میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 26 مارچ، 2017

مشرقِ بعید-ٹِمور لِسٹے (ایسٹ تِمور)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 چم چم ، بڑھیا اور بوڑھا ،سِلک ائر میں سمندروں اور جزیروں کے اوپر ہے پرواز کرتے ہوئے ، ایسٹ تِمور  کے کیپیٹل ڈِیلی  کی فضاء میں اترنے کے لئے سمندر کے اوپر چکر کاٹ رہے تھے ،" وہ دیکھو  ائرپورٹ "بوڑھے نے ایک پتلی سے لینڈنگ سٹرپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔" اتنی چھوٹی ، اور آگے سمندر کیا پائلٹ اِسے آرام سے اتار لے گا ؟" بڑھیا نے جملہءِ شکیّہ میں پوچھا ۔
" نانو، میں نے پڑھا تھا کہ ایک دفعہ جہاز پانی میں اُتر گیا ، تو لوگوں کو بوٹس سے نکالا تھا " چم چم بولی ۔
" عالی چُپ کرو ، بُری باتیں نہیں کرتے " بڑھیا بولی
" سچ نانو !  لوگوں کو اتنا مزہ آیا وڈیو میں کئی لوگ سمندر میں سوئمنگ کر رہے تھے "چم چم خوشی سے بولی ۔" آوا ، آپ اور میں دونوں سوئمنگ کریں گے اور نانو بوٹ میں جائیں گی" ۔ 
بڑھیا نے تسبیح گھمانی شروع کردی اور پائلٹ  نے جہاز  گھمایا اور  رن وے پر آرام سے اتار لیا ۔ 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔