میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 5 مارچ، 2017

غزوہءِ ہند ۔ اول

 غزوہءِ ہند ۔
ایک ایسی روایات جس کے صرف دو روای ہیں ، حضرت ابوہریرہ اور رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ۔ اور اِس غزوہ کے بارے میں باقی کتب خاموش ہیں سوائے ،
احمد بن شعیب بن یحییٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ( 214ھ  تا 303ھ )  کے حوالے سے ۔
 وَعَدَنَا رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ غَزْوَۃ الْھِنْدِ فَانْ أدْرَكْتُھَا أنْفِقْ فِيھَا نَفْسِي وَمَالِي فَانْ أقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أفْضَلِ الشُّھَدَاءِ وَإنْ أرْجِعْ فَانَا أبُوھُرَيْرَۃ الْمُحَرَّرُ(سنن النسائی،باب غزوۃ الھند)
رسول اللہ ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا ہے۔ پس اگر میں نے اس غزوہ کو پایا تو میں اس میں اپنی جان اور اپنا مال خرچ کردوں گا۔ اگر مجھے قتل کردیاجائےگا تو میں سب سے زیادہ فضیلت والے شہداء میں سے ہوں گا اور اگر میں لوٹ آؤں گا تو میں (آگ سے) آزاد کیا ہوا ابوہریرہ ہوں گا۔
 عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ عِصَابَتَانِ مِنْ أمَّتِي أحْرَزَھُمَا اللہ مِنْ النَّارِ عِصَابَۃ تَغْزُو الْھِنْدَ وَعِصَابَۃ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْھِمَا السَّلَام (سنن النسائی،باب غزوۃ الھند)
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے (جہنم کی) آگ سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ ہےجو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا۔ ان احادیث کو امام نسائی نے اپنی کتاب السنن الکبریٰ میں بھی نقل کیا ہے۔ ( السنن الکبریٰ: رقم الحدیث: 4382،4383،4384)

یاد رہے کہ اگر یہ روایت واقعی محمدﷺ سے بیان کردہ ہے تو 631 ء سے 711ء تک مسلمان ، قرطبہ سے ایران اور افغانستان تک معرکے لڑنے اور فتح کرنے کے باوجود ہندوستان کو نظر انداز کرتے رہے ، یہاں تک کہ تاریخِ اسلامی میں سب سے منفی کردار رکھنے والے حجاج بن یوسف کو ، نسائی کی اِس روایت کا خیال آیا اور اُس نے غزوہ ءِ ھند کے لئے مسلمانوں کو ، اِس ضعیف روایت پر عمل کرنے کے لئے اُکسایا ۔ اور یوں ۔ 

غزوہ ہند ۔ اول :   
اموی خاندان کی طرف سے ھندوستان میں غزوہ ھند اول مسلمانوں نے  محمد بن قاسم کے ساتھ برپا کیا جو حجاج بن یوسف کا 17 سالہ داماد تھا ، محمد بن قاسم کی فتوحات کا سلسلہ 711ء میں شروع ہوا اور 713ء تک جاری رہا۔ جس نے دیبل سے ملتان تھا اموی خاندان کا سکہ بٹھا دیا ۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے ساتھ ہی فاتح سندھ محمد بن قاسم کا زوال شروع ہوگیا کیونکہ ولید کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک جانشیں مقرر ہوا جو حجاج بن یوسف کا سخت دشمن تھا۔ حجاج کا انتقال اگرچہ اس کی خلافت کے آغاز سے قبل ہی ہوگیا لیکن اس عداوت کا بدلہ اس نے حجاج کے تمام خاندان سے لیا اور محمد بن قاسم کی تمام خدمات اور کارناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں حجاج کے خاندان کا فرد ہونے کے جرم میں عتاب کا نشانہ بنایا۔

سلطنت بنو امیہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام نے خاندانوں اور قبائل کی جس تفریق اور امتیاز کو مٹا دیا تھا بنو امیہ نے اس کو دوبارہ زندہ کردیا۔ انہوں نے عربوں کے بھولے ہوئے سبق کو پھر یاد دلایا اور یہی سبق ان کی بربادی کا باعث بھی ثابت ہوا یعنی علویوں اور عباسیوں نے اسی خاندانی امتیاز کو آلۂ کار بنا کر بنو امیہ کی بربادی کے سامان فراہم کئے۔
اس خاندان نے اپنی حکومت اور سلطنت کے استحکام کے لیے ظلم و تشدد اورمسلمانوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ خلفاء بنو امیہ میں زیادہ نامور و قابل حکمران ہی اس غلطی کے مرتکب ہوئے۔ اس جبر و ظلم کا نتیجہ بھی ان کے حق میں بہتر ثابت نہ ہوا حالانکہ اس وقت ان کا نظریہ اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانا تھا جس کا اثر الٹا ہوا۔

غزوہ ءِ ھند کی محمد بن قاسم کے ہاتھوں تکمیل کے بعد بھی یہ روایت ، ھندوؤں کو تہہ و تیغ کرنے کے علاوہ مسلمانوں کا بھی بے دریغ فندیلمہ کرتی رہی ۔ ایک قوم دوسری قوم کو تہہ تیغ کرتی اور اُس کے سارے ہمدردوں کو بھی مسلمان ہونے کے باوجود جہنم واصل کرتی ۔

عباسیوں نے 750ء (132ھ) میں امویوں کے نیچے سے تخت کھینچ لیا ۔ جس کا اثر ھندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات سے حاصل کی ہوئی حکومت پر بھی پڑا۔
عباسیوں کی حکومت کا خاتمہ 1258ء میں منغول فاتح ہلاکو خان کے حملے کے ذریعے ہوا۔ تاہم خلیفہ کی حیثیت سے ان کی حیثیت پھر بھی برقرار رہی اور مملوک سلطان ملک الظاہر بیبرس نے خاندان عباسیہ کے ایک شہزادے ابو القاسم احمد کے ہاتھ پر بیعت کرکے اس کے نام کا خطبہ اور سکہ جاری کیا۔ اس طرح خلافت بغداد سے قاہرہ منتقل ہوگئی تاہم یہ صرف ظاہری حیثیت کی خلافت تھی، تمام اختیارات مملوک سلاطین کو حاصل تھے۔
 عثمانیوں کے ہاتھوں مملوکوں کی شکست کے بعد عباسیوں کی اس ظاہری حیثیت کا بھی خاتمہ ہوگیا اور خلافت عباسیوں سے عثمانیوں میں منتقل ہوگئی۔ موجودہ عراق میں تکریت کے شمال مشرق میں رہنے والا العباسی قبیلہ اسی خاندان عباسیہ سے تعلق رکھتا ہے۔
 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔