میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 23 اپریل، 2017

نواز شریف ، مورس مائنر اور 1964


1964 میں ایسی رولزرائز صرف فوج کے کرنیلوں یا کچھ میجروں کے پاس ہوتی تھیں - جو امریکہ یا برطانیہ سے کورس کر کے آتے تھے یا جن کے والد برطانوی فوج میں تھے تو ورثے میں یا جہیز میں کار مل جاتی تھی ، فیاٹ یا منی مورس -
شیور لیٹ ، امپالا صرف صنعت کاروں ، اداکاروں اور وڈیروں یا سرداروں کے پاس ہوتی تھی ۔

باقی سب کپتان ، میجر یہاں تک کرنل بھی سائیکل یا پیدل لیفٹ رائیٹ کرتے ہوئے آفس جایا کرتے تھے-

بازار جانے کے لئے ، سپلائی والوں کا ٹانگہ ایک ایک پیسہ فی سواری یا سالم ٹانگہ ایک آنے پر کرائے میں ملتا تھا ۔
اُس وقت راولپنڈی بازار میں جاتے لوگ حسرت سے دیکھتے تھے ، کہ فوجیوں کی کتنی عیاشی ہے!
سائیکل کی قیمت 60 روپے اور ویسپا سکوٹر 1200 روپے میں نیا آتا تھا ۔
کپتان تو کیا میجر بھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔