میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 5 مارچ، 2017

غزواتِ ھند ۔ دوئم تا اٹهاره


خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد 874ء میں ماوراء النہر میں دولت سامانیہ کی حکومت قائم ہوئی۔ اپنے مورث اعلیٰ اسد بن سامان کے نام پر یہ خاندان سامانی کہلاتا ہے ۔ نصر بن احمد بن اسد سامانیوں کی آزاد حکومت کا پہلا حکمران تھا۔ ماوراء النہر کے علاوہ موجودہ افغانستان اور خراسان بھی اس کی حکومت میں شامل تھے۔ اس کا دارالحکومت بخارا تھا۔ سامانیوں نے 1005ء تک (یعنی کل 134 سال) حکومت کی۔ اس عرصے میں ان کے دس حکمران ہوئے۔


عربستان سے افغانستان اور ھندوستان کی آزادی ۔

دولت غزنویہ
جب سامانی حکومت کمزور ہوگئی اور اس کے مختلف گورنروں نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ بخارا اور سمرقند پر کاشغر کے بادشاہ ایلک خان نے قبضہ کرکے سامانی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ ان میں ایک صوبہ دار سبکتگین (976ء  تا 997ء) نے افغانستان کے دار الحکومت کابل کے جنوب میں واقع شہر غزنی میں 976ء میں ایک آزاد حکومت قائم کی جو تاریخ میں دولت غزنویہ اور آل سبکتگین کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بعد میں سبکتگین کا خراسان پر بھی قبضہ ہوگیا۔ اسی سبکتگین کے زمانے میں مسلمان پہلی مرتبہ درہ خیبر کے راستے ھندوستان میں داخل ہوئے ۔

غزواتِ ھند-  دوئم تا  اٹهاره
سلطنت غزنویہ 976ء سے 1186ء تک قائم ایک حکومت تھی جس کا دار الحکومت افغانستان کا شہر غزنی تھا۔ اس کا سب سے مشہور حکمران محمود غزنوی تھا ۔
361 ہجری (971) تا 421 ہجری (1030) حیات رہا ۔ سومنات گجرات (کاٹھیاواڑ) کے ساحلی شہر میں واقع ہے ۔ جس کا غزنی سے فضائی فاصلہ 1400 کلو میٹر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور سومنات پر حملہ کرکے بطور بت شکن خود کو تاریخ میں امر کردیا۔ محمود غزنوی اور سومناتھ کے مندر کے بارے میں ایلن برو نے افسانہ گھڑا تھا اور جس کا پروپیگنڈہ قریباً ایک صدی تک ہوتا رہا ۔ نسیم حجازی اور دوسرے قلمی طوائفوں نے اپنی کمائی کے لئے اِس پر خوب جھوٹ کے ردّے چڑھائے ۔
انگریزوں کا ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت اور نفاق ضروری تھا چنانچہ محمودی غزنوی کو ہندو دشمن اور بت شکن قرار دے کر حکمرانی کے مقاصد حاصل کیے گئے ۔

جبکہ اُسی محمود غزنوی کی قلمرو میں بامیان کے بدھوں کے تقریباً تین یا چار منزلہ مجسمے جن میں پہلا مجسمہ 507ء جب کہ دوسرا بڑا مجسمہ 554ء میں مکمل ہوا موجود تھے ۔ جنہیں طالبان نے مارچ 2001 میں ملیامیٹ کیا اور جاپان، سوئٹزرلینڈ اور دوسرے کئی ممالک نے بعد ازاں عالمی سطح پر ان مجسمات کی دوبارہ تعمیر کیا ۔

بامیان کا بدھا

پڑھیں : لنگ (Pinus) پوجا یا لنگم پوجا کیا ہے ؟
http://www.ufaqkaypaar.com/2015/04/blog-post_5.html
مزید معلومات کے لئے ، تصویر پر کلک کریں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔