میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 26 مارچ، 2017

ایسٹ تِمور - پاکستان سے پاکستانی ۔

چم چم ، میں  اور بڑھیا جس دن سے یہاں پہنچے ہیں ، یہاں موجود پاکستانیوں کی محبت اور دعوتوں کا لطف اُٹھا رہے ہیں، جو یہاں ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں ، اجنبیوں کے درمیان مانوس زبان کی آواز سننے کو کان کتنا ترستے ہیں ، اِس کا اندازہ دیارِ غیر میں موجود افراد ہی کر سکتے ہیں ۔ 

چم چم کی تاریخ پیدائش 14 مارچ ہے ، لیکن اُس کی دستیابی کی صورت میں ، سالگرہ 10 مارچ سے ہی شروع ہوجاتی ہے، ویسے میں گھر میں جب بھی کیک آتا ، اُسے چم چم اپنی سالگرہ کا کیک سمجھ کر کاٹتی ، نانا نانی ، ماما بابا ، خالی ، پھوپی ، چچاؤں ، دونوں ماموں کے کیک کی تو کوئی بات نہیں لیکن جب اُس نے لڈؤ اور برفی کے کیک پر حق جمانا شروع کیا تو اُسے بتایا کہ ، سالگرہ سال میں صرف ایک ہوتی ہے ۔ لیکن اب بھی ، کوئی پانچ چھ کیک تو اُس کی سالگرہ کے ہوتے ہیں، جو مختلف دنوں میں سالگرہ مِس کرنے والے کاٹتے ہیں اب آخری کیک ، اسلام آباد میں دادا کے گھر کاٹا جائے گا ،
گو کہ 14 مارچ کو یہاں پہنچتے ہی اُس کی ماما نے سالگرہ کا انتظام کیا تھا ، جس میں تین فیلیز شامل تھیں،  پھر اعلان کیا کہ  18 مارچ کو بروز ہفتہ سالگرہ ہوگی اور تمام پاکستانی مدعو ہیں ، اُس کے لئے وٹس ایپ بر دعوت دے ڈالی ، مگر 20 مارچ کو الیکشن کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے یہ آج 26 مارچ کو ملتوی کرنا پڑی ۔

چم چم کی ماما کا خیال تھا کہ کرسٹو رے ، کے دامن میں بیچ کا علاقہ اِس کے لئے نہایت موزوں ہے ، سب نے کہا کہ ، ریسٹورانٹ سے نہیں بلکہ گھریلو چیزیں بنوائی جائیں گی ۔ 

صبح دس بھے میزبانوں کا قافلہ روانہ ہوا ، یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ 3 کلومیٹر بیچ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، 

سب سے آخر میں جہاں ہم نے جگہ منتخب کی تھی ، جہاں ابھی تک کافی جگہ خالی تھی ، چٹائیاں اور چادریں بچا کر ، جگہ پر قبضہ کیا ، دوسرا مرحلہ ہیپی برتھ ڈے کے غبارے اور جھنڈیاں ٹانکنے کا تھا ۔ جھنڈیاں ٹانکتے وقت ، غبارے پھلانے کی ذمہ داری تین نوجوانوں کو دی ۔ 

 
چم چم نے سمندر دیکھا تو مچل گئی ، وہ پانی کی طرف دوڑی تو اُس کی ماما نے چلا کر واپس بلایا تو اُس نے کہا ،
" ماما بیچ پر پارٹی کیوں رکھی ؟"

بات تو اُس کی درست تھی ۔ لیکن سب تو کیک کاٹنے کے بعد ہونا تھا ،
آہستہ آہستہ مہمان آنا شروع ہو گئے ، وعدہ تو قریباً 37 افراد اور 20 بچوں کے آنے کا تھا ، جن میں پاکستانی اور یواین کی 5 فیملیز بھی تھیں جن میں سے تین فیملیز آئیں ، جن کی 5 بچیاں چم چم کی ہم عمر تو نہیں لیکن کھیل میں ماہر تھیں ، اُنہیں بھی پانی میں جانے سے روکا ،

11 بجے ، جب آخری پاکستانی فیملی آئی تو کیک کاٹا گیا ،
چم چم اور بچیاں تو کیک کاٹتے ہی پانی کی طرف دوڑیں ،


بوڑھے نے بڑھیا سے گلہ کیا ،
" خواہ مخواہ ، مجھے پینٹ اور قمیض پہنا دی "
" آرام سے بیٹیں اور مہمانوں کو دیکھیں " اب بوڑھا چم چم تو نہیں ، کہ بات منوا کر چھوڑے۔

کھانے کے بعد سب کو بیٹی اور بڑھیا نے اکٹھا کیا اور غبارے پُھلانے کا مقابلہ شروع کروا دیا ،مقامی لوگ دیوار پر آکر بیٹھ گئے ، غیر ملکی دور سے خوش ہو رہے تھے ۔

اُس کے بعد ، " جیوے جیوے پاکستان " سب نے مل کر گایا ،


سوہنی دھرتی اللہ رکھے ، سے لوگوں کے دل میں جذبہءِ پاکستان گرمایا ۔

پاکستان کا قومی ترانہ مل کر پڑھا ۔

پھر بیت بازی کا مقابلہ شروع ہوا ، جب شعر ختم ہوتے ہیں تو پھر صحیح مقابلہ شروع ہوتا ہے ، شعر و شاعری کا یہ مقابلہ ، محمد ارشاد نے بلا مبالغہ اپنی دو نظمیں سنا کر جیت لیا جو اُس نے میٹرک میں کہیں تھیں۔

یوں ایسٹ تِمُور میں بزمِ ادب کی بنیاد پڑھ گئی ۔


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔