میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مارچ 5, 2017

غزوہ ءِ ھند- انیس

545ھ بمطابق 1150ء میں غزنی پر غور کے ایک حکمران علاؤ الدین نے قبضہ کرکے شہر کو آگ لگادی جس کی وجہ سے دنیا کا یہ عظیم شہر جل کر خاکستر ہوگیا۔ علاؤ الدین کے اس ظالمانہ کام کی وجہ سے لوگ اس کو ”جہاں سوز“ یعنی دنیا کا جلانے والا کہتے ہیں۔ اس کے بعد غزنوی خاندان کے آخری دو حکمرانوں کا دارالسلطنت لاہور ہوگیا۔ 582ھ میں غور کے ایک دوسرے حکمران شہاب الدین غوری نے لاہور پر قبضہ کرکے آل سبکتگین کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اور غوری خاندان  کی بنیاد رکھی ،

ا ۔ غوری خاندان کے غلام قطب الدین ایبک سے خاندان غلامان ، کی ابتداء ہوئی ۔ جس کے دس بادشاہوں میں چھ کوقتل یا پھر زھر دیا گیا اور ان کے ساتھ بے شمار مسلمانوں کا خون بھی بہا ۔


ب۔  خلجی حکمرانوں 1290ء تا 1320ء)  نے ، خاندانِ غلامان کی بنیاد جڑ سے اکھاڑ ڈالی ، تغلق خاندان نے خلجی خاندان کو 1320 میں مکمل ختم کردیا گیا ۔


ج ۔سلطان غیاث الدین تغلق نے دہلی پر تغلق خاندان کی حکومت قائم کی۔ یہ خاندان 1413ء تک حکمران رہا۔ تغلق شہزادوں اور ان کے غلاموں کا بڑے منظم طریقے سے قتل عام کیا گیا، فیروز تغلق کی وفات 1388کے بعد، مسلمانوں کی سیاسی زندگی کا آخری فیصلہ تلوار ھی کرتی رھی۔ اور اس کے بعد سید خاندان برسر اقتدار آیا۔

د: سید خاندان نے  1414ء سے1451 ء تک حکومت کی پھر لودھی خاندان نے سید خاندان کا سورج غروب کر یا ۔

ھ ۔  لودھی خاندان ھندوستان  پر 1451ء سے1526 ء تک حکمران رہا ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔