میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 25 مارچ، 2017

چپکے سے بہار آئے

آج ہمارا پروگرام عطارو جزیرے پر جانے کا تھا ۔جس کا دیلی سے فاصلہ 42 کلومیٹر تھا ۔ یہاں سے ایک بڑا جہاز برلن نکرومہ ، جب یہ آیا ہوگا تو اِس کی حالت ، اچھی تھی ، مگر اب یہ بُری حالت میں ہفتہ اور اتوار کو چلتا ہے ۔ بلکہ یوں سمجھو کہ ، صتف ہفتہ اور اتوار کو ٹورسٹ کو لے کر جاتا ہے ۔ 


اور دوسری درمیانے سائز کی بوٹ ڈریگن سٹار عطارو جاتی ہے . ایک دن پہلے بکنگ کرائی ، ڈریگن سٹار کے چار کمپارٹمنٹ ہیں ، وی آئی پی ، ٹورسٹ ، فیملی اور تیموری ورکرز ، کرایہ بالترتیب ، 25، 15، 10 اور 5 ڈالر ہے بوٹ صبح 8 بجے روانہ ہوکر واپس ڈیڑھ بجے سے تین بجے کے درمیان موسم کے مطابق واپس آتی ہے ،
وی آئی پی ، کلاس کا ائرکون خراب تھا ، لہذا ہم نے ٹورسٹ کا ٹکٹ لیا اور صبح پکنک کھانا بنا کر راوبگی کی جگہ اگئے جو شپ یارڈ کے ، شمال مغربی کنارے پر تھی ۔ گیغ بند تھے لہذا ساتھ پارک میں ، سمندر کے ساتھ بنی منڈیر پر انتظار کے لئے بیٹھ گئے سامان کار ہی میں رہا ۔
بڑھیا نے کیتھولک عیسائیوں کی سرزمین پر 40 نمازوں کا قصد کیا تھا چنانچہ اُس نے کعبہ نما سے کعبہ کی سمت نکالی جانماز بچھائی اور بیٹھ گئی ، 

چم چم منڈیر پر بیٹھ کر بوٹ کا انتظار کرنے لگی ، 

مجھے دور ، گرجا نظر آیا تو میں نے فوٹو گرافی کے لئے اپنا نائکن 3100 ڈی ایس ایل آر نکالا، اور فوٹو گرافی شروع کی ،یہاں جتنے بھی گرجے اور مندر ہیں ، انڈونیشیاء نے بنوائے تھے ، 1975 سے پہلے یہاں پرتگالیوں کا راج تھا ، دسمبر میں انڈونیشی فوج کے ایکشن کے بعد ، یہاں کے عیسائی عوام نے مزاحمتی تحریک شروع کر دی ۔ 1999 میں آزادی کے بعد تِموریوں نے جابجا ، جنگ لڑنے والوں کے مجسمے بنائے ، عجائب گھروں میں پوری تحریک کی تصویریں اور دیگر معلومات رکھیں ۔
 یہاں کے درخت بہت قدیم ہیں ، جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں ، درختوں کے پیچھے مجھے ایک مجسمہ نظر آیا وہاں سے گرجے اور مجسمے کی تصویر لی ، پھر مجسمے کے نزدیک گیا ، یہ تمور کی آزادی دو ہیروؤں کا مجسمہ ہے ، جس میں مرتے ہوئے شخص کو دوسرا سہارا دیئے ہوئے ہے ، دونوں مجسمے فن کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔
میں دو تین تصوریں کھنیچ کر واپس جانے کے لئے مڑا تو ایک تِمُوری نوجوان کان میں ہینڈ فری لگا کر سامنے سے آتا ہوا نظر آیا ، اُس نے میری طرف دیکھا ، اور زور سے کہا ،
" السلام و علیکم "
مجھے ایسا لگا کہ ویرانے میں چپکے سے بہار آگئی ہے ۔
" وعلیکم السلام ، ور حمۃ اللہ و برکاتۃ " کہا ، وہ چلتے چلتے رک گیا ، میں نے آگے بڑھ کرگرم جوشی ہاتھ ملایا-
" پاکستان ؟ " اُس نے پوچھا ،
" الحمد للہ " میں نے جواب دیا ۔
 
،  نوجوان کا تعلق یہاں کی مسلم آبادی سے تھا میں نے پوچھا ،

" تمھیں کیسے اندازہ ہوا کہ میں مسلمان ہوں ، ہندو بھی ہوسکتا ہوں" 

" پچھلے جمعہ کو میں نے آپ کو مسجدِ نور میں دیکھا تھا " اُس نے جواب دیا ،" لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آپ انڈین ہو یا پاکستانی "
اُس نوجوان سے کافی باتیں کرنے کا دل چاہا رہا تھا کہ چم چم کی آواز آئی ۔
" آوا ! بوٹ ارہی ہے " چنانچہ اُس کا موبائل نمبر لیا اور آئیندہ ملنے کا کہہ کر ہاتھ ملا کر چل پڑا ۔
بڑھیا نے پوچھا یہ کون تھا جس سے آپ باتیں کر رہے تھے ،
" ایک مسلمان " اور سامان اٹھا کر باقی بچوں کے ساتھ بوٹ کی طرف بڑھ گیا ۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔