک اُس کو دی ۔
" چم چم ، یہ ختم کر کے ٹِن ڈسٹ بِن میں ڈال دو " بوڑھے نے کہا ۔
" نہیں آوا  " چم چم بولی ، چنانچہ بوڑھے نے وہ کوک ختم کی اورٹِن  چم چم کو دیا اُس نے  وہ  ڈسٹ بِن میں ڈال دیا ، چم چم نے ہاتھ میں پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ لئے ، بوڑھے نے  ، چم چم کا بیگ ، اپنالیپ ٹاپ ، کیمرہ اور ہم تینوں کے سفری سامان کا سوٹ بیگ لیا اور کھڑے ہوئے ۔ گیٹ پر کھڑے ہوئے ۔ سٹاف نے ہماری طرف آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا  پورے جہاز کے مسافروں میں ، وہ اشارہ ہم تینوں کے لئے  کیا تھا ،  خوشی ہوئی کہ ہمیں یعنی اکانومی کلاس کے مسافروں کو  وی وی آئی پی کا پروٹوکول دیا جارہا ہے ، یوں  سَلک ائر وے کی جہاز میں داخل ہونے والے ہم پہلے مسافر تھے ۔ بڑھیا بھی حیران   بولی ۔
 " اِنہوں نے ہمیں سب سے پہلے  کیوں سوار  کیا  ؟ "
" عالی کی وجہ سے " بوڑھے نے جواب دیا ، " کیوں کہ تمام مسافروں میں   صرف  عالی ہی، وی وی آئی پی مسافر ہے "  
" حیرت ہے کہ یہ بچوں کو اتنی فوقیت دیتے ہیں ! " بڑھیا حیرانی سے بولی  " ہمارے ہاں تو ایسا نہیں ہوتا "
" ہم انسان نہیں" ،بوڑھا بولا ،  "پاکستانی ہیں "
چم چم  ، کھڑکی کے نزدیک بیٹھ گئی ، پھر بڑھیا اور آخر میں بوڑھا  ۔ چم چم نے اپنا آئی پیڈ نکالا اور گیم کھیلنے لگی  ۔  سب مسافروں کے بیٹھنے کے بعد ائر ہوسٹس  چم چم کے پاس آئی  اور پوچھا، "ینگ گرل،  آپ کیا پیئں گی "؟
" ایپل جوس   اور چاکلیٹ بسکٹ " چم چم بولی ۔
ائر ہوسٹس   نے چم چم کو   ایپل جوس   اور چاکلیٹ بسکٹ لا کر دئیے ۔ دوسری  ائر ہوسٹس  سب کو ایک چھوٹا سا پیکٹ لا کر دے رہی تھی ۔ ہمیں بھی تین پیکٹ دئے ، بڑھیا نے ایک کھولا اُس میں   خوشبو ملے پانی میں تر  ٹشو رومال تھا  ۔ بڑھیا نے سونگھا ،  بوڑھے کو دیا  کہ آپ نے ہاتھ صاف کرنے ہیں ، بوڑھے نے انکار کیا تو باقی دو رومال بڑھیا کی زنبیل میں چلے گئے ۔
ابھی  اسلام آباد میں  یہ داستان لکھتے ہوئے بوڑھے نے سامنے صوفے پر لیٹ کر تسبیح  گھماتی ہوئی  بڑھیا سے پوچھا ،
" بیگم ، یہ بتاؤ !  سلک ائر میں ملنے والے  ، وہ  ٹشو رومال کہاں ہیں ؟ "
 " کیوں خیریت  ؟ "  بڑھیا نے آدھا اٹھ کر پوچھا ،" دو مہینے بعد وہ کیوں یاد آئے ؟"
" ویسے ہی پوچھ لیا " بوڑھے نے کہا
" پڑے ہیں میرے پاس " بڑھیا نے واپس لیٹتے ہوئے کہا " سفر کی یادگار  کے طور پر "
بڑھیا کا ایک مکمل بکس  ایسی یاد گاروں سے بھرا ہوا ہے ۔ جس میں اُس کے لئے سب سے اہم ، ایک سال خوردہ کاغذ میں ،ایمفورا تمباکو کے چند خشک پتے ہیں ، جو 1977 سے اُس کے پاس ہیں ۔  
ایک  ائر ہوسٹ نے  ، پانی ، سافٹ ڈرنکس اور ڈرنکس دینا شروع کئے ،  جب سب نے پی لئے تو ، ایک بڑے سے شاپر میں   ہوسٹ اور ہوسٹس نے خالی بوتلیں اور خالی ڈبے  جمع کرنے شروع کئے ، اتنے میں جہاز  نے  سنگا پور کے وقت کے مطابق  9 بج کر 25 منٹ پر چلنا شروع کیا اور پھر اُڑان بھری ، سنگا پور کی بلند دو بالا بلڈنگز کے اوپر سے گذرتا ہوا  ، حدِ نظر  کھڑے ہوئے   سمندر میں کھڑے ہوئے بحری جہازوں سے سلامی لیتا ہوا  بادلوں  میں داخل ہوتے ہوئے   نیلگوں آسمان  میں اُڑنے  لگا  ، بادلوں کے بھی عجیب رنگ تھے ، برف کی طرح سفید سے  قرمزی  اور سیاہ کالے ۔  سفید بادلوں کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے اور سیاہ بادلوں سے خوف ، کہ اِن کے پیچھے کتنے مہیب طوفان چھپے ہیں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

پیر، 20 مارچ، 2017

مشرقِ بعید-کولمبو تا سنگا پور اور چانگی ائر پورٹ

مشرقِ بعید - لاہور تا کولمبو (سری لنکا)

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
سری لنکا کے وقت کے مطابق ایک بج کر 55 منٹ ، پاکستان کے وقت کے مطابق ایک بج کر 25 منٹ  اور سنگاپور کے وقت کے مطابق ،  4 بج کر 25 منٹ گویا ، ساڑھے  چھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم  سنگاپور کے ، چانگی ائر پورٹ  کے ٹرمینل 3 پر اترے ۔
بھئی کیا بڑا ائر پورٹ ہے، ایک ٹرمینل سے دوسرے ٹرمینل تک جانے کے لئے ، خود کار  سکائی ٹرین چلتی ہے  ۔ائر پورٹ کے تین ٹرمینل ہیں ۔ ہر دو  منٹ  بعد ایک جہاز اترتا ہے اور دوسرا روانہ ہوتا ہے ، ٹیکسی وے پر انتظار میں جہاز یوں انتظار کرتے نظر آرہے تھے کہ جیسے آگے روٹ لگا ہوا ہے ۔ دنیا کی ہر ائر لائین ، یہاں سے گذرتی ہے ۔
ہم ٹرمینل 3 سے ٹرمینل 2 پر پہنچے جہاں اگلے دن  سلک ائر کی فلائیٹ  ایم آئی 296 ،  سنگا پور کے وقت کے مطابق 9 بج کر 25 منٹ پر تھی ۔ہم پاکستان سے تین گھنٹے آگے تھے ۔

 ٹرمینل 2 پر میجسٹک ہوٹل میں 3 بیڈ کا کمرہ بُک کروایا ہوا تھا ؛ جو    6 گھنٹے کے لئے تھا ، یعنی شام 7بجے سے رات ایک بجے تک ، چنانچہ  مزید 6 گھنٹے کے پیسے ادا کر کے صبح  7 بج تک   وقت بڑھا لیا ، چابی لے کر کمرے میں پہنچے ،  بوڑھے نے  غسل کیا ، چائے بنائی اور پھر تینوں آٹھ بجے   ٹرمینل 2 کی سیر کو نکلے ۔
  چم چم کی ماما نے چم چم کو بتایا کہ اُس کے لئے ائر پورٹ پر کیا کیا تفریح ہیں۔ پیسٹل کلر پینٹنگ ، سن فلاور گارڈن، جھولے ، پاؤں  دبانے کی مشینیں ، بٹر فلائی گارڈن ، میکڈونلڈ ، سب وے ، انڈین فوڈ ۔ ائر پورٹ پر ہر تین گھنٹے کے لئے انٹرنیٹ کنیکشن فری جو پاسپورٹ دکھانے پر ملتا ۔  
 چم چم  کی ساری کارگذاریاں ، بڑھیا ، فیملی گروپ پر  وٹس ایپ کر رہی تھی  ۔ دس بجے کھانے کا پروگرام بنا  ، لفٹ سے تیسری منزل پر پہنچے ، چم چم کو سب وے نظر آیا ، اُس نے سب وے پر کھانے کا شور مچا دیا ، سب وے کے پاس پہنچے  ، بوڑھے اور بڑھیا کو متلی سی ہونے لگی ۔
بوڑھے نے   پوچھا ،"حلال فوڈ؟"
چھوٹی سی گول مٹول سنگا پوری لڑکی بولی ، " نہیں "
واپس لوٹے توچم چم مچل گئی ، کہ کھائے گی تو سب وے ہی کھائے گی ، نانو ، آوا اچھے نہیں ہیں ، سب کھانے کھانے کے لئے ہوتے ہیں ، بابا نے بتایا کہ انہوں نے سنگا پور میں سب کھانے کھائے تھے ۔
بوڑھے کا دماغ  گھوم گیا ، " کیا ، آپ کے بابا نے یہ کہا تھا کہ اُس نے سب کھانے کھائے تھے؟ "
" جی یہی کہا تھا " چم چم بولی ۔
" کیا یہ بھی کہا تھا ، کہ انڈین فوڈ بھی کھایا تھا ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔
" ہاں ، بابا نے سب کھانے کھائے تھے " چم چم تقریباً روتے ہوئے بولی ۔" نانو میں بھی کھاؤں گی "
" اچھا ایسا کرتے ہیں کہ ابھی انڈین فوڈ کھاتے ہیں ، میں بابا سے پوچھوں گا ، پھر جو کھانے بابا نے کھائے وہ کھلا دوں گا " بوڑھے نے چم چم کو سمجھایا ۔
" پرامِس " وہ بولی
" پرامس، اگر آپ کے بابا نے مگر مچھ ، چھپکلی ، سانپ ، کچھوے ، کیکڑے  اور  آکٹوپس کھائے ، تو وہ بھی کھانے پڑیں گے " بوڑھا بولا
" نو وے !! آوا ، آپ مجھے کچھ بھی کھانے پر مجبور نہیں کر سکتے " چم چم بولی "  میری مرضی جو میں کھاؤں "
" میں میکڈونلڈ ، کھاؤں گی" چم چم میکڈونلڈ کا بورڈ دیکھ کر بولی ۔
بڑھیا نے ، میکڈونلڈ پر کھڑی لڑکی سے پوچھا  " آپ کے پاس حلال فوڈ ہے ؟"
" جی ہاں ہمارے پاس صرف چکن اور بیف ہے " وہ بولی " اور وہ دیکھیں حلال فوڈ کا لوگو "

بوڑھے نے آگے بڑھ کر لوگو کو غور سے دیکھا ، اور چم چم کو کہا ،" اپنی پسند کا آرڈر دے دو  اور ہاں سب تمھیں کھانا ہے کوئی بھی چیز نا بچے  ، میں نہیں کھاؤں گا ۔ نانو بے شک کھا لے "
نانو نے بھی انکار کر دیا ، چنانچہ چم چم نے  برگر اور نّگٹ  لئے چپس اور کو ک ساتھ ملی ۔ نانو نے اُسے کھانا کھلایا ۔ 

 

پھر ہم تینوں انڈین ریسٹورینٹ گئے ، پہلی خوشی تو یہ ملی ، کہ انگلش سے پیچھا چھوٹا   ، کاونٹر پر موجود ہندی نوجوان  ، ہندی بول رہا تھا جو ہمیں اردو لگ رہی تھی ، ویسے  بھی پانچ ہزار سالوں سے بولی جانے والی ہندی کی اردو ، نومولود سگی بہن تھی ، لیکن پھر 1857 کے بعد ھندی نے ، فارسی اور عربی سے رشتہ داری گانٹھ لی ۔
اُس نے جن کھانوں کے نام بتائے وہ سب قابوں میں پڑے  شوکیس میں گرم ہورہے تھے ، بوڑھے نے اپنی مسلمانی بچانے کے لئے ، دال چاول کا آرڈر دیا ۔ بڑھیا نے بھی  دال چاول پر اکتفا کرنے کا ارادہ کیا ، بوڑھے نے ماش کی دال اور بڑھیا نے لوبیئے کی دال منگوائی ۔ جس میں ذائقہ کم اور پیٹ بھرنے کا سامان تھا ۔ ہاں ساتھ انہوں نے جھونگے میں ایک ایک رکابی میں دال دی  ، جو ارہر کی دال کے مشابہ تھی مگر اُس کی سیرت نہ بڑھیا پہچان پائی اور نہ بوڑھا ، لیکن وہ مزیدار تھی ، ایک تقریبا 80 سالہ دھان پان سے بڑھیا ، ٹیبل صاف کرنے پر لگی تھی بوڑھے نے اشارہ کر کے پوچھا  ،" کیا یہ اور مل سکتی ہے "
 وہ ایک ٹرے میں دو  رکابیاں لے آئی ، لوبیا اور ماش ایک طرف ، دونوں نے چاول اُس دال سے تر کیے  اور پیٹ بھر کر کھایا ۔ بوڑھے نے کھانے کے بچے ہوئے پیسوں میں سے ، ایک سنگا پوری ڈالر کی اُسے ٹپ دی تو وہ خوش ہو گئی ۔
بوڑھے اور بڑھیا پر آہستہ آہستہ تھکن غالب آرہی تھی ،  رات 12 بجے چم چم نے آٹھ سال کا ہوجانا تھا ،  گو کہ چم چم  کے ساتویں سال کا آخری دن تین گھنٹے پہلے ہی ختم ہوچکا تھا ، مگر ٹریڈیشنل  طور پر رات 12 بجے کا بہرحال انتظار کرنا تھا ۔  چنانچہ چم چم نے اپنے لئے گفٹ ایک  ڈاگی پسند کیا  ،   ایک  حلال کپ کیک خریدا ،کیوں کہ سارے بڑے کیک مشکوک تھے ،  رات  ساڑھے گیارہ  بجے ، جب پاکستان میں ساڑھے  آٹھ بج رہے تھے واپس ہوٹل میں آئے  ، بوڑھے نے دوبارہ چائے بنائی ، رات 12 بجے چم چم  نے کپ کیک کاٹا۔
اُسے سالگرہ کی مبارکباد دی، چم چم نے کیک کھایا  اور دونوں نے مل کر چائے پی ، چم چم تو لیٹتے ہی ، خواب میں ماما کے پاس پہنچ گئی ۔


 بوڑھا ، مُفتے کے انٹر نیٹ پر اپنے لیپ ٹاپ سے فیس بُک کے دوستوں میں مگن ہوگیا۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مشرقِ بعید - سنگا پور تا ٹِمور لِسٹے (ایسٹ تِمور)

اتوار، 19 مارچ، 2017

مشرقِ بعید - لاہور تا کولمبو (سری لنکا)


مشرقِ بعید - اسلام آباد تا لاہور


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیٹی کے  اسلام آباد ائر پورٹ پر تلخ تجربے کے بعد ، بوڑھے کو معلوم تھا کہ اُسے ایف آئی اے کی اُس نامعقول رویئے سے گذرنا پڑے گا ، لہذا اُس نے اپنے ایک یونٹ آفیسر کی مدد لی ، اُس نے ائرپورٹ پر  مہربانوں کے پروٹوکول کی مدد فراہم کی ، چنانچہ  موبائل آن ہوتے ہی ، انسپکٹر شکیل کا فون آیا ، "سر آپ کہاں ہیں ؟ فون بند مل رہا تھا میں پریشان تھا ،  میں ائر پورٹ پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ، آپ 10 بجے تک پہنچ جائیں "۔
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ   کی طرف آ رہے ہیں  ۔ "
" اتنی جلدی  !  "اُس نے حیرت سے کہا ۔" فلائیٹ تو رات ساڑھے بارہ بجے جائے گی ۔ اگر آپ نکلے نہیں ہیں تو ساڑھے نو بجے تک آجائیں "
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ  میں داخل ہو رہے ہیں ۔  "
 " ٹھیک ہے سر ، میں دومیسٹک کی طرف ہوں ابھی  پہنچتا ہوں۔"
ائر پورٹ پہنچ کر  ، ایک دوست کو فون کیا ، اُس نے   بتایا کہ اُس کا نمائیندہ ابھی پہنچتا ہے ، نمائیندے  کے ہمرا ہ  ، سامان سکین کرنے کے بعد ٹکٹ لاونج میں پہنچے ، تھوڑی دیر بعد  شکیل صاحب اور چیمہ صاحب پہنچ گئے ۔ اُنہوں نے  سامان اور ٹکٹ لے لئے ، تاکہ بورڈنگ کارڈ اور سامان بُک کروایا جا سکے ۔چم چم کے لئے ایک اور ٹرالی لی جس پر وہ بیٹھ گئی ۔

سری لنکن ائر لائن کے کاونٹر پر پہنچے ، تاکہ    یو ایل -186فلائیٹ  کے لئے بورڈنگ کارڈ  لئے جائیں اور  ایسٹ تِمُور تک کے لئے سامان بُک کرایا جائے ۔  وہاں معلوم ہوا کہ ساما ن صرف  سنگا پور تک جائے گا  کیوں کہ سنگا پور سے ایسٹ تِمُور کا کنکشن نہیں مل رہا ،  اتنے میں بیٹی کا فون آیا ، اُسے بتایا ، تو اُس  نے کہا ، کہ آپ سامان ایسٹ تِمُور تک بُک کروائیں ۔ ورنہ آپ کو سنگا پور باہر نکلنا پڑے گا اور آپ کے پاس سنگا پور کا ویزہ نہیں ، پریشانی ہو گی ، اُس نے یو این کے پروٹوکول آفیسر مسٹر طاہر خان کو فون کیا ، اور انسپکٹر شکیل ، بکنگ آفیسر کے سر پر سوار ہوگیا ، سری لنکن ائر لائن کے ائرپورٹ مینیجر کو پکڑا  ، پہلے تو اُس نے معذرت کی لیکن پھر ، ایسٹ تِمُور تک سامان بُک کرکے بورڈنگ  کارڈ دے دیئے  ۔


اب مرحلہ تھا امیگریشن کلیئرینس کا ، مسافروں کی لمبی لائن تھی ، ہم تینوں کو سائڈ سے لے جا کر  ، ایف آئی اے کے انچارج کے کمرے میں بٹھا دیا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ، انسپکٹر شکیل نے مجھے باہر بلایا ، جہاں امیگریشن آفیسر نے مکمل انکوائری کی ، شک تو اُسے بھی تھا کہ کہیں ، بوڑھا ، بڑھیا اور چم چم  خرگوش نہ بن جائیں ، جب اُسے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ بوڑھے یا بڑھیا کو بمع چم چم خرگوش بننے کی کوئی خواہش نہیں تو اُسے یقین آیا ، یوں ہماری تصاویر  وزارتِ داخلہ کے سسٹم میں داخل ہوگئیں تاکہ ثبوت رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے ۔
یقین کریں کہ اگر انسپکٹر شکیل ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو شاید ہم تینوں بھی ائر پورٹ سے واپس ہو رہے ہوتے ۔ میں حیران تھا کہ اتنی سخت امیگریشن چیکنگ کے باوجود ، پاکستانی کیسے بغیر ویزہ کے اُن ملکوں میں چلے جاتے ہیں ، جہاں کا ویزہ لینا لازمی ہوتا ہے ۔ بہر حال امیگریشن کلیئر ہونے کے بعد میں نے امیگریشن آفیسر سے پوچھا ،
" ایسٹ تِمُور میں پہنچنے کے بعد ویزہ لگتا ہے ،، مسافر جانے اور آنے دونوں کا ٹکٹ لے کر جاتا ہے ، اگر ویزہ نہیں لگے تو اگلی فلائیٹ سے واپس آجائے گا ؟"
تو اُس نے بتایا ،
" جس بھی ملک میں پہنچ کر ویزہ ملتا ہے ، ہم وہاں جانے والوں کو خصوصی چیک کرتے ہیں  کہ وہاں پہنچنے والے خرگوش نہ ہوجائیں ۔ پھر جب  خرگوش پکڑے جاتے ہیں اور ڈی پورٹ کئے جاتے ہیں تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوتی ہے ! "
زیادہ تر خرگوش ، سعودی عرب  (جدہ  یا مدینہ ) سے واپس بھیجے جاتے ہیں اور دوسرے نمبر پر یونان ہے ۔ جہاں رزق کی تلاش میں جانے والے، اپنی ماں کے زیورات ، بہن کا جہیز یا  سود خوروں سے لیا گیا قرض ، لمبی لمبی داڑھیوں ، پیشانی کے درمیان  سیاہ نشان  والے ،انسانی سمگلروں  کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ، واپسی پر بوڑھا باپ یا  لاچار ماں    ، دولت کے سپنے دیکھنے والے نالائق بچوں کو ایف آئی اے ، پاسپورٹ سیل  کو دانہ دُنکا دے کر چھڑاوتے ہیں ۔
کیا اِس کے علاوہ اِس بدنامی سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے ؟
کیوں کہ وزارتِ داخلہ ، ہر پاکستانی کو پاسپورٹ دے کر اپنی جیب بھر رہی ہے ، جو پاسپورٹ بنوائے گا اُس کا مقصد عمرہ کرنا یا ملک سے باہر اپنے لئے روزگار تلاش کرنا ۔
نوجوانوں   کے ہاتھ میں جب پاسپورٹ آتا ہے اُس کی خوشی کی بلندیاں ، مہاجر زادہ  سے زیادہ کون جان سکتا ہے ۔
پھر وہ سوچتا ہے کہ دوست کا بھائی  یا اگلی گلی میں رھنے  والا چاچا خوش قسمت کا بیٹا ، کیسے ملک سے باہر گیا اور اب ڈالر کما کر بھیجتا  ہے جس کی وجہ سے اُن کا کچا گھر اب پکا ہو گیا ہے ، پیدل چلنے والے  بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو موٹر سائیکل دلوادی ہے اور اب وہ مزے کر رہا ہے ۔
یہ اٹھارہ سالہ پاسپورٹ ہولڈر ، گنوار بھی یہی خواب  دیکھنے شروع کر دیتا ہے ، اور حکومتِ پاکستان وزارت داخلہ کی صوابدید  سے کسی  انسانی سمگلنگ گروہ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔ اور پھر پولیس والوں ، ایف آئی اے اور امیگریشن والوں کی اوپر کی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔
میری رائے میں ، صرف ہنرمندوں اور پڑھے لکھے  طالبعلموں  کو  پاسپورٹ  دیا جائے جو غیر ممالک میں تعلیم کے لئے  جانا چاہیں ۔ ملازمت کے خوہشمند افراد کو  حکومت اِس طرح سپورٹ کرے کہ وہ انسانی سمگلروں کے ہتھے نہ چڑھیں ۔
وزیر اعظم کا یوتھ کے لئے ایک  انٹرن شپ پروگرام چل رہا ہے  ۔ جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو   نہ صرف مہارت دلائی جائے گی بلکہ اُن کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ، اسی طرح کم تعلیم یافتہ ہنر مندوں کا پروگرام بھی اسلام آباد  میں غالباً ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ  ایچ -8 ، میں چل رہا ہے ، حکومت کو چاھئیے کہ اِن میں  اچھے نمبروں سے کوالیفائی کرنے والوں کو ، بیرون ملک روزگار فراہم کرے ، اِس سے نہ صرف ملک میں زرمبادلہ آئے گا بلکہ  ہنرمند طالبعلموں کی اُن کی مہارت کے مطابق  بین الاقوامی  شعبوں میں رسائی بھی ہوگی ۔
تو ذکر ہو رہا تھا ،  امیگریشن کلیئرنس کا ،  وہاں سے فارغ ہوئے تو  شکیل اور چیمہ صاحب بھی ساتھ آگئے ، مزید پیسے دے کر  ،میں نے بڑھیا اور چم چم کو وی آئی پی لاونج میں بٹھا دیا اور خود  شکیل اور چیمہ صاحب کے ساتھ اکانومی لاونج میں بیٹھ گیا ہم  تینوں مختلف  موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ۔
12:35 پر فلائیٹ تھی ،  پونے بارہ  بجے جہاز  میں بیٹھنے کا اعلان ہوا ،  دونوں صاحبان نے ہمیں  لاونج کے گیٹ تک چھوڑا ، ہم تینوں  لنک ٹنل سے  جہاز  تک پہنچے ،   خوشکل نمکین رنگت والے میزبانوں نے نمستے کے انداز میں ، مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا ،  سیٹوں تک راہنمائی کی ، 220 مسافروں کا یہ جہاز  ائر بس  320 کا تھکا ہوا ماڈل تھا  ۔ جس میں سامنے والی  سیٹ کی پشت   کے بجائے ، چھوٹی سی سکرین اوپر لٹکی ہوئی تھی ۔ جس کا چم چم کو بہت دکھ ہوا ۔ چم چم نے جہاز میں کھڑکی والی سیٹ پر قبضہ جمایا ، بڑھیا نے اُس کے ساتھ اور میں بڑھیا کے ساتھ بیٹھ گیا ، بڑھیا نے ائر ہوسٹس سے چم چم کے لئے کمبل کی فرمائش کی  اور چم چم نے ایپل کے جوس کی  ، جو اُس نے تھوڑی دیر بعد لاکر دے دیا ۔بوڑھے ، بڑھیا اور چم چم نے دعائے سفر پڑھی ، کہ سفر بخیر و عافیت گذرے ۔ جہاز  لاہور سے کولمبو  کے لئے روانہ ہوا تو چم چم اور بڑھیا   لاہور کی روشنیاں دیکھتی رہیں ۔پھر جہاز ہندوستان میں داخل ہوگیا ۔
 کھانا آیا ، ائر ہوسٹس سے پوچھا کہ کھانا کہاں سے لوڈ ہوا ہے ، اُس نے بتایا لاہور سے ، تو بے خوف ہوکر ، مچھلی ، سبزی اور چکن کا کہا جو اُس نے دے دیا ۔بنتِ انگور ، پسرِ جو  اور جوروءِ  واڈکا  ،بھی موجود تھی ، جو طلب گاروں کو پیش کی گئی ، ہم نے ہینڈ کیری میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بھی رکھی تھی ، کہ اگر کھانا مشکوک ہوا تو نانِ جویں پر گذارا کریں گے ۔ مچھلی کا سالن بمع چاول  مزیدار تھا  ، سبزی اور چکن  بھی اچھا تھا ۔  کھانا کھا کر چم چم تو سو گئی  اور ہم دونوں بھی اونگھتے اونگھتے بالآخر سو گئے ۔  بوڑھے نے  ائرلائن سروس کو دس میں سے پانچ نمبر  دیئے ، کیوں کہ بوڑھے کا یہ اصول رہا ہے ،  رفاع یونیورسٹی   حاجی کیمپ اسلام آباد ، میں  پرسنل ڈویلپمنٹ کی کلاس میں جب پہلا سٹوڈنٹ سٹیج پر جاتا اور دو منٹ کی  سپیچ  ( ایلیویشن پِچ   ) ختم کرتا  تو بوڑھا اُسے  پانچ نمبر دیتا اور پھر اُس کے بعد    اُسے بنچ مارک بنا کر باقی سٹوڈنس کو نمبر دیئے جاتے ۔ بس یوں سمجھیں کہ اگر بوڑھا سری لنکن ائر لائن کے مقابلے میں پی آئی اے کو نمبر دے تو  وہ تین بنیں گے اور ائر بلیو ، ساڑھے تین ۔ اتحاد  ائر لائن چار اور امارات ائر لائن  ساڑھے چا ر ، سنا ہے کہ جدّہ کے علاوہ جانے والی،  اتحاد  ائر لائن اور امارات ائر لائن شائد    آٹھ نمبر حاصل کر لیں ۔لیکن عمرے پر  لے جانے والوں کی فلائیٹس تو دو نمبر بھی نہ لے سکیں ۔ حالانکہ عمرے پر جانے والوں سے سب سے زیادہ کرایہ لیا جاتا ہے ۔
  سری لنکا اور پاکستان کے وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہے  چار گھنٹے اُڑنے کے بعد جہاز یعنی پاکستان کے  صبح کے  چار بج کر پینتیس منٹ اور  سری لنکا کے پانچ بج کر پانچ منٹ پر  بندرا نائیکے  انٹرنیشنل ائر پورٹ کولمبو پر اترا ۔  
آپ کے علم میں ہوگا کہ ، سری لنکا ایک جزیرہ ہے ۔ جس کی آبادی تقریباً  دو کروڑ ہے  اور رقبہ 65 ہزار کلو میٹر سکوائر  ہے ،   خواہ کا رقبہ  74 جہاں سے دنیا کے ہر ملک میں جہاز جاتے ہیں -
جہاز سے لنک ٹنل کے ذریعے لاونج میں آئے  ، جہاں سے ہمیں   کولمبو سے سنگا پور کے کاونٹر پر پہنچنا تھا ۔ کیوں کہ دو گھنٹے 20 منٹ بعد فلائیٹ تھی ، بورڈنگ کارڈز کیوں کہ لے چکے تھے لہذا پریشانی نہ تھی ۔ لیکن اُس سے پہلے واش روم کی تلاش تھی ، ڈیپارچر لاونج کے اوپر   بڑا  سار ریسٹ ایریا تھا ، جس کے ایک کونے میں واش روم تھے ، بوڑھا سامان کے پاس بیٹھا ، پہلے بڑھیا اور چم چم   گئیں ۔ دس منٹ بعد وہ واپس آئیں تو بوڑھا  گیا ، پتلون اور قمیض کو  ٹریک ٹراوزر اور   ٹی شرٹ میں تبدیل کیا  اور خود کو پرسکون پایا ۔
موبائل کھولا سگنل  وارید اور یو فون کے سگنل موجود مگر کمزور   ، وارید کی رومنگ آن کی  لیکن انٹر نیٹ ڈاٹا  آن نہیں ہوا ،  لہذا موبائل بند کر کے واپس لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال دیا ، یہی حال بڑھیا کے زونگ کا تھا ۔ 
6 بج کر 25منٹ پر ڈور اوپن کا مژدا سنایا گیا ۔ایمبارکیشن  کاونٹر کے پاس پہنچے ، لائن سانپ کی طرح لمبی تھی ، جو تین فلائیٹس کے لئے تھی ۔ رینگتے ہوئے  سکیننگ مشین کے پاس پہنچے ،  نہ جیب میں موبائل نہ پرس یہاں تک کہ ہاتھ میں گھڑی تک نہ تھی ، لیکن والک تھرو گیٹ  ہڑبڑا کر جاگ گیا  اور لائیٹس بلنک کرنے لگیں  ۔ بڑھیا کے منہ میں بھی لوہا اور بوڑھے کے منھ میں بھی ، اُنہوں نے جوتے اتارنے کا کہا ، تو بتایا کہ جبڑا اتار کر دیں گے تو یہ خاموش ہوگا ۔چنانچہ  وہ مان گئے اور گذرنے دے دیا ۔
مسافر تین طرف جارہے تھے ، ہمیں دائیں جانب جانے کا کہا گیا ۔ ایک دروازے کے سامنے کاونٹر پر  ایک نمکین صورت  جوڑا کھڑا تھا ۔ بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ دیئے ۔ چم چم کے پاسپورٹ کو دیکھ کر نوجوان نے  لڑکی سے سری لنکن زبان میں  کچھ بولا ، لڑکی نے  کہا ،"کوئی بات نہیں"  ،  اُس نے پھر کچھ کہا ، چم چم نے پوچھا " آوا ، یہ کیا کہہ رہے ہیں "
بوڑھے نے کہا ،" یہ کہہ رہے ہیں کہ چم چم 12 سال سے کم ہے تو وہ جہاز کی دُم پر بیٹھ کر جائے گی "
" نو وے ، میں جہاز کی دُم پر نہیں بیٹھوں گی " چم چم نے یک دم کہا " میں جہاز کے اندر بیٹھوں گی "

وہ دونوں ہنسے اور چم چم کو سمجھایا کہ 12 سال سے کم عمر والے پسنجر کو  ایمرجنسی ڈور کے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں  ہے !
اور ہمیں ہال میں ایک طرف بیٹھنے کو کہا ، جب سب مسافر بیٹھ گئے   تو پھر سیٹوں کی ترتیب کے حساب سے پہلے 15 نمبر کے مسافروں کو جانے دیا ۔  لیکن ہمیں چم چم  کی وجہ سے پہلے جانے دیا ،  سب آرام سے اُٹھے کوئی بد نظمی نہیں ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بس میں بیٹھے اور جہاز میں پہنچے ۔  ایک رو میں  8 سیٹیں  تھیں ، ہر سیٹ کے پیچھے وڈیو سکرین تھی ، جسے دیکھ کر چم چم خوش ہوئی کہ اب وہ مزے سے کارٹون دیکھے گی ۔ دن کا سفر تھا بادلوں اور سمندر کے علاوہ دور تک زمین نہ تھی – جہاز میں یورپیئن ٹورسٹ  زیادہ تھے ، سری لنکن ، فلپینی ،  ملائیشیئن  انڈونیشیئن ، انڈین اور بس ہم تین پاکستانی – سفر چونکہ سری لنکا سے سنگا پور کا تھا ، لہذا  سروس کے چھ نمبر ، لاہور تا سری لنکا کے مقابلے میں ائر ہوسٹس  کے  رنگ میکسی پاک  گندمی کے بجائے  دیسی گندم نما تھے ، قد بھی اچھے اور   کمر رشکِ کمر تھی ۔ انگلش کا لہجہ بھی بہتر تھا ۔ ورنہ  سندھیوں کی انگلش اور سری لنکن کی انگلش  میں زیاہ فرق نہیں ۔
ہاں  واپسی پر  کولمبو ائر پورٹ پر ایک سندھی نوجوان حیدرآباد کا ملا جو ملائیشیا سے کیمیکل میں  پی ایچ ڈی کرکے آرہا تھا  ۔ ہم سے تو اردو میں بات کی لیکن چم چم سے بہترین انگلش لہجے میں  باتیں کرتا رہا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔