میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 مارچ، 2017

باہمت انسان !

مجھے آج آٹو رکشہ پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا جب میں آٹو میں بیٹھا تو دیکھا کہ ڈرائیور کی گود میں ایک چھوٹی سی بچی ہے تو میں سمجھا کہ شاید بچی نے آج ضد کی ہو گی کہ ابو میں بھی ساتھ جاؤں گی یا پھر اسے چلنے سے پہلے اتار دے گا مگر جب رکشہ چلا تو دیکھا کہ وہ بچی ریس دے رہی ہے اور ڈرائیور دوسری طرف سے سٹیرنگ پکڑ کر اسے کچھ بتا رہا ہے راستے میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور باپ کی ہدایات سنتا رہا ۔
جب منزل پر پہنچے تو اسے کرایہ دینے کے بعد پوچھا،
" کیا بچی کو رکشا چلانا سکھا رہے ہو ؟
یہ تو اِس کے پڑھنے کے دِن ہیں "
تو اس پر رکشہ ڈرائیور نے اپنے داھنے بازو سے کپڑا اٹھایا،
" صاحب یہ میرا داہنا ہاتھ ہے "وہ بولا ،میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی ،کندھے سے چار انچ نیچے اُس کا بازو غائب تھا ،
"میں اک بازو سے معذور ہوں اس لیے ہم دونوں مل کر رکشہ چلاتے ہیں مجھے یہ گوارا نہیں کہ میری بیٹی کسی کے گھر میں صفائی کرے اور میں بھکاری بنوں بچی کو تعلیم بھی دلوا رہا ہوں اور گھر کا نظام بھی چل رہا ہے اور خدا کی ذات کا شکر ادا کرتا ہوں خوش باش زندگی بسر کر رہا ہوں "

 میں باپ بیٹی کی ہمت پر حیران رہ گیا اور میرے دل میں خوشی کا احساس پیدا ہوا ، ذہن میں سوچ آئی ، باہمت اور خودار انسان ہے، ہم صحت مند ہونے کے باوجود خدا کی ذات کا شکر ادا نہیں کرتے جتنا یہ دائیں ہاتھ سے معذور انسان کر رہا ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔